کیا آپ کو معلوم ہے کہ پاکستان میں ایک ٹرین ایسی بھی ’چلتی‘ ہے جو 125 کلومیٹر کا فاصلہ 25 گھنٹے میں طے کرتی ہے؟ سونے پر سہاگہ یہ ہے کہ یہ گاڑی ہر 15 دن بعد ایسا چکر لگاتی ہے!۔
اس ٹرین کو ’راجا جی ریل‘ کہتے ہیں اور یہ میرپور خاص سے نوابشاہ کے درمیان چھوٹی پٹڑی یا میٹر گیج پر سفر کرتی ہے جبکہ اس میں بیٹھنے والے پندرھواڑے مسافر انگریزی میں سفر(suffer) کرتے ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ میٹر گیج پر واقع تمام اسٹیشن بند رہتے ہیں اور صرف اس دن کھلتے ہیں، جس دن ٹرین آنا ہوتی ہے، باقی دنوں میں ان اسٹیشنوں کا عملہ کیا کرتا ہے؟۔
یہ راز کی بات ہے مگر اس راز پر سے پردہ اٹھانے والوں کی کمی نہیں ہے، جن کا کہنا ہے کہ میٹر گیج پر واقع ریلوے اسٹیشنوں کے عملے نے خالی دنوں میں متوازی روزگار شروع کردیا ہے۔ کسی نے دکان کھول لی ہے تو کوئی پان سگریٹ کا کھوکھا کھول کر بیٹھ گیا ہے۔ جس دن ٹرین کی آمد متوقع ہو، اس دن گھر سے یونیفارم زیب تن کرکے وہ اسٹیشن پر آکر بابو بن جاتے ہیں، جن کا کام سگنل دینا ،ریل گاڑی کو خیر خیریت سے گزارنا اور لائن کلیئر دینا ہوتا ہے۔
راجا جی ریل اصل میں کالے انجن والی قدیم گاڑیوں کا سلسلہ ہے جو اَب بھی فرنیس آئل پر چلتی ہیں اور ان کی پٹری عام ریلوے لائن،ٹریک کے مقابلے میں کم چوڑی ہوتی ہے۔ یہ ریل اس وقت میرپور خاص تا نوابشاہ مہینے میں دو مرتبہ یعنی یکم اور 15 تاریخ کو چلتی ہے۔ یہ 128 کلومیٹر کا فاصلہ 25 گھنٹے میں طے کرتی ہے۔ اس ٹریک پر 55 کلومیٹر فی گھنٹہ حد رفتار مقرر ہے، اس طرح یہ فاصلہ ڈھائی تین گھنٹے میں طے ہوجانا چاہیے لیکن درمیان میں ٹریک خراب ہونے اور انجن کی اپنی ناگفتہ بہ صورتحال کے باعث تین گھنٹے کے بجائے 25گھنٹے لگ جاتے ہیں۔ اس لائن پر جو اسٹیشن آتے ہیں، ان میں میرپور خاص کے بعد کھانڑں، پاٹویوں، نواآباد، جھول، سنجھورو، کھڈڑو اور جام صاحب ہیں۔
کالے انجن یا لوکو موٹیوز کی دنیا دیکھنے کے لیے میں نے میرپور خاص میں اپنے ایک دوست امداد سراج سے گذارش کی تھی۔ جس نے آگے اپنے دوسرے صحافی دوست ابوبکر کو گزارش کی اور ان کی گاڑی میں بیٹھ کر لوکو شیڈ میرپور خاص پہنچے۔
