سوڈان میں اجتماعی قتل، اجتماعی زیادتیاں اور بھوک کو ہتھیار بنانے کے اقدامات نسل کشی کے مترادف قرار

جمعرات 9 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

اقوام متحدہ کے فیکٹ فائنڈنگ مشن نے سوڈان میں نیم فوجی ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) پر شمالی دارفور کے شہر الفاشر میں اجتماعی قتل، خواتین اور بچیوں کے اغوا، اجتماعی جنسی زیادتی اور شہریوں کو دانستہ بھوک کا شکار بنانے جیسے سنگین جرائم کا ارتکاب کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کیے گئے اور نسل کشی کے زمرے میں آتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے فیکٹ فائنڈنگ مشن نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ سوڈان کی نیم فوجی ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) اور اس کے اتحادی گروہوں نے شمالی دارفور کے شہر الفاشر پر طویل محاصرے اور قبضے کے دوران ایسے سنگین جرائم کا ارتکاب کیا جو نسل کشی کے مترادف ہیں۔

رپورٹ کے مطابق آر ایس ایف نے شہریوں کے اجتماعی قتل، خواتین اور کم عمر بچیوں کے اغوا، اجتماعی جنسی زیادتی، شہری آبادی کو جان بوجھ کر بھوک کا شکار بنانے اور انسانی امداد کی فراہمی روکنے جیسے اقدامات منظم پالیسی کے تحت کیے۔

تحقیقاتی مشن نے بتایا کہ متاثرہ خواتین نے بیان دیا کہ ان کے ساتھ ایسے کمروں میں زیادتی کی گئی جہاں ان کے اہل خانہ سمیت حال ہی میں قتل کیے گئے افراد کی لاشیں موجود تھیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آر ایس ایف اور اس کے اتحادیوں نے الفاشر کا طویل محاصرہ کر کے خوراک اور امدادی سامان کی رسائی روک دی، جبکہ خوراک پیدا کرنے والے نظام اور تنصیبات پر بھی گولہ باری کی گئی، جس سے بھوک کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا، جو جنگی جرم ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان کی سوڈان کو اسلحہ فراہمی کا معاہدہ روکنے کی خبر، رائٹرز کی رپورٹنگ پر سوالات اٹھ گئے

دوسری جانب آر ایس ایف نے ان تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ دعوے اس کے مخالفین نے گھڑے ہیں، جبکہ اس نے سوڈانی فوج پر بھی جوابی الزامات عائد کیے ہیں۔

ادھر اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے خبردار کیا ہے کہ شمالی کردفان کے دارالحکومت العبید میں بھی اسی نوعیت کا انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے۔ ان کے مطابق علاقے میں ماورائے عدالت ہلاکتوں، اغوا، تشدد اور جنسی تشدد کے واقعات کے شواہد سامنے آئے ہیں۔

برطانیہ سمیت متعدد ممالک پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ العبید کے گرد آر ایس ایف کی بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیوں کے باعث بڑے پیمانے پر مظالم کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے، جبکہ شہر میں تقریباً 5 لاکھ افراد، جن میں 83 ہزار سے زائد بے گھر افراد بھی شامل ہیں، موجود ہیں۔

یاد رہے کہ اقوام متحدہ کے تحقیقاتی مشن نے فروری میں جاری اپنی سابقہ رپورٹ میں بھی الفاشر میں غیر عرب آبادی کے خلاف بڑے پیمانے پر قتل عام کو نسل کشی سے مشابہ قرار دیا تھا، جبکہ نئی رپورٹ میں مزید شواہد پیش کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اجتماعی قتل، اجتماعی زیادتی اور شہریوں کو بھوکا رکھنے کی کارروائیاں ایک منظم اور دانستہ حکمت عملی کا حصہ تھیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وزیر داخلہ محسن نقوی کا کراچی پاسپورٹ آفس اور ایئرپورٹ کا دورہ، سہولیات میں اضافے کا اعلان

افریقہ کی منڈیوں میں داخلے کا سنہری موقع، یوگنڈا کی پاکستان کو 25 سال تک ٹیکس چھوٹ سرمایہ کاری کی پیشکش

صومالی قزاقوں کو تاوان ادا نہیں کریں گے، پاکستان عالمی قوانین کا پابند ہے، اسحاق ڈار

ملک کے مختلف علاقوں میں 30 اگست سے 4 ستمبر تک بارشوں کی پیشگوئی، الرٹ جاری

وزیراعظم آزاد کشمیر افتخار گیلانی کا بند راستے کھولنے اور انٹرنیٹ سروس کی بحالی کا اعلان، گرین بس سروس کا افتتاح کردیا

ویڈیو

زینب اور فاطمہ کو بی ایل اے نے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا، وزیر داخلہ بلوچستان ضیا لانگو کی متاثرہ خواتین کے ہمراہ پریس کانفرنس

میڈیا طلبہ کی عملی تربیت، وی نیوز میں انٹرن شپ مکمل ہونے پر تقریب

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں