سپریم کورٹ آزاد جموں و کشمیر نے پاکستان تحریک انصاف کی عبوری رجسٹریشن سے متعلق آزاد کشمیر ہائیکورٹ کا 23 جون کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کی اپیل پر فل بینچ تشکیل دے دیا ہے۔
چیف جسٹس جسٹس راجہ سعید اکرم خان نے ابتدائی سماعت کے دوران الیکشن کمیشن کی درخواست پر ہائیکورٹ کے فیصلے کو معطل کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 2 جولائی 2026 تک ملتوی کر دی۔
سماعت کے دوران الیکشن کمیشن نے مؤقف اختیار کیا کہ ہائیکورٹ نے درخواست میں استدعا سے بڑھ کر ریلیف فراہم کیا، اس لیے اس فیصلے کو کالعدم قرار دیا جانا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی آزاد کشمیر اختلافات کا شکار، پارلیمانی بورڈ کے معاملے پر ایک گروپ کا بیرسٹر گوہر کے گھر کے باہر احتجاج
دوسری جانب پی ٹی آئی نے ہائیکورٹ کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے اسے قانون کے مطابق قرار دیا۔
واضح رہے کہ آزاد کشمیر ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں الیکشن کمیشن کو پی ٹی آئی کو رجسٹر کرنے کا حکم دیا تھا، تاہم الیکشن کمیشن نے اس فیصلے کو سپریم کورٹ آزاد جموں و کشمیر میں چیلنج کر دیا تھا۔
مزید پڑھیں: آپ کھڑے نہیں ہوتے تو لوگ خود کھڑے ہو جائیں گے، علیمہ خان پی ٹی آئی آزاد کشمیر کے صدر پر برہم
سپریم کورٹ کی جانب سے ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کیے جانے کے بعد فی الحال پی ٹی آئی کو انتخابی نشان ’بلا‘ حاصل نہیں ہوگا۔
یاد رہے کہ آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات 27 جولائی کو ہوں گے اور پی ٹی آئی پہلے ہی اپنے امیدواروں کا اعلان کر چکی ہے۔
تاہم تازہ عدالتی پیش رفت کے بعد، جب تک رجسٹریشن سے متعلق مقدمے کا حتمی فیصلہ نہیں آتا، پارٹی کے امیدواروں کو آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لینا پڑے گا۔