آج سے 10،11 برس پہلے بھی میں اس لوکوشیڈ میں آیا تھا اور اس وقت ایک ٹرین کھوکھرا پار جانے کے لیے تیار کھڑی تھی، جس پر چڑھ کر میں چند اسٹیشن آگے تک چلا گیا تھا۔ اس سفر سے اس لیے بھی میں نے بہت لطف لیا تھا کہ میں انجن میں ڈرائیور کے ساتھ ہی بیٹھ گیا تھا۔ ڈرائیور بھی بڑا من موجی آدمی تھا، جس کی ریلوے لائن کے دونوں طرف آنے والے دیہات کے لوگوں کے ساتھ بہت اچھی ’پی آر‘ بنی ہوئی تھی۔ ایک گائوں میں اس نے گاڑی روکی تو میں نے اسٹیشن کے آثار ڈھونڈنا شروع کیے لیکن انہوں نے مجھے بتایا کہ یہاں اسٹیشن ہے ہی نہیں ،آپ حیران نہ ہوں، ابھی ایسے بہت سے اسٹاپ آئیں گے۔ بہرطورانہوں نے اس گائوں سے لسی کی گاگر لی، جس میں آدھا پاؤ مکھن بھی پڑا ہوا تھا۔ ان چیزوں کے بدلے ’راجا جی ریل‘ میں چڑھنے والے دیہاتی کو یہ سہولت ملی کہ وہ گھاس، لکڑیاں اور دیگر سامان بلاٹکٹ کھوکھرا پار تک لے جاسکتا تھا۔ اس طرح ڈرائیور اور گارڈ کو کسی گوٹھ سے ساگ ملتا تو کہیں سے انہوں نے اپنی پالتوبکریوں یا بھینس کے لیے گھاس حاصل کی۔
یہ بھی پڑھیں: اُچ شریف کے آثار اور یادیں
اس مرتبہ لوکو شیڈ میں ایسی کوئی ٹرین تیار نہیں تھی، جس پر سیر کے لیے ہم سوار ہوتے۔ ایک جاننے والے سے لوکوشیڈ، خصوصا راجا جی ریل سے متعلق معلومات حاصل کیں جو یہاں کام کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ میرپور خاص سے میٹر گیج کی ٹرینیں 3 مختلف منزلوں کو روانہ ہوتی تھیں مگر اب دو رہ گئی ہیں۔ ایک ٹرین ہر 15 دن بعد نوابشاہ جاتی ہے۔ دوسری میرپور خاص سے کھوکھرا پار جانے والی ٹرین ہے جو ہر پیر والے دن نکلتی تھی، اب بند ہوچکی ہے۔ وہ نوگھنٹے لیتی تھی اور اس روٹ پر جمڑاؤ، شادی پلی، پتھورو، ڈھورونارو اور آخر میں کھوکھرا پار آتا ہے۔تھر ایکسپریس کے بھارت جانے کا سلسلہ 41 سال بعد 2005ء میں دوبارہ شروع ہوا تو میٹر گیج پٹڑی اکھاڑکر براڈ گیج ڈال دی گئی ہے۔ تیسری ٹرین لوپ لائن والی کہلاتی ہے، جس کا روٹ دائرے میں ہے اور یہ میرپور خاص سے نکل کر جھلوری، کوٹ غلام محمد، کاچھیلو، ڈگری، ٹنڈوجان محمد، جھڈو، بنوں کوٹ، نبی سرروڈ، کنری، سامارو، صالح بھنبھرواور پتھورو پر آکر مین لائن میں مل کر شادی پلی اور جمڑاؤ سے ہوتی ہوئی واپس میرپور خاص پہنچتی ہے۔ لوپ لائن کی یہ ٹرین ہر جمعرات کو روانہ ہوتی ہے۔
جب ہم میرپور خاص کے لوکوشیڈ گئے تھے تو ہمیں بتایا گیا کہ اس وقت وہاں کل 9 اسٹیم انجن ہیں، جن میں سے 2 اوور ہالنگ کے لیے مغلپورہ لاہور بھیجے گئے ہیں۔ تمام ریلوے اسٹیشن ٹرین کے آنے پر ہی کھلتے ہیں۔ یہ ریلوے اسٹیشن کسی قسم کے مواصلاتی رابطے سے محروم ہیں، اگر درمیان میں کبھی انجن خراب ہوجاتا ہے تو گارڈ خود اتر کر قریبی اسٹیشن جاتا ہے اور وہاں سے میرپور خاص کو فون پر اطلاع دیتا ہے۔ ریلوے قواعد کے مطابق انجن فیل ہونے پر 45 منٹ کے اندر نیا انجن پہنچانا پڑتا ہے مگر اسٹیم انجن کو چلانے کے قابل بنانے کے لیے یعنی لائٹ اپ کرنے کے لیے بھی 5 گھنٹے لگانے پڑتے ہیں۔
ہر سیکشن پر 3،3 واٹرنگ پوائنٹس بنائے گئے ہیں لیکن کوئی بھی پوائنٹ کام نہیں کررہا ہے۔ اسٹیم انجن پانی کے بغیر نہیں چلتا، اس لیے انجن کے ساتھ واٹر ٹینکرز لگانا پڑتے ہیں۔ یہ ٹرینیں زیادہ ڈبوں یا بوگیوں والی نہیں ہوتی، اس کے باوجود اگر انجن ایک ڈبہ بھی لے جائے تو اسے 3 واٹر ٹینکرز ساتھ لے جانا پڑتے ہیں کیونکہ اسٹیشنوں پر پانی دستیاب نہیں ہے۔
نوابشاہ لائن پر واقع ریلوے اسٹیشن کھڈڑو اور لوپ لائن پر کاچھیلو اسٹیشن پر پانی مل سکتا ہے۔ کھوکھرا پار سیکشن پر صرف چھور میں پانی دستیاب ہوتا ہے۔ اس وقت لوکوشیڈ میں 66ملازمین ہیں، پہلے 77تھے اوریہ ڈاؤن سائزنگ اب بھی جاری ہے جس کے باعث ریلوے ملازمین میں بے چینی پھیلی ہوئی ہے۔
میرپور خاص سے میٹر گیج لائن کے ذریعے پہلے ایک دن میں 15،15 مال گاڑیاں نکلتی تھیں جو مختلف اسٹیشنوں کے لیے مرچ، گندم، پُھٹی اور کھادلاتی لے جاتی تھیں۔ اب تمام گڈز ٹرینیں ختم کردی گئی ہیں۔ آج سے 15 برس پہلے لوکوشیڈ میرپور خاص میں 600 افراد کام کرتے تھے، جہاں اب صرف 66 لوگ کام کھینچ رہے ہیں۔
کھوکھرا پار والی لائن دفاعی لحاظ سے بہت زیادہ اہمیت کی حامل تھی کیوںکہ اس سے اہم ساز وسامان کی نقل وحمل ہوتی تھی لیکن محکمہ نے اس لائن کو مناسب توجہ کے لائق نہیں سمجھا اور بالآخر ختم کردیا۔
میٹر گیج لائن پر چلنے والی ٹرینوں یا اس لائن کے اسٹیشنوں پر بکنگ کلرک یا چیکر نہیں ہوتے۔ ہر ٹرین کے ساتھ ایک اہلکار ہوتا ہے جو گاڑی میں بیٹھے مسافروں سے ان کی منزل پوچھ کر پرچی ٹکٹ یا ای ایف ٹی جاری کرتا ہے ۔اگر موڈ ہوجائے تو وہ اپنی ہی جاری کردہ ٹکٹس خود ہی چیک کرنا شروع کردیتا ہے، اس طرح وہ چیکر کی اضافی ڈیوٹی بھی کرلیتا ہے۔
میرپور خاص کی ریلوے کالونی بھی مسائل کا گڑھ ہے، جہاں کے مکینوں کے مطابق یہاں ہمیشہ پانی اور بجلی کا بحران رہتا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ واپڈا بجلی کے کم یا رعایتی نرخ محکمہ ریلوے سے لیتا ہے لیکن محکمہ ریلوے اپنے غریب ملازمین سے کمرشل ریٹ بمعہ جی ایس ٹی وصول کرتا ہے۔ اس کے علاوہ کالونی میں مصنوعی طور پر لوڈشیڈنگ کرکے دوہرا عذاب نازل کیا جاتاہے۔
ریلوے لوکوشیڈ کے کئی رہائشی کوارٹرز سیل پڑے ہوئے ہیں اور سیکڑوں کو ارٹرز خالی ہیں جو ملازمین کو الاٹ نہیں کئے جاتے ۔
’راجا جی ریل‘ اصل میں جودھپور کے راجا نے شروع کرائی تھی اس لیے اس کا یہ نام پڑگیا ہے۔ پڑھے لکھے لوگ اسے میٹر گیج لائن کہتے ہیں جبکہ گاؤں دیہات کے لوگ اب بھی راجا جی ریل کہتے ہیں۔ اس لائن پر نصب بیشتر سلیپر آج تک تبدیل نہیں ہوئے ہیں، جس کے باعث ٹریک کمزور ہے اور ٹرینوں کی رفتار کم رکھنا پڑتی ہے۔ راجا جودھپور کی مہارانی کا شاہی سیلون (اسپیشل ڈبہ) کچھ عرصہ پہلے تک میرپور خاص شیڈ میں موجود تھا لیکن دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث یہ بھی وہ زبوںحال ہوچکا تھا، جسے بعد میں ریلوے میوزیم گولڑہ شفٹ کردیاگیا۔ اس طرح اب جو حال اب راجائوں اور رجواڑوں کا ہے، وہی حال آپ ’راجا جی ریل‘ کا سمجھ لیں۔
مزید پڑھیے: ہم کیوں لکھتے ہیں؟
شروع شروع میں سندھ کے اندر میٹر گیج ٹرین کا ٹریک تقریباً 517 کلومیٹر طویل تھا جس پر کم چوڑائی والی ریل گاڑیاں دوڑا کرتی تھیں۔ پھر نارمل ٹرین کی کوریج بڑھنے کے ساتھ میٹر گیج پٹڑیوں کا یہ جال کم ہوکر 325 کلومیٹر رہ گیا اوراب وہ بھی کچھ زیادہ استعمال میں نہیں۔ اس ’بے بی ٹرین‘ نیٹ ورک کے تابوت میں آخری کیل اس وقت ٹھوکی گئی، جب کھوکھرا پار موناباؤروٹ پر 2005ء میں تھر ایکسپریس چلنا شروع ہوئی۔ اس کے لیے میرپور خاص تا زیر وپوائنٹ اسٹیشن تک نئی براڈ گیج پٹڑیاں بچھائی گئیں تو روایتی ’راجا جی ریل‘ کے احیا کی امیدیں صحرائے تھر کی گرم ریت میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دفن ہوکر رہ گئی۔
گیج کیا ہے؟
ریلوے کی ’لغت‘ میں لفظ گیج (Gauge) سے مراد پٹڑیوں کا درمیانی فاصلہ ہے۔ پاکستانی ریلوے میں اس طرح کے 3 گیج موجود ہیں۔ پہلی براڈ گیج، جس کی پٹڑیوں میں فاصلہ 5فٹ 6 انچ ہوتا ہے۔ دوسری نیرو گیج، جس کی پٹڑیوں کے مابین فاصلہ 2فٹ 6 انچ ہوتا ہے اور تیسری میٹر گیج ہے اور اس کے ٹریک کا درمیانی فاصلہ 3فٹ 3انچ ہوتا ہے۔
ریلوے لائن کی بنیاد
انگریزوں کے دور میں کراچی بندرگاہ نے 18ویں صدی کے آخر سے کام کرنا شروع کردیا تھا۔ برطانیہ سے انڈیا آنے والے بار برداری کے سامان کے لیے یہ قریب ترین بندرگاہ پڑتی تھی مگر کراچی سے ممبئی تک ریلوے رابطہ موجود نہ تھا، اس لیے کراچی بندرگاہ پراترنے والا سامان پہلے لاہور پہنچانا پڑتا تھا، جہاں سے وہ متحدہ ہندوستان کے دیگر شہروں تک جاتا تھا۔ اگر یہ سامان گجرات، مہاراشٹر اور راجستھان بھیجنا ہوتا تو بھی پہلے سامان شمال میں لاہور بھیجا جاتا، پھر وہاں سے مشرق میں سفر کرتا اور مشرق سے پھر واپس جنوب میں گجرات، مہاراشٹر اور راجستھان پہنچتا۔ دیکھا جائے تو جنوبی بندرگاہ کراچی سے یہ جنوبی ریاستیں کچھ گھنٹوں کے فاصلے پرتھیں مگر ریلوے لنک نہ ہونے کی وجہ سے یہ طویل فاصلے طے کرنا مجبوری تھی۔ اس مجبوری کے خاتمے کے لیے 1890ء میں کراچی چیمبر آف کامرس کے عہدیداروں اور شہر کے معززین نے انگریز سرکار پر دباؤ ڈالا کہ اس علاقے میں بھی حیدرآباد تک ریلوے نیٹ ورک بڑھایا جائے تاکہ سندھ کو راجپوتانہ مالوہ ریلوے نظام سے منسلک کرکے کراچی بندرگاہ کا رکو براہ راست پورے متحدہ ہندوستان تک پہنچایا جاسکے۔ ایسٹ انڈین ریلوے کے ایجنٹ سربریڈفورڈ لیزلی نے تجویز پیش کی کہ کوٹری تا دہلی تک براڈ گیج لائن بچھائی جائے جو براستہ گجرات راجستھان گزاری جائے۔ یہ تجویز برطانوی راج نے قبول نہیں کی البتہ حکومت اس پر راضی ہوگئی کہ حیدرآباد سے آگے ایک چھوٹے قصبے شادی پلی تک پہلے مرحلے میں براڈ گیج لائن بچھائی جائے۔ یہ لائن 18اگست 1892 کوبچھنا شروع ہوئی۔ 1900ء میں برطانوی حکومت نے اس قصبے شادی پلی سے جودھپور تک میٹر گیج پٹڑی بچھادی۔ اس کے کچھ عرصے بعدمہا راجہ جودھپور نے پیشکش کی کہ اگر انہیں اجازت دی جائے تووہ اپنی ریاست جودھپور کے خرچے پر حیدرآباد تک میٹر گیج لائن بچھاکر جودھپور کی میٹر گیج ٹرین کو حیدرآباد تک چلالیں۔ برطانوی حکومت نے یہ قبول کرلیا تو جودھپور ریاست کے مشورے پر شادی پلی تا حیدرآباد والی براڈ گیج کو ہٹاکر 55میل کے اس فاصلے پر بھی میٹر گیج لائن بچھ گئی۔
یہ لائن 20اکتوبر1900ء کو کھول دی گئی، جس پر وہ دیومالائی’راجا جی ریل‘چلنے لگی۔ تب سے اس ریلوے کو ’ جودھپور بیکانیر ریلوے‘ کے نام سے پکارا جانے لگا ۔
اس ریلوے سسٹم کو 1909ء تا 1939ء کے درمیان سندھ کی مختلف سمتوں میں توسیع دے کر میرپور خاص جھڈوسیکشن، پتھوروتا کھڈڑو سیکشن تیار کرکے، انہیں میرپور خاص سے منسلک کیا گیا اور آگے چل کر اسے نوابشاہ سے بھی جوڑ دیا گیا۔
1947ء میں قیام پاکستان کے بعد حیدرآباد تا کھوکھرا پار،میرپور خاص تا نوابشاہ اور پتھورو تا جمڑاؤ سیکشنز پاکستان کے حصے میں آئے اور ان کا نام نارتھ ویسٹرن ریلوے رکھا گیا۔ ان 3 سیکشنز کی طوالت 517کلومیٹر تھی۔
1960ء کے عشرے تک اس میٹر گیج لائن پر باربرداری کے سامان کی ٹرینیں بہت تیزی سے دوڑتی رہتی تھیں۔ ان کم چوڑی ٹرینوں کے ذریعے زیادہ تر کپاس، تازہ سبزیاں اور سرخ مرچ بڑی مقدار میں منتقل کی جاتی تھیں کیونکہ انہی علاقوں میں وہ کنری گاؤں آتا ہے، جسے آج بھی ایشیا کی سب سے بڑی مرچ منڈی کہا جاتا ہے، (کہنے میں کیا حرج ہے؟، ویسے بھی ہمارے پاس جو چیز بھی ہوتی ہے، وہ ایشیا کی’ سب سے بڑی ‘ہوتی ہے !)۔
