وزیراعظم شہباز شریف سے امریکی کانگریس کے وفد کی ملاقات، تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

منگل 28 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعظم پاکستان شہباز شریف سے امریکی کانگریس کے ارکان ریان زنکے اور مائیکل باؤمگارٹنر پر مشتمل امریکی کانگریسی وفد نے پیر کی سہ پہر وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کی، جس میں پاک امریکا تعلقات، اقتصادی تعاون اور باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، سیکریٹری خارجہ آمنہ بلوچ اور پاکستان میں امریکا کی ناظم الامور نیٹلی بیکر بھی موجود تھیں۔

امریکی وفد کا خیرمقدم، یومِ آزادی پر مبارکباد

وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی کانگریس کے دونوں ارکان کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ ان کا دورہ پاک امریکہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔

انہوں نے امریکا کے 250ویں یومِ آزادی پر کانگریس کے ارکان اور امریکی عوام کو مبارکباد دی، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا۔

پاکستان بھارت جنگ بندی میں ٹرمپ کے کردار کا ذکر

وزیراعظم نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس کردار کو بھی سراہا جس کے نتیجے میں مئی 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کا خاتمہ اور جنگ بندی ممکن ہوئی۔

انہوں نے کہاکہ صدر ٹرمپ کی بروقت اور فیصلہ کن مداخلت نے کروڑوں انسانی جانوں کو ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔

اقتصادی تعاون بڑھانے پر زور

وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان امریکا کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، آئی ٹی، معدنیات اور توانائی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کا خواہاں ہے۔

امریکی ارکان کانگریس کا اظہار تشکر

امریکی کانگریس کے دونوں ارکان نے دورہ پاکستان کے دوران پرتپاک مہمان نوازی پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے کہاکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستانی قیادت کے ساتھ بہترین تعلقات ہیں، جن کے مثبت اثرات دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔

انہوں نے خطے میں امن کے فروغ کے لیے پاکستان کے کردار کو بھی سراہا۔

پارلیمانی روابط بڑھانے پر اتفاق

ملاقات کے دوران دونوں جانب سے اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان کانگریسی اور پارلیمانی وفود کے تبادلوں کی تعداد اور دورانیے میں اضافہ کیا جائے گا تاکہ دوطرفہ تعلقات مزید مستحکم ہوں۔

امریکی کاروباری وفد کے اعزاز میں استقبالیہ

ملاقات کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کے دورے پر آئے امریکی کارپوریٹ سیکٹر کے اعلیٰ حکام کے اعزاز میں استقبالیہ بھی دیا۔

وفد میں آئی ٹی، ٹیکنالوجی، توانائی، معدنیات اور مینوفیکچرنگ سمیت مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی امریکی کمپنیوں کے نمائندے شامل تھے۔

امریکی کمپنیوں کو سرمایہ کاری کی دعوت

وزیراعظم نے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان امریکا کے ساتھ اپنے دیرینہ شراکتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے، جبکہ اقتصادی تعاون دونوں ممالک کے تعلقات کا بنیادی ستون ہے۔

انہوں نے امریکی کمپنیوں کو پاکستان میں مختلف شعبوں میں باہمی مفاد پر مبنی سرمایہ کاری کی دعوت دی۔

پاکستانی نژاد امریکی برادری کو دونوں ممالک کے درمیان اہم پل قرار

گفتگو کے دوران وزیراعظم نے کہا کہ پاکستانی نژاد امریکی برادری، جس کی نمائندگی دورہ کرنے والے کاروباری وفد میں بھی موجود ہے، پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے میں ایک اہم پل کی حیثیت رکھتی ہے۔

استقبالیہ تقریب میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزرا اور اعلیٰ سرکاری حکام نے بھی شرکت کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

3 بجلی تقسیم کار کمپنیاں نجکاری کے قریب، نجکاری بورڈ نے تنظیم نو کی منظوری دے دی

آزاد کشمیر: انتخابی عمل سبوتاژ کرنے کی کوششیں ناکام، مسلم لیگ ن نے پہلے مرحلے میں میدان مار لیا

ہونڈا اٹلس کا پاکستان کی الیکٹرک گاڑیوں کی مارکیٹ میں فوری اینٹری سے انکار، وجہ کیا ہے؟

کنگ چارلس کا برطانوی ایف 35 بی لڑاکا طیاروں کا معائنہ، فوجی اہلکاروں سے ملاقات

اسحاق ڈار کی زیرصدارت اجلاس، اقتصادی سفارت کاری، بین الوزارتی رابطوں اور سفارتی سرگرمیوں کو مزید مؤثر بنانے پر زور

ویڈیو

آزاد کشمیر: انتخابی عمل سبوتاژ کرنے کی کوششیں ناکام، مسلم لیگ ن نے پہلے مرحلے میں میدان مار لیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران سے اچھی بات چیت کا اعتراف، پاکستان اور قطر کی سفارتی کوششیں تیز

امریکی کانگریس کے وفد کی اسحاق ڈار سے ملاقات، دو طرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

کالم / تجزیہ

28 جولائی 2010: وہ دن جب میرے قدموں تلے زمین نکل گئی

جاوید ہاشمی جواب دیں

فخر درانی۔ ایک دلیر صحافی