کیا آپ کا بچہ دوست بنا رہا ہے؟

جمعہ 11 ستمبر 2026
author image

عامر خاکوانی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ہمارے بچپن اور لڑکپن میں والدین کو یہ مسئلہ کبھی نہیں رہا کہ بچے کے دوست کم ہیں۔ انہیں البتہ یہ خدشہ ضرور رہتا تھا کہ دوست کچھ زیادہ نہ ہو جائیں اور صاحبزادے سارا وقت یاروں کے ساتھ کھیل کود میں ضائع نہ کر دیں۔

مجھے یاد ہے، ہم چھٹی کلاس میں تھے جب احمد پورشرقیہ کے ایک قدیمی محلے کٹرہ احمد خان میں واقع اپنا آبائی گھر چھوڑ کر ایک نئی کالونی میں شفٹ ہوئے۔ کشادہ صحن والا گھر تھا اور قریب ہی وہ گورنمنٹ ہائی اسکول جہاں ہم سب لڑکے پڑھا کرتے۔ شام کو اسی اسکول کے کئی گراؤنڈ آباد ہو جاتے۔ کہیں فٹبال ہو رہا ہے تو کہیں کرکٹ، ایک گراؤنڈ ہاکی کے لیے بھی مختص تھا۔

نئی کالونی آ کر دوست بنانے کا مسئلہ ہی نہیں بنا۔ کئی لڑکے فٹبال کھیلتے کھیلتے دوست بن گئے، اسکول ہی کے چھوٹے پلاٹوں میں پٹھو گرم، گلی ڈنڈا کھیلتے 4-2 اور واقف ہو گئے، ہمسائیوں کے لڑکے الگ۔ چند ہی ماہ میں بہت سوں سے شناسائی ہو گئی جو بعد میں گہری دوستی میں بدل گئی۔ کسی نے ہمیں دوست بنانا سکھایا نہ کسی نے اس کا اہتمام کیا، بس ہوتا چلا گیا۔

آج اپنے بیٹوں اور خاص کر چھوٹے بیٹے عبداللہ کو دیکھتا ہوں تو وہ اس حوالے سے تہی دامن ہے۔ جس سوسائٹی میں ہم رہتے ہیں وہاں اس کا کوئی دوست نہیں۔ وہ باہر اکیلا کھیلنے نہیں جاتا کہ حالات کے پیش نظر خدشات رہتے ہیں۔ آس پاس کے گھروں والے لڑکے کبھی گلی (سوری اسٹریٹ) میں نظر ہی نہیں آتے۔  اسکول کے دوست ہیں اور بس، باقی خلا ٹیبلٹ اور ویڈیو گیمز پورا کر رہے ہیں۔ ہماری سر توڑ کوشش ہے کہ وہ کچھ وقت کہانیوں اور کتابوں کو بھی دے، مگر یہ الگ ہی جنگ ہے، اس پر پھر کبھی بات کریں گے۔

عبداللہ سے بڑے بیٹے کے پچھلے برسوں میں ایک دو دوست بنے تو دلی خوشی ہوئی۔ اتفاق سے اس کا ایک کالج فیلو ہماری قریب والی سوسائٹی میں رہتا ہے۔ اس کے ساتھ وہ باہر جانے لگا، کبھی کہیں بیٹھ کر کچھ کھا لیا، کبھی جینز شرٹس لینے اکٹھے بازار چلے گئے۔ میں اسے باقاعدہ ترغیب دیتا ہوں کہ دوستوں کو گھر بلاؤ، ان کی دعوت کرو، مل بیٹھ کر گپیں لگاؤ۔

مجھے یہ سب اہم تو لگتا تھا، مگر 3-2 دن قبل معروف برطانوی اخبار گارڈین میں اس حوالے سے ایک خصوصی رپورٹ دیکھی تو معاملے کی سنگینی کا اندازہ ہوا۔

سب سے تنہا نسل

گارڈین کی کالم نگار ریانن لوسی کوسلیٹ نے ایک برطانوی تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ فار پبلک پالیسی ریسرچ کی تازہ رپورٹ کو موضوع بنایا ہے۔ رپورٹ کا نام ہی بہت کچھ بتا دیتا ہے: دی لونلیسٹ جنریشن، یعنی سب سے تنہا نسل۔ اس کے مطابق انگلینڈ میں 16 سے 21 برس کے ہر 20 نوجوانوں میں سے ایک کا کوئی قریبی دوست نہیں۔ ایک بھی نہیں۔ 2014 میں یہ تناسب 100 میں سے ایک کا تھا۔ گویا 10 برسوں میں 5 گنا اضافہ۔

