سعودی عرب نے وژن 2030 کے تحت گزشتہ ایک دہائی میں معاشی، سماجی اور ترقیاتی شعبوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ سالانہ رپورٹ کے مطابق نجی شعبے میں سعودی شہریوں کی تعداد 17 لاکھ سے بڑھ کر 26 لاکھ ہو گئی، جبکہ بے روزگاری کی شرح 12.3 فیصد سے کم ہو کر 7.2 فیصد رہ گئی۔ خواتین کی لیبر فورس میں شرکت 35 فیصد تک پہنچ گئی اور درمیانی و اعلیٰ انتظامی عہدوں پر ان کا تناسب 43.9 فیصد ہو گیا۔
مزید پڑھیں:نیشنل پارکس کو سیاحتی مراکز بنانے کا منصوبہ، سعودی عرب نے 7 نئے سرمایہ کاری مواقع متعارف کرا دیے
رپورٹ کے مطابق گھروں کی ملکیت کی شرح 66.24 فیصد تک پہنچ گئی، اوسط عمر 79.7 سال ہو گئی، جبکہ 97.5 فیصد آبادی کو صحت کی سہولتیں میسر ہیں۔ کھیل، سیاحت اور تفریح کے شعبوں میں بھی نمایاں ترقی ہوئی، جہاں 2034 فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی، ای اسپورٹس ورلڈ کپ، نئے تھیم پارکس اور عالمی سیاحتی منصوبے مملکت کی بڑھتی ہوئی عالمی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں:پاکستانی کمپنیوں کی سعودی عرب میں سرمایہ کاری، 12 ایم او یوز پر دستخط
سعودی حکام کے مطابق ویژن 2030 کا مقصد معیشت میں تنوع پیدا کرنے کے ساتھ شہریوں کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانا، روزگار کے مواقع بڑھانا اور مملکت کو عالمی سرمایہ کاری، سیاحت اور کھیلوں کا اہم مرکز بنانا ہے۔