1965ء میںپاک بھارت جنگ چھڑنے تک، اس میٹر گیج ریلوے لائن پر دونوں ملکوں کے مابین لوگ سفر کرتے تھے۔ جنگ کے بعد یہ یہاں سے سرحد پار ریلوے ٹریفک بند کردی گئی۔ پاکستانی تھر میں واقع کھوکھرا پار ریلوے اسٹیشن سے لے کر بھارتی حدود میں واقع مونابائو(موڑاں بہہ) اسٹیشن تک 6 کلو میٹر پر بچھی ہوئی میٹر گیج بچھی پٹڑی اکھاڑدی گئی۔ جب 2004ء میں پاک بھارت مذاکرات کے نتیجے میں کھوکھرا پار سرحد سے ریلوے ٹریفک کھولنے کا فیصلہ ہوا تویہ بھی طے کیا گیا کہ میٹر گیج کی یہ آخری پٹڑی اکھاڑ کر، اس کی جگہ پر عام براڈ گیج بچھادی جائے۔ ادھر مونا باؤ اسٹیشن سے جودھپور اسٹیشن تک بھارتی حکومت پہلے ہی میٹر گیج ختم کرکے عام براڈ گیج پٹڑی بچھاچکی تھی۔
پچھلے دور میں پاکستانی حدود کا آخری اسٹیشن کھوکھرا پار تھا مگر نئے دور 2005ء میں جب یہ ریلوے سلسلہ بحال ہوا تو پاکستان نے آخری اسٹیشن کھوکھراپار سے بھی اور آگے بالکل سرحد پر قائم کیا۔ اس نئے اسٹیشن کو’زیرو پوائنٹ‘ کا نام دیا گیا اور یہاں کسٹم، انٹیلی جنس اور دیگر ضروری سرکاری دفاتر بھی قائم کردیے گئے۔
مزید پڑھیں: سفید جادو، مثبت اور مددگار
یوں تاریخی قصبے اور اسٹیشن کھوکھرا پار پر نصف صدی قبل چھانے والی ویرانی، یہ ریلوے رابطہ بحال ہونے پر بھی ختم نہ ہوسکی۔ جب 17 فروری2005ء کو پہلی ایکسپریس چلی تو اس نے اس قدیم تاریخی اسٹیشن کھوکھروپارپر رکنا بھی گوارا نہ کیا اوروہاں نئی ٹرین کے ا نتظار و اشتیاق میں کھڑے غریب لوگ مسافروں کو ہاتھ ہلاتے رہ گئے!۔
مہارانی جودھپور کا شاہی سیلون پاکستان میں رہ گیا
1947ء میں جب پاکستان قائم ہورہا تھا تب سرحدیں غیر محفوظ ہوگئی تھیں۔ میٹر گیج پر چلنے والی ’راجا جی ریل‘ بھی رک گئی تھی ۔کہتے ہیں کہ ان دنوں مہاراجہ کی یہ شاہی ٹرین میرپور خاص کے ایک ڈرائیور چلایا کرتے تھے۔ وہ فسادات سے گھبراکر مہارانی کے شاہی سیلون سمیت ٹرین کو میرپور خاص لے آئے۔ قیام پاکستان کے بعد یہ سیلون یہاں رہ گیا اور کافی عرصے تک میرپور خاص کے لوکوشیڈ میں کھڑا رہا۔ اب یہ شاہی بوگی اسلام آباد کے نزدیک گولڑہ ریلوے میوزیم میں نمائش کے لیے کھڑی کردی گئی ہے۔ اس فیچر کی کچھ معلومات اویس مغل صاحب کی انگریزی تحریروں سے لی گئی ہیں۔ ان کے بقول یہ شاہی سیلون 135 برس پہلے اجمیر میں ’ اجمیرورکس‘ کی جانب سے تیار کیا گیا تھا۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