قریبی دوست سے مراد وہ شخص ہے جس سے بچہ اپنی پریشانی کہہ سکے، ناکامی کے بعد جس کے پاس جا سکے اور لڑائی کے بعد بھی جس سے تعلق باقی رہے۔

دلچسپ بات یہ کہ تھنک ٹینک نے اس تاثر کو رد کیا کہ آج کی نسل کمزور یا نازک مزاج ہے۔ ان کی ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر اونی مورجاریہ کے بقول بچے کانچ کے نہیں بنے، یہ اس بے رنگ دنیا پر ان کا معقول ردعمل ہے جو ہم نے انہیں دی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے جنریشن زی پر لکھتے ہوئے خاکسار نے بھی یہی عرض کیا تھا کہ ہم اپنے بچوں کو سمجھنے میں غلطی کر رہے ہیں۔

لنگوٹیا یار

کوسلیٹ نے بات ایک پرانی سہیلی سے ملاقات سے شروع کی ہے اور ایسے دوستوں کو فرضی یعنی منہ بولےبہن بھائی کہا ہے، یعنی جن سے خون کا رشتہ تو نہیں مگر برسوں کی رفاقت انہیں گھر کا فرد بنا دیتی ہے۔ پڑھ کر ہنسی آئی کہ انگریزوں کو اس رشتے کے لیے اصطلاح گھڑنی پڑی، ہمارے ہاں تو اس کا نام پہلے سے موجود ہے: لنگوٹیا یار۔ اس کے سامنے کوئی بھرم نہیں چلتا۔ آپ جتنے بڑے افسر یا دانشور بن جائیں، اسے یاد ہے کہ صاحب بہادر کبھی نیکر پہن کر پٹھو گرم کھیلا کرتے تھے اور ہر بار پکڑے جاتے تھے۔

سوال مگر یہ ہے کہ 40-30 سال بعد ہمارے بچوں کے پاس بھی کوئی لنگوٹیا یار ہوگا؟ مجھے اس میں شک ہے۔

کٹی سے بلاک تک

کوسلیٹ کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ دوستی ایک مہارت ہے جو بچپن میں سیکھی جاتی ہے۔ بات کیسے شروع کرنی ہے، ہر بار اپنی مرضی نہیں چلتی، مذاق کہاں رک جانا چاہیے، غلطی ہو جائے تو معافی کیسے مانگنی ہے۔ ماہرین نفسیات اسے رپچر اینڈ ریپیئر کہتے ہیں، یعنی تعلق میں دراڑ آنا اور پھر اس کی مرمت و بحالی۔

ہمارے بچپن میں اس کا دیسی نام ’کٹی‘ تھا۔ کالونی والے گراؤنڈ میں کتنی ہی بار فاؤل یا آف سائیڈ پر جھگڑا ہوا اور کسی نہ کسی سے کٹی ہو گئی۔ یہ کٹی مگر زیادہ دن نہیں چلتی تھی۔ اگلی شام پھر اسی گراؤنڈ میں کھیلنا ہوتا اور صبح اسی اسکول میں ساتھ بیٹھنا۔ مجبوری تھی، سو کوئی ایک چھوٹی انگلی آگے بڑھاتا اور صلح ہو جاتی۔ برسبیل تذکرہ ہم سرائیکی میں چھوٹی انگلی کو چِیچی انگلی کہا کرتے ہیں۔ اس حوالے سےایک اور دلچسپ ’متھ‘ یہ بھی تھی کہ کوئی بچہ دوسرے کو کچھ کھاتا دیکھ کر اس سے مانگتا اور وہ انکار کر دیتا تو پھر آخری حربہ یہی ہوتا کہ لجاجت بھرے لہجے میں کہا جاتا، ڈے چا، ورنہ چِیچی کپیج پوسی (یہ چیز مجھے بھی کھلاؤ ورنہ میری چھوٹی انگلی کٹ جائے گی)۔ وجہ تو مجھے معلوم نہیں مگر یہ ایسی ایموشنل بلیک میلنگ تھی کہ سنگ دل ترین لڑکے کا دل بھی پگھل جاتا اور وہ برا سا منہ بنا کر کچھ نہ کچھ دے ہی دیتا۔

آج کٹی کی جگہ بلاک کا بٹن ہے۔ اختلاف ہوا تو بلاک کر دیا، واٹس ایپ گروپ میں تلخی ہوئی تو گروپ چھوڑ دیا۔ نئی آن لائن کمیونٹی ایک کلک کے فاصلے پر ہے، صلح کی زحمت کون کرے؟ ویسے بڑوں نے بھی کون سی اچھی مثال قائم کی ہے۔ پچھلے چند برسوں میں کتنے ہی پڑھے لکھے لوگوں نے سیاسی اختلاف پر برسوں پرانے دوستوں اور رشتہ داروں کو ان فرینڈ کر دیا۔ یہ خاصی خطرناک اور سنگین بات ہے۔ میں سمجھتا ہوں جو بچہ آج صلح کرنا اور تعلق پھر سے استوار کرنا نہیں سیکھے گا، وہ کل کو شادی اور دفتر میں بھی ہر اختلاف کو تعلق کا خاتمہ سمجھے گا۔

دوستی کو فالتو وقت چاہیے

برطانوی مصنفہ کوسلیٹ کا ایک جملہ دیر تک ذہن میں اٹکا رہا کہ ’دوستی کا فن بڑی حد تک کچھ نہ کرنے کا فن ہے‘۔ امریکا کی یونیورسٹی آف کنساس کے پروفیسر جیفری ہال کی تحقیق کے مطابق کسی اجنبی کو عام دوست بننے کے لیے کم و بیش 50 گھنٹے ساتھ گزارنے پڑتے ہیں، جبکہ گہری دوستی کو 200 گھنٹوں سے بھی زیادہ درکار ہیں۔ ہمارے ہاں یہ گھنٹے میچ کے بعد گراؤنڈ کے کنارے گپیں ہانکتے یا اسکول سے واپسی پر جان بوجھ کر لمبا راستہ اختیار کرتے گزرتے تھے۔ بزرگ اسے وقت کا ضیاع کہتے تھے، دوستیاں مگر انہی گھنٹوں میں بنتی، پکتی اور سنورتی تھیں۔

اب ذرا آج کے ایک عام شہری بچے کا دن دیکھیں۔ صبح اسکول، دوپہر کو ہوم ورک، شام کو اکیڈمی یا ٹیوشن، بیچ میں کہیں قاری صاحب کی آمد، اور جو وقت بچا وہ اسکرین کے حوالے۔ ہم بچے کو ایک منٹ ضائع نہیں کرنے دیتے اور پھر حیران ہوتے ہیں کہ اس کا کوئی پکا دوست کیوں نہیں؟ اوپر سے بوریت بھی ختم ہو گئی۔ ہمارے زمانے میں بور ہونے والا بچہ کسی کا دروازہ کھٹکھٹاتا تھا، ہم لوگ بوریت کی وجہ ہی سے ناول، کہانیاں، ڈائجسٹ پڑھا کرتے تھے۔ آج بچہ ذرا بور ہوا، اس نے فوری فون یا ٹیبلٹ اٹھا لیا۔

قصور صرف فون کا نہیں

یہاں تک پڑھ کر آپ سوچ رہے ہوں گے کہ سارا فساد اس کم بخت مارے موبائل کا ہے۔ یہ آدھا سچ ہے۔ برطانوی رپورٹ نے بھی یوتھ کلبوں کی بندش، عوامی جگہوں کے سکڑنے اور کورونا کو برابر کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ ہمارے کلب تو گلی اور اسکول کا گراؤنڈ تھے۔ اب گلیاں گاڑیوں کے قبضے میں ہیں، کھلے پلاٹوں پر پلازے کھڑے ہو گئے اور پارکوں میں بچے کو اکیلا بھیجتے ڈر لگتا ہے۔ یہ خوف بے جا بھی نہیں، ہم خود اپنے چھوٹے بیٹے کو اسی وجہ سے باہر اکیلا نہیں بھیجتے۔

