مصنوعی ذہانت یا اے آئی کی تیزی سے بڑھتی ہوئی صنعت اب عام صارفین کے لیے بھی مالی بوجھ بنتی جا رہی ہے کیونکہ عالمی ٹیکنالوجی کمپنیاں کمپیوٹرز، لیپ ٹاپس، گیمنگ کنسولز اور دیگر الیکٹرانک آلات کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کا اعلان کر رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایپل کے 50 سال، کامیاب ترین 3مصنوعات، تین جو توقعات پر پوری نہ اترسکیں
ایک زمانہ تھا جب پرانی ٹیکنالوجی مصنوعات وقت گزرنے کے ساتھ سستی ہو جاتی تھیں تاہم اب یہ رجحان الٹتا دکھائی دے رہا ہے۔ ایپل، مائیکروسافٹ، نینٹینڈو اور دیگر بڑی کمپنیاں کئی سال پرانی مصنوعات کی قیمتیں بھی بڑھا رہی ہیں۔
ایپل نے حال ہی میں اپنے بعض لیپ ٹاپس اور ٹیبلٹس کی قیمتوں میں تقریباً 20 فیصد تک اضافہ کیا جبکہ مائیکروسافٹ نے اپنے 5 سال پرانے ایکس باکس سیریز ایس اور ایکس کنسولز کی قیمتوں میں کم از کم 100 ڈالر اضافے کا اعلان کیا ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران ایکس باکس کنسولز کی قیمتوں میں مجموعی طور پر 30 سے 40 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے۔
دوسری جانب نینٹینڈو نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ ستمبر سے عالمی سطح پر اپنے سوئچ 2 کنسول کی قیمت بڑھائے گا، جبکہ گیمنگ کمپنی ویلو نے بھی کمپوننٹس کی بڑھتی قیمتوں کے باعث اپنی مصنوعات مہنگی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
مصنوعی ذہانت کو ذمہ دار کیوں ٹھہرایا جا رہا ہے؟
ٹیکنالوجی کمپنیوں کے مطابق قیمتوں میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بے پناہ سرمایہ کاری ہے جس نے کمپیوٹر چپس اور میموری کی عالمی طلب کو غیر معمولی حد تک بڑھا دیا ہے۔
مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کو چلانے کے لیے دنیا بھر میں بڑے بڑے ڈیٹا سینٹرز تعمیر کیے جا رہے ہیں جنہیں اربوں ڈالر مالیت کے جدید پروسیسرز اور میموری چپس درکار ہیں۔ یہی چپس اور میموری عام صارفین کے موبائل فونز، لیپ ٹاپس، کمپیوٹرز اور گیمنگ کنسولز میں بھی استعمال ہوتی ہیں۔
مزید پڑھیے: ڈاکٹرصحت سے متعلق الیکٹرانک مصنوعات سے خائف کیوں؟
ماہرین کے مطابق رینڈم ایکسس میموری (ریم) کی قیمتوں میں حالیہ برسوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ بعض جدید ڈی ڈی آر 5 میموری ماڈیولز کی قیمتیں صرف 6 ماہ کے دوران 122 فیصد تک بڑھ گئی ہیں۔
تحقیقی ادارے کاؤنٹر پوائنٹ ریسرچ کے مطابق بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اور مصنوعی ذہانت کی فرمیں بھاری قیمت ادا کرکے طویل المدتی سپلائی معاہدے حاصل کر رہی ہیں جس کے باعث عام صارفین کے لیے استعمال ہونے والے آلات کے اجزا مزید مہنگے ہو رہے ہیں۔
جغرافیائی کشیدگی بھی سبب بن رہی ہے
ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے علاوہ عالمی افراطِ زر، مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں تجارتی خدشات نے بھی چپس اور الیکٹرانک آلات کی قیمتوں میں اضافے کو مزید بڑھا دیا ہے۔
سرمایہ کاری فرم اے جے بیل کی تجزیہ کار ڈینی ہیوسن کے مطابق عالمی سپلائی چین پر دباؤ اور جغرافیائی عدم استحکام کے باعث کئی مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان موجود ہے۔
کیا قیمتیں مستقبل میں کم ہو سکیں گی؟
ماہرین کے مطابق میموری اور چپس کی موجودہ قلت کا بحران آئندہ دو سال تک جاری رہ سکتا ہے۔ اس دوران مصنوعی ذہانت کی صنعت میں مزید سرمایہ کاری متوقع ہے جس کے باعث کمپیوٹرز، اسمارٹ فونز، گیمنگ کنسولز اور دیگر ٹیکنالوجی مصنوعات کی قیمتیں بلند رہنے یا مزید بڑھنے کا امکان موجود ہے۔
مزید پڑھیں: بیجنگ ٹیکنالوجی کی جنگ میں واشنگٹن کے لیے کیا مشکلات کھڑی کرسکتا ہے؟
اگرچہ مصنوعی ذہانت کے فروغ سے بعض چپ ساز کمپنیاں ریکارڈ منافع کما رہی ہیں تاہم اس کا مالی بوجھ بالآخر عام صارفین کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے جو اب پہلے سے کہیں زیادہ مہنگی ٹیکنالوجی خریدنے پر مجبور ہیں۔














