امریکا میں خسرہ (میزلز) کے کیسز کی تعداد گزشتہ 35 برس کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے جبکہ رواں سال اب تک رپورٹ ہونے والے کیسز گزشتہ سال کے مجموعی ریکارڈ سے بھی تجاوز کر چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش میں خسرہ وبا کی سنگین صورتحال، ہلاکتیں 600 سے متجاوز
نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق امریکی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (سی ڈی سی) کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق 2026 میں اب تک 2,318 سے زائد خسرہ کے کیسز سامنے آ چکے ہیں حالانکہ سال ختم ہونے میں ابھی 5 ماہ سے زیادہ کا عرصہ باقی ہے۔
90 فیصد سے زائد مریض غیر ویکسین شدہ
صحت حکام کے مطابق خسرہ کے 90 فیصد سے زیادہ کیسز ایسے افراد میں رپورٹ ہوئے ہیں جنہوں نے ویکسین نہیں لگوائی تھی یا جن کی ویکسینیشن کی صورتحال معلوم نہیں۔
مزید پڑھیے: امریکا میں خسرہ کے کیسز میں خطرناک اضافہ، 2 دہائیوں بعد ریکارڈ تعداد رپورٹ
امریکن اکیڈمی آف پیڈیاٹرکس کے صدر ڈاکٹر اینڈریو ریسین کا کہنا ہے کہ یہ بنیادی طور پر صحت عامہ کی ناکامی ہے، حالانکہ اس سے بچا جا سکتا تھا۔
پرانے اور نئے دونوں وبائی سلسلے جاری
حکام کے مطابق سنہ 2025 میں شروع ہونے والی خسرہ کی متعدد وبائیں اب بھی جاری ہیں جبکہ رواں سال درجنوں نئے وبائی سلسلے بھی سامنے آئے ہیں۔
ریاست ساؤتھ کیرولائنا میں سب سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے جہاں گزشتہ سال اکتوبر میں شروع ہونے والی وبا تقریباً ایک ہزار افراد کو متاثر کرنے کے بعد اپریل میں ختم ہوئی۔
ویکسینیشن کی شرح پر تشویش
ماہرین کا کہنا ہے کہ خسرہ کے بڑھتے ہوئے کیسز نے امریکا میں ویکسینیشن کی کم ہوتی شرح اور صحت عامہ کے نظام پر بڑھتے دباؤ کے حوالے سے نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔
مزید پڑھیں: گزشتہ برس دنیا بھر میں خسرہ سے ہونے والی اموات میں 40 فیصد اضافہ ہوا، رپورٹ
صحت حکام متاثرہ افراد سے رابطوں کا سراغ لگانے (کانٹیکٹ ٹریسنگ) کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ بیماری کے مزید پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
25 برس کے مجموعی کیسز سے بھی زیادہ
امریکا نے سنہ 2000 میں خسرہ کے مقامی خاتمے کا اعلان کیا تھا تاہم سی این این کے مطابق گزشتہ 18 ماہ کے دوران رپورٹ ہونے والے کیسز کی تعداد گزشتہ 25 برس کے مجموعی کیسز سے بھی زیادہ ہو چکی ہے جو ماہرین کے لیے تشویش کا باعث بن گئی ہے۔













