وزیر مملکت برائے قانون و انصاف و پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما بیرسٹر عقیل نے کہا ہے کہ ملک میں نئے صوبے یا انتظامی یونٹس بننے چاہییں تاکہ گورننس کو بہتر بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں کا قیام لسانی بنیادوں پر نہیں بلکہ مؤثر حکمرانی کے ڈھانچے اور بہتر انتظامی نظام کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر عقیل نے کہا کہ آبادی میں اضافہ ہوچکا ہے، حلقے بڑے ہوگئے ہیں، اس لیے سیاسی جماعتوں، تمام اسٹیک ہولڈرز اور عوام کو مل بیٹھ کر اس معاملے پر بات کرنی چاہیے کہ گورننس کو کس طرح بہتر بنایا جاسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ملک میں نئے صوبے بنانے کی بازگشت، بلاول بھٹو بول پڑے
انہوں نے کہا کہ طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں، اس لیے نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے عوام کی رائے انتہائی اہم ہے۔ ان کے بقول اس معاملے پر سیاستدانوں سے زیادہ عوامی سطح پر بحث ہونی چاہیے۔
بیرسٹر عقیل نے کہا کہ نظام ناکام نہیں ہوا، تاہم گورننس کے مسائل موجود ہیں جو آج کے نہیں بلکہ بہت عرصے سے چلے آرہے ہیں۔ وقت کے ساتھ سیاسی جماعتوں اور حکومتی نظام میں جس جدت اور اصلاحات کی ضرورت تھی، وہ نہیں آسکیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے جس جانب توجہ دلائی ہے، اس کا مقصد یہ ہے کہ وزیراعظم، حکومت اور کابینہ کے ارکان محنت کر رہے ہیں، اصلاحات پر کام جاری ہے، لیکن اگر نظام میں بہتری نہ لائی گئی تو گورننس کے مسائل برقرار رہیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: نئے صوبے ملک کے مفاد میں ہیں، مخالفت کرنے والوں کو منہ توڑ جواب دینا ہوگا، عبدالعلیم خان
مسلم لیگ (ن) رہنما کا کہنا تھا کہ سیاستدان پالیسی سازی اور قانون سازی کرتا ہے، تاہم نظام کو بہتر بنانے کے لیے بیوروکریسی میں اصلاحات بھی ضروری ہیں۔
فیلڈ مارشل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے بیرسٹر عقیل نے کہا کہ وہ بہت محنت کر رہے ہیں، سفارتی محاذ پر پاکستان کو کامیابیاں ملی ہیں جبکہ سیکیورٹی کے شعبے میں بھی پیش رفت ہوئی ہے، تاہم ان کامیابیوں کو معاشی کامیابیوں میں تبدیل کرنے کے لیے وقت بہت کم ہے۔
انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ نئے صوبوں کے قیام کا مقصد بہتر حکمرانی ہونا چاہیے اور اس کے لیے تمام سیاسی جماعتوں اور متعلقہ فریقین کو مل کر کام کرنا ہوگا۔