امریکی ماہر سماجی نفسیات جوناتھن ہائٹ نے اپنی مشہور کتاب دی اینکشس جنریشن میں لکھا ہے کہ ہم بچوں کو حقیقی دنیا میں حد سے زیادہ تحفظ دیتے ہیں اور ورچوئل دنیا میں تقریباً کھلا چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ پڑھ کر شرمندگی ہوئی، مگر بات سچ لگی۔ ہم بچے کو گلی تک اکیلا نہیں جانے دیتے، مگر ٹیبلٹ پر گھنٹوں گیمز کھیلنے دیتے ہیں جہاں دنیا بھر کے لوگ اس کے ساتھ آن لائن موجود ہوتے ہیں۔ پھر اسی ٹیبلٹ پر ڈانٹتے بھی ہیں، حالانکہ اس بند زندگی میں وہی اس کی واحد کھڑکی ہے۔

ایک دیسی مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہم بچے کے دوستوں کو ان کے نمبروں اور خاندانی پس منظر سے تولنے لگتے ہیں۔ یہ فکر بے بنیاد نہیں۔ احتیاط ضرور کی جائے ۔ دوست کے انتخاب پر نظر رکھنا مگر ایک بات ہے، دوستی کا راستہ ہی بند کر دینا بالکل دوسری۔

تو پھر کیا کیا جائے؟

سب سے آسان حل یہ لگتا ہے کہ ٹیبلٹ چھین لیا جائے۔ متبادل دیے بغیر ایسا کرنا مگر بچے کو اسی کمرے میں اور زیادہ تنہا کر دے گا۔ بچے کو ترغیب دیں کہ دوستوں کو گھر بلائے۔ اس کے لیے سجا ہوا ڈرائنگ روم ضروری نہیں، ایک کپ چائے، کچھ بسکٹ اور تھوڑی سی پرائیویسی کافی ہے۔ ہفتے میں 2-1 شامیں ٹیوشن اور اکیڈمی سے خالی رکھیں۔ کزنز سے میل جول بحال کریں، ہمارے زمانے میں آدھی دوستیاں تو کزنز ہی سے شروع ہوتی تھیں۔

ایسا کرتے ہوئے یہ یاد رکھیں کہ جب بچوں میں لڑائی ہو تو فوراً میدان میں مت کودیں، دوسرے بچے کی والدہ کو فون کر کے نیا محاذ مت کھولیں۔ کٹی ہونے دیں، صلح بھی وہ خود کر لیں گے۔

آخری بات

برطانیہ اور جاپان نے چند برس پہلے تنہائی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے باقاعدہ انتظامی شعبے قائم کیے اور وزیر تک مقرر کیے۔ ہمارے ہاں ابھی خاندان اور محلے کی کچھ رمق باقی ہے۔ جس راستے پر ہم چل رہے ہیں مگر وہاں پہنچنے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔

غالب نے کہا تھا:

یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصح

کوئی چارہ ساز ہوتا، کوئی غم گسار ہوتا

ہمارے بچوں کے اردگرد نصیحت کرنے والوں کی کمی نہیں، شرمندگی سے اعتراف کر رہا ہوں کہ خاکسار خود بھی ایک ’ودھیا‘ قسم کا فل ٹائم ناصح ہے۔ سوچنےکی بات یہ ہے کہ کیا ہمارے بچوں کی زندگی میں کمی اس ہم عمر کی ہے جس کے سامنے بچہ اپنی کوئی شرمندگی یا ناکامی بیان کر سکے۔

اگلی بار بچے کا رزلٹ کارڈ ہاتھ میں آئے تو نمبروں کے ساتھ ہمیں خود سے یہ بھی پوچھنا چاہیے کہ صاحبزادے کا کوئی ایسا دوست بھی ہے جس کے ساتھ وہ ہنستا ہے، لڑتا ہے اور پھر صلح کر لیتا ہے؟ کیا آپ کا بچہ دوست بنا بھی رہا ہے یا نہیں؟

اللہ ہمارے بچوں کو ایسے سچے ، مخلص اور اچھے دوست نصیب کرے جو برسوں بعد بھی ان کے لنگوٹیا یار کہلائیں اور ہمیں ہمت دے کہ ہم ان کی دوستیوں کے راستے نہ بند کریں۔ آمین۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp