آذربائیجان کی 63 سالہ خاتون نے تقریباً 38 سال کے طویل انتظار کے بعد اپنے پہلے بچے کو جنم دے دیا جسے جدید تولیدی طب (Reproductive Medicine) کی ایک غیر معمولی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق خاتون نے برسوں تک قدرتی طور پر حاملہ ہونے کی کوشش کی، تاہم کامیابی نہ ملنے پر انہوں نے معاون تولیدی ٹیکنالوجی (Assisted Reproductive Technology – ART) کے ذریعے علاج کروایا، جس کے نتیجے میں وہ پہلی بار ماں بننے میں کامیاب ہوئیں۔
A 63-year-old woman in Azerbaijan has welcomed her first child after nearly 38 years of waiting to become a mother. pic.twitter.com/HLx4QaZQ6x
— Cool_Ustaaz ☪ (@Cool_Ustaz) July 16, 2026
معالجین کے مطابق 63 برس کی عمر میں حمل کو طبی اعتبار سے انتہائی حساس تصور کیا جاتا ہے اس لیے خاتون کے حمل کی ابتدا سے ہی مسلسل نگرانی کی گئی۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ اس عمر میں حمل کے دوران ہائی بلڈ پریشر، حمل کے دوران ذیابیطس، قبل از وقت پیدائش اور سیزیرین آپریشن جیسے خطرات بڑھ جاتے ہیں تاہم مکمل طبی نگرانی کی بدولت ماں اور بچے دونوں کی صحت تسلی بخش رہی۔
طبی ٹیم نے اس کامیاب ولادت کو اپنے ادارے کی نمایاں کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ زرخیزی کے ماہرین، ماہر امراضِ نسواں، نرسنگ اسٹاف اور نومولود بچوں کے ماہرین کی مشترکہ کوششوں سے یہ ممکن ہو سکا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ 60 سال سے زائد عمر میں حمل انتہائی نایاب ہوتا ہے تاہم جدید طبی سہولیات اور محتاط طبی منصوبہ بندی کے ذریعے بعض منتخب مریضوں میں کامیاب نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: باپ کی جگہ نوکری حاصل کرنے کی خواہش، بیٹی نے رشتہ داروں کے ساتھ مل کر ماں کی جان لے لی
اس خبر کے سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر دنیا بھر سے لوگوں نے خاتون کو مبارکباد دی اور ان کے عزم و حوصلے کو سراہا۔ متعدد صارفین نے اسے بانجھ پن کے شکار جوڑوں کے لیے امید کی علامت قرار دیا جبکہ دیگر نے اسے تولیدی طب میں ہونے والی جدید پیش رفت کا عملی مظہر قرار دیا۔
دوسری جانب طبی ماہرین نے واضح کیا ہے کہ اس نوعیت کے واقعات انتہائی غیر معمولی ہوتے ہیں اور انہیں معمول کی طبی مشق نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق زیادہ عمر میں علاج کا فیصلہ مریض کی مجموعی صحت، طبی خطرات اور دیگر انفرادی عوامل کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد ہی کیا جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ نہ صرف جدید طبی سائنس کی ترقی کو ظاہر کرتا ہے بلکہ ان خاندانوں کے لیے بھی امید کا پیغام ہے جو طویل عرصے سے اولاد کی خواہش رکھتے ہیں۔













