وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے انسدادِ انسانی اسمگلنگ سرکل (اے ایچ ٹی سی) کراچی زون نے شہرِ قائد میں ریجنل پاسپورٹ آفس ملیر میں متحرک کرپشن، رشوت ستانی اور غیر قانونی پاسپورٹ پراسیسنگ کے نیٹ ورک کو بے نقاب کرتے ہوئے 7 مرکزی ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔
مزید پڑھیں:ایف آئی اے نے ڈارک ویب جرائم کی نگرانی کے لیے خصوصی تحقیقاتی یونٹ قائم کردیا
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق یہ کارروائی انتہائی مستند اور خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کی گئی، جس نے پاسپورٹ آفس میں قائم ایک طویل عرصے سے جاری غیر قانونی نظام کا خاتمہ کر دیا ہے۔
ترجمان ایف آئی اے کراچی زون کے مطابق گرفتار کیے گئے افراد میں پاسپورٹ آفس کے ملازمین، پرائیویٹ ایجنٹس اور نجی سیکیورٹی کمپنی کا عملہ شامل ہے جو آپس میں مل کر ایک مکمل گٹھ جوڑ کے تحت شہریوں کا استحصال کر رہے تھے۔
گرفتار ملزمان میں پاسپورٹ آفس ملیر کے ڈیٹا انٹری آپریٹر نوید علی ولد وحید علی اور ایل ڈی سی و فوٹوگرافر محمد عاطف ولد اشتیاق احمد شامل ہیں۔ ان کے علاوہ ڈریگن سیکیورٹی کمپنی کے تعینات کردہ گارڈ ظفر علی ولد افتخار اور 4 پرائیویٹ ایجنٹس، محمد عامر ولد محمد حسن، محمد عتیق ولد محمد رفیق، سید مختیار علی ولد سید قاسم علی، اور شیخ مقصود علی ولد شیخ پیار علی کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔
ابتدائی رپورٹ میں یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ منظم نیٹ ورک ملیر پاسپورٹ آفس میں پاسپورٹ کے حصول اور امیگریشن سے متعلق دیگر سہولیات کے لیے آنے والے عام شہریوں سے بلاجواز پریشانی کا فائدہ اٹھا کر 4,000 سے 5,000 روپے فی کس رشوت وصول کرتا تھا۔ یہ رقم لے کر سرکاری طریقۂ کار، لائنوں اور میرٹ کے ضوابط کو مکمل طور پر پسِ پشت ڈال کر من پسند افراد کو غیر قانونی طریقے سے جلد پروسیسنگ کی سہولت فراہم کی جاتی تھی۔
تحقیقات میں مزید معلوم ہوا کہ ڈریگن سیکیورٹی کمپنی کا گارڈ ظفر علی اس پورے سیٹ اپ میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا تھا۔ وہ باہر موجود ایجنٹوں سے رشوت کی رقم جمع کرتا تھا اور اسے انتہائی چالاکی سے پاسپورٹ آفس کے اندر موجود متعلقہ اہلکاروں اور ڈیسکوں تک پہنچانے کا فریضہ انجام دیتا تھا، جس سے یہ منظم گٹھ جوڑ بآسانی قائم رہتا تھا۔
ایف آئی اے کے مطابق تمام گرفتار ملزمان کے خلاف انسدادِ بدعنوانی (اینٹی کرپشن) سے متعلقہ قوانین اور ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ ایجنسی حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ کارروائی محض ان چند افراد تک محدود نہیں رہے گی، بلکہ اس منظم کرپشن نیٹ ورک کی پشت پناہی کرنے والے سہولتکاروں، سرپرستوں اور شعبے میں موجود ممکنہ دیگر ملوث عناصر کی نشاندہی کے لیے تفتیش کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے، جبکہ آنے والے دنوں میں مزید اہم گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔
مزید پڑھیں:ایف آئی اے گوجرانوالہ زون کی کارروائی، 2 ہفتوں میں 46 مبینہ انسانی اسمگلر گرفتار
ترجمان ایف آئی اے نے اپنے پریس ریلیز میں قومی اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچانے والوں کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ سرکاری دفاتر میں رشوت، اختیارات کے ناجائز استعمال، عوامی استحصال اور کرپشن کے خلاف بلاامتیاز اور فیصلہ کن کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ قانون سے بالاتر کوئی شخص نہیں ہے اور اس نیٹ ورک کے تمام کرداروں کو قانون کے کٹہرے میں لا کر انصاف کے تمام تقاضے پورے کیے جائیں گے تاکہ شہریوں کو بلاتعطل اور شفاف خدمات کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔













