کشمیر انتخابات: تصویر کا ایک رخ یہ بھی ہے

منگل 21 جولائی 2026
author image

آصف محمود

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آزاد کشمیر میں الیکشن سر پر کھڑے ہیں لیکن معاملہ یہ ہے کہ کشمیر کے سیاستدان پیچھے رہ گئے ہیں اور معاشرہ آگے بڑھ گیا ہے۔ جب سیاستدان اور سیاست پیچھے رہ جائے اور سماج آگے بڑھ جائے تو بیچ میں ایک خلا پیدا ہوتا ہے۔ سیاست میں ارتقا کا عمل جاری رہے تو یہ خلا فطری سے بھر جاتا ہے لیکن اگر ارتقا کا  یہ عمل رک جائے تو حادثے جنم لیتے ہیں۔

سیاست رومان سے چلتی ہے۔ سیاست دان کے پاس اتنا زاد راہ ضرور ہونا چاہیے کہ عوام کو خود سے جوڑے رکھے۔ کشمیر کے اہل سیاست کو سوچنا چاہیے کہ کشمیر کی سیاست میں کیا کوئی ایسا نعرہ، کوئی ایسی امید، کوئی ایسا خواب، کوئی ایسا رومان باقی ہے؟  باقی ہے تو کس شکل میں؟ اور باقی نہیں تو کیوں نہیں؟

سیاست کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ وہ جب عوام سے دور ہو جائے گی، سیاست جب صرف اقتدار کی غلام گردشوں کے چکر لگانے کا اور مفادات کے تعاقب کا نام ہو جائے گا، تو عوام اس سے لاتعلق ہو جائے گی۔ جب عوام سیاست سے لاتعلق ہو جاتے ہیں تو سیاست اور سیاسی عمل نامعتبر ہو جاتا ہے۔ جب سیاست صرف جوڑ توڑ اور موقع پرستی کا نام رہ جائے تو معاشرہ اس پر اپنا بھروسا کھو دیتا ہے۔

سیاست کے لیے ضروری ہے کہ عوام میں اس کا کوئی رومان باقی رہے۔ اس وقت کشمیر کی سیاست کا کوئی رومان باقی ہے تو بتائیے۔ پیپلز پارٹی ہے، نون لیگ ہے، تحریک انصاف ہے، اگرچہ تحریک انصاف اس انتخابی عمل  کا حصہ نہیں ہے لیکن سیاسی عمل میں موجود ہے، تو رومان کون سا ہے؟ تحریک انصاف کے دامن میں نفرت  بھرے پوسٹ ٹروتھ کے سوا کچھ نہیں ہے اور باقیوں کے ناموں میں تو نعرے بھی نہیں رہے۔ تو عام آدمی سیاسی جماعتوں کے ساتھ کس بنیاد پر جڑے گا؟

وقت بدل رہا ہے۔ روایتی سیاست کا ڈھانچہ تبدیل ہو رہا ہے۔ یورپ میں جس طریقے سے انڈسٹریلائزیشن نے معاشرے کو بدلا تھا، پاکستان میں سوشل میڈیا نے اس سے زیادہ تیزی کے ساتھ معاشرے کی ساخت کو بدل دیا ہے۔ برادری اور دھڑے بندی کی سیاست پیچھے رہ گئی ہے۔ ہر فرد اپنے فیصلے میں آزاد ہے۔ ایک ڈیجیٹل انڈویجولزم اس وقت معاشرے کو اپنی گرفت میں لے چکا ہے۔ اس میں نوجوان سوچ رہے ہیں، سوال اٹھا رہے ہیں، مشتعل ہو رہے ہیں، ان کی ہتھیلی پر کچھ سوالات رکھے ہیں، اور ان کا سوال سنے بغیر، ان کے سوال کا جواب دیے بغیر، جمہوریت اور جمہوری عمل معتبر نہیں ہو سکتا۔

سوال یہ ہے کہ اب آگے کیا کیا جائے؟

سمجھنے کی بات یہ ہے کہ کشمیر ایکشن کمیٹی ہو یا اس کی کوئی مزید انتہائی شکل ہو، یہ نہ مسائل حل کر سکتے ہیں نہ ان کے ذریعے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ یہ کتھارسس کے کام آ سکتے ہیں، وقتی جذبات اور ہیجان کی آسودگی بھی بن سکتے ہیں۔ لیکن معاملات سیاسی اور جمہوری طریقے سے ہی حل ہوتے ہیں۔

اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ایک جمہوری بندوبست کے اندر رہتے ہوئے وہ اپنے مسائل کے حل کے لیے کوئی سا بھی اور راستہ اختیار کر لے جس کا تعلق مروجہ سیاست سے نہ ہو، تو اس میں شاید کسی وقت کہیں پر کوئی جزوی کامیابی تو مل جائے لیکن مستقل بنیادوں پر نہ کامیابی مل سکتی ہے نہ یہ راستے کسی کامیابی کی ضمانت بن سکتے ہیں۔ یہ راستے صرف افراتفری اور تخریب کی طرف لے جاتے ہیں۔

راستہ ایک ہی ہے، اور وہ ہے جمہوری جدوجہد۔  جمہوریت کے ذریعے، الیکشن کے ذریعے اقتدار میں آنا۔  آپ کا جو بھی نظامِ حیات ہے، جو بھی تعبیرِ حیات ہے، الیکشن میں حصہ لیں اور جیت کر  اسے لاگو کر دیں ۔ الیکشن کا حصہ بنے بغیر شہروں کو بند کر کے، نظام زندگی معطل کر کے،  سڑکوں پر آ کر بیٹھ جانا اور سمجھنا کہ اس طریقے سے ہم مطالبات منوا لیں گے، یہ خام خیالی ہے، بالخصوص اس وقت جب آپ کے مطالبات میں سے بعض کا تعلق خالصتاً آئینی ترامیم کے ساتھ ہو۔ یہ ترامیم ظاہر ہے سڑکوں پر بیٹھ کر تو نہیں ہوتیں۔ یہ ترامیم جمہوری عمل کا حصہ بن کر، اسمبلی میں جا کر، آئین میں ترمیم کے ذریعے ہی ہو سکتی ہیں۔

جمہوریت کا معاملہ یہ ہے کہ وہ اپنی تمام تر خامیوں کے باوجود دستیاب آپشنز میں سے بہترین آپشن ہے۔ اس کا فی الوقت کوئی متبادل دستیاب نہیں ہے۔ اگر ایک گروہ آج سڑکوں پر بیٹھ کر مطالبات پیش کر کے یہ چاہتا ہے کہ اس کے سارے مطالبات مان لیے جائیں تو کل کو دوسرا گروہ آئے گا، پرسوں تیسرا گروہ آئے گا، پھر یہ سلسلہ چل نکلے گا اور  انارکی پیدا ہوگی۔ اسی لیے راستہ جمہوری ہی ہے۔

دوسری اہم بات یہ ہے کہ جو سڑکوں پر آتے ہیں اور احتجاج کرتے ہیں، وہ بھی اپنا مطالبہ حکومتوں کے سامنے ہی رکھتے ہیں۔ تو اگر وہ اپنے نعرے کے حوالے سے، اپنے خیالات کے حوالے سے اتنے ہی پرامید ہیں کہ عوامی مقبولیت ان کے ساتھ ہے، تو پھر یہ بھی ایک بہتر راستہ ہو سکتا ہے کہ الیکشن میں حصہ لے کر خود حکومت بنا لی جائے اور اپنے اس سارے فلسفۂ حیات کو اقتدار کے ذریعے لاگو کر لیا جائے۔ یا پھر کسی ایسی سیاسی جماعت کی حمایت کر لی جائے جو ان مطالبات کے بارے میں نرم گوشہ رکھتی ہو۔

احتجاج جمہوری عمل پر اثر انداز ہونے کا نام ہوتا ہے لیکن احتجاج کسی جمہوری عمل کا متبادل نہیں ہو سکتا۔

الیکشن میں بلاشبہ بہت سارے مسائل ہوتے ہیں۔ الیکشن کی شفافیت تو ہمارے ہاں ہمیشہ سے ایک سنگین مسئلہ رہا ہے، لیکن اس کا حل بھی جمہوری عمل کا حصہ بن کر ہی نکالا جا سکتا ہے، سڑکوں پر بیٹھ کر نہیں۔

 اسی لیے کہا جاتا ہے کہ جمہوریت کا علاج مزید جمہوریت ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آصف محمود انگریزی ادب اور قانون کے طالب علم ہیں۔ پیشے سے وکیل ہیں اور قانون پڑھاتے بھی ہیں۔ انٹر نیشنل لا، بین الاقوامی امور، سیاست اور سماج پر ان کی متعدد کتب شائع ہوچکی ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پی آئی اے اور ایئر فرانس کا اشتراک، ایک ہی ٹکٹ پر یورپ کے 21 شہروں کا سفر ممکن

راول ڈیم صفائی مہم، 200 سے زیادہ رضاکاروں کی شرکت، 2 ٹن کچرا اٹھا لیا

پاکستان میں مذہبی آزادی اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے ’آئی آر ایف پیس بلڈر فورم‘ اگست میں شروع ہوگا

جماعت اسلامی پاکستان کے سیکریٹری جنرل امیر العظیم انتقال کر گئے

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل تیسرے روز اضافہ، پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کردیا گیا

ویڈیو

اسحاق ڈار کی فلپائن میں سری لنکا اور مصر کے وزرائے خارجہ سے اہم ملاقاتیں

پاکستان نے ہاتھ کھڑے کردیے، ایران کو الٹی میٹم، کاکروچ جنتا پارٹی احتجاج سے مودی پریشان، نواز شریف کی انوکھی خواہش

بھارت میں طلبا احتجاج نہیں، ہندتوا فاشسٹ سوچ کے خلاف بغاوت ہوئی ہے، سابق سینیٹر مشاہد حسین سید

کالم / تجزیہ

مزید عدالتیں یا بہتر انصاف؟

فلم تھری ایڈیٹس کے حقیقی رانچھو کی اصل جنگ

ورلڈ کپ ختم ہوا، کہانی نہیں