دریاؤں کا مقدمہ اور معرکۂ حق

پیر 27 جولائی 2026
author image

مشکور علی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

قوموں کی تاریخ میں بعض معرکے میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ دریاؤں، سمندروں اور وسائل کے کنارے لڑے جاتے ہیں۔ کبھی تلواریں فیصلہ کرتی تھیں، آج پانی فیصلہ کرتا ہے۔ اکیسویں صدی میں جس شے کو مستقبل کا سب سے قیمتی سرمایہ قرار دیا جا رہا ہے، وہ سونا یا تیل نہیں بلکہ پانی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں پانی کو انسانی حق، ماحولیاتی امانت اور بین الاقوامی قانون کا موضوع سمجھا جاتا ہے، نہ کہ سیاسی دباؤ یا انتقام کا ذریعہ۔

پاکستان کے لیے یہ حقیقت محض ایک نظری بحث نہیں بلکہ قومی بقا کا سوال ہے۔ دریائے سندھ، جہلم اور چناب صرف نقشے پر بہنے والی نیلی لکیریں نہیں بلکہ اس سرزمین کی دھڑکن ہیں۔ انہی دریاؤں سے ہماری کھیتی لہلہاتی ہے، ہمارے ڈیم بجلی پیدا کرتے ہیں، ہماری نہریں کروڑوں انسانوں کو پانی پہنچاتی ہیں اور انہی کے کنارے وہ تہذیب پروان چڑھی جسے دنیا ’وادیٔ سندھ کی تہذیب‘ کے نام سے جانتی ہے۔

اسی لیے جب پانی کو ہتھیار بنانے کی بات ہوتی ہے تو معاملہ صرف سفارتکاری یا سرحدی تنازع تک محدود نہیں رہتا بلکہ یہ ایک ایسے ’معرکۂ حق‘ میں تبدیل ہو جاتا ہے، جہاں ایک طرف بین الاقوامی قانون، معاہدوں کی حرمت اور کروڑوں انسانوں کا بنیادی حق کھڑا ہوتا ہے اور دوسری طرف طاقت کے زور پر آبی وسائل کو سیاسی دباؤ کا ذریعہ بنانے کی سوچ۔

1947 میں برصغیر کی تقسیم کے ساتھ ہی پانی کا مسئلہ بھی دونوں نئی ریاستوں کے درمیان پیدا ہوا۔ تقسیمِ ہند کے وقت نہری نظام تو ایک تھا، مگر اس کا بالائی حصہ بھارت اور زیریں حصہ پاکستان میں آ گیا۔ اپریل 1948 میں بھارت نے فیروزپور ہیڈورکس سے نکلنے والی بعض نہروں کا پانی عارضی طور پر بند کیا تو پاکستان کو پہلی بار احساس ہوا کہ پانی مستقبل میں سب سے بڑا تزویراتی مسئلہ بن سکتا ہے۔

اس کے بعد کئی برس تک مذاکرات ہوتے رہے، مختلف تجاویز پیش کی گئیں، مگر کوئی مستقل حل سامنے نہ آ سکا۔ بالآخر ورلڈ بینک نے ثالثی کا کردار ادا کیا اور قریباً ایک دہائی کی طویل گفت و شنید کے بعد 19 ستمبر 1960 کو کراچی میں پاکستان کے صدر فیلڈ مارشل محمد ایوب خان، بھارت کے وزیراعظم جواہر لال نہرو اور ورلڈ بینک کے صدر یوجین آر بلیک نے ’سندھ طاس معاہدے‘ پر دستخط کیے۔

یہ معاہدہ محض 2 ملکوں کے درمیان ایک انتظامی سمجھوتا نہیں تھا بلکہ بین الاقوامی قانون کے تحت ایک ایسا فریم ورک تھا جس نے 6 دریاؤں کے پانی کی تقسیم، تنازعات کے حل اور باہمی رابطے کا مستقل نظام وضع کیا۔

سندھ طاس معاہدے کے تحت 6 بڑے دریاؤں کو 2 حصوں میں تقسیم کیا گیا۔ مغربی دریا، یعنی سندھ، جہلم اور چناب بنیادی طور پر پاکستان کے لیے مختص کیے گئے، جبکہ راوی، بیاس اور ستلج بھارت کے حصے میں آئے۔

اگرچہ معاہدے میں پانی کی تقسیم فیصد کی بنیاد پر درج نہیں، لیکن ان دریاؤں کے اوسط بہاؤ کے اعتبار سے پاکستان کو قریباً 80 فیصد جبکہ بھارت کو قریباً 20 فیصد پانی میسر آتا ہے۔

ہر سال اوسطاً 168 ملین ایکڑ فٹ پانی انڈس بیسن (Indus Basin سے مراد دریائے سندھ اور اس کے معاون دریاؤں کا پورا آبی حوض ہے، یعنی وہ وسیع جغرافیائی علاقہ جہاں بارش، برف پگھلنے یا دیگر ذرائع سے آنے والا پانی آخرکار دریائے سندھ کے نظام میں شامل ہو جاتا ہے۔) سے گزرتا ہے۔ یہی پانی پاکستان کی زراعت، صنعت، پن بجلی، پینے کے پانی اور قومی معیشت کا بنیادی ستون ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی قریباً 80 فیصد زرعی زمین کا انحصار اسی آبی نظام پر ہے۔

معاہدے نے بھارت کو بھی کچھ حقوق دیے۔ چونکہ مغربی دریاؤں کے بیشتر منبع بھارت یا مقبوضہ جموں و کشمیر میں واقع ہیں، اس لیے اسے محدود آبپاشی، پن بجلی کے منصوبوں اور مخصوص مقدار میں پانی ذخیرہ کرنے کی اجازت دی گئی، مگر ایک بنیادی شرط کے ساتھ: ایسا کوئی منصوبہ نہیں بنایا جا سکتا جو پاکستان کے حصے میں آنے والے پانی کے قدرتی بہاؤ میں نمایاں رکاوٹ پیدا کرے۔

اسی مقصد کے لیے مستقل ’انڈس کمیشن‘ قائم کیا گیا، جس میں دونوں ممالک کا ایک ایک واٹر کمشنر شامل ہوتا ہے۔ معاہدے نے اختلافات کے حل کے لیے 3 درجوں پر مشتمل ایک واضح نظام بھی وضع کیا: پہلے مستقل انڈس کمیشن، پھر غیر جانبدار ماہر (Neutral Expert) اور آخر میں ثالثی عدالت (Court of Arbitration) ۔ یہی قانونی ڈھانچہ اس معاہدے کو دنیا کے کامیاب ترین بین الاقوامی آبی معاہدوں میں شامل کرتا ہے۔

سندھ طاس معاہدے کی سب سے بڑی طاقت یہی تھی کہ یہ سیاست سے بلند ہو کر انسانی ضرورت کا معاہدہ بن گیا۔ 1965 کی جنگ آئی، 1971 کی جنگ ہوئی، 1999 کا کارگل تنازع پیش آیا، سرحدوں پر کشیدگی بڑھی، سفارتی تعلقات منقطع ہوئے، لیکن معاہدہ برقرار رہا۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی ماہرین اسے سرحد پار آبی تعاون کی کامیاب ترین مثالوں میں شمار کرتے رہے۔

لیکن 2025 میں پہلی مرتبہ اس معاہدے کو اس نوعیت کے بحران کا سامنا کرنا پڑا جس نے صرف پاکستان اور بھارت ہی نہیں بلکہ پورے بین الاقوامی قانونی نظام کو ایک نئے امتحان سے دوچار کر دیا۔

سال 2025 سندھ طاس معاہدے کی 65 سالہ تاریخ کا سب سے نازک موڑ ثابت ہوا۔ 23 اپریل کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونے والے حملے کے بعد بھارت نے یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کا اعلان کردیا۔ یہ ایک ایسا قدم تھا جس نے نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات میں نئی کشیدگی پیدا کی بلکہ بین الاقوامی قانون اور معاہدوں کی حرمت کے بارے میں بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے۔

پاکستان نے فوری طور پر اس اقدام کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدے میں کسی بھی فریق کو اسے یکطرفہ طور پر معطل یا منسوخ کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔ یہ مؤقف محض سیاسی ردعمل نہیں تھا بلکہ خود معاہدے کی قانونی روح پر مبنی تھا۔

اس کے بعد واقعات تیزی سے آگے بڑھے۔ مئی 2025 میں بھارت نے بگلیہار ڈیم سے دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں عارضی رکاوٹ پیدا کی۔ اگرچہ اسے ایک انتظامی اقدام قرار دیا گیا، لیکن پاکستان نے اسے سندھ طاس معاہدے کی روح اور اس کے بنیادی اصولوں سے متصادم قرار دیا۔

اس دوران بھارتی قیادت کی جانب سے ایسے بیانات بھی سامنے آئے جن میں پاکستان کو جانے والے پانی کو راجستھان منتقل کرنے اور سندھ طاس معاہدہ دوبارہ بحال نہ کرنے کی بات کی گئی۔ یہ وہ لمحہ تھا جب پانی پہلی مرتبہ سفارتی اختلاف سے نکل کر سیاسی دباؤ کے ایک ذریعے کے طور پر زیرِ بحث آنے لگا۔ لیکن اسی دوران بین الاقوامی قانون نے بھی اپنا مؤقف واضح کیا۔

جون 2025 میں دی ہیگ میں قائم ثالثی عدالت نے اپنے ضمنی فیصلے میں واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل نہیں کیا جا سکتا اور عدالت اس تنازع پر اپنا دائرۂ اختیار برقرار رکھتی ہے۔ اگرچہ بھارت نے اس دائرۂ اختیار کو تسلیم کرنے سے انکار کیا، مگر یہ فیصلہ اس حقیقت کی یاددہانی تھا کہ بین الاقوامی معاہدے محض سیاسی خواہشات کے تابع نہیں ہوتے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان کا مقدمہ محض ایک دوطرفہ تنازع نہیں رہتا بلکہ ایک وسیع تر ’معرکۂ حق‘ کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ یہ معرکہ اس اصول کے لیے ہے کہ کیا کوئی طاقتور ریاست بین الاقوامی معاہدے کو اپنی مرضی سے معطل کرسکتی ہے؟

کیا پانی جیسے بنیادی انسانی وسیلے کو سیاسی دباؤ، انتقام یا سفارتی ہتھیار میں تبدیل کیا جا سکتا ہے؟ اور کیا کروڑوں انسانوں کے حقِ حیات کو علاقائی سیاست کی نذر کیا جا سکتا ہے؟ بین الاقوامی قانون کا جواب نفی میں ہے۔

اسی لیے اقوام متحدہ کے آبی گزرگاہوں سے متعلق اصول، ویانا کنونشن برائے معاہدات، جنیوا کنونشنز اور عالمی عدالتی نظائر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ سرحد پار آبی وسائل کے استعمال میں انصاف، معقولیت اور دوسرے فریق کو نقصان نہ پہنچانے کے اصول بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ پاکستان کا قانونی مؤقف بھی انہی اصولوں پر استوار ہے۔

یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ پاکستان کی معیشت کا بنیادی ڈھانچہ انہی دریاؤں سے جڑا ہوا ہے۔ ملک کی قریباً 80 فیصد زرعی زمین اسی آبی نظام سے سیراب ہوتی ہے۔ گندم، چاول، کپاس اور گنے جیسی اہم فصلیں انہی دریاؤں کی مرہونِ منت ہیں۔ منگلا اور تربیلا جیسے ڈیم قومی توانائی کی ضروریات پوری کرتے ہیں، جبکہ کروڑوں شہریوں کے گھروں تک پہنچنے والا پانی بھی اسی نظام سے وابستہ ہے۔

اس لیے سندھ طاس معاہدے کا مسئلہ محض سفارتی یا قانونی بحث نہیں بلکہ پاکستان کے غذائی تحفظ، توانائی، ماحولیات اور قومی سلامتی سے براہِ راست جڑا ہوا معاملہ ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ قومیں صرف سرحدوں سے زندہ نہیں رہتیں، بلکہ اپنے دریاؤں، کھیتوں، تہذیب اور وسائل سے زندہ رہتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے لیے دریاؤں کا تحفظ صرف ایک پالیسی نہیں بلکہ قومی بقا کا تقاضا ہے۔ اور یہی اس ’معرکۂ حق‘ کی اصل بنیاد بھی ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ٹرینیڈاڈ ٹیسٹ: شان مسعود اور امام الحق کی شاندار بیٹنگ، ویسٹ انڈیز کی برتری قریباً ختم

اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی، انڈیکس میں 4500 پوائنٹس سے زائد اضافہ

کیپٹن محمد سرور شہید کی قربانی قوم کا فخر، آئندہ نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے، وزیراعظم شہباز شریف

کرسٹوفر نولان کی ’دی اوڈیسی‘ ریلیز کے چند دن بعد ہی آن لائن لیک، یونیورسل پکچرز کا قانونی کارروائی کا اعلان

ایمازون پر ملازمین چرانے کا الزام، وارنر برادرز نے عدالت میں بڑا مقدمہ دائر کردیا

ویڈیو

جمہوری عمل ہی مسائل کا حل، آزاد کشمیر کے شہری ووٹ ڈالنے کے لیے پُرعزم، بھرپور جوش و خروش

آزاد کشمیر میں الیکشن کا پہلا مرحلہ، میرپور ڈویژن میں پولنگ جاری، سخت سیکیورٹی انتظامات

پہلا ٹیسٹ: پہلی اننگز میں ویسٹ انڈیز کی پوری ٹیم 311 رنز پر آؤٹ، محمد علی کے 4 شکار

کالم / تجزیہ

دو ہم سفر دو ہم عصر: منیر نیازی اور محمد سلیم الرحمان

ہوا دان، منگھ، بادگیر یا بادکش

قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں