دنیا میں اس وقت اگر کوئی خطہ سب سے زیادہ فوکس میں ہے، تو وہ فلسطین کا علاقہ غزہ ہے ۔غزہ میں صیہونی فوج اور سویلین اسرائیلی جو ظلم کا بازار گرم کئے ہوئے ہیں،اس نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ ڈالا ہے۔
غزہ میں اسرائیلی مظالم دن بدن بڑھ رہے ہیں۔ خاص طور پر غزہ کے بچوں اور بچیوں نے ہر پلیٹ فارم پر اسرائیل کے مظالم کا جواب دینا شروع کردیا ہے۔ ننھے معصوم بچے اپنے تجربات اور مشاہدات کو مصوری ،شاعری اور اداکاری کے ذریعے پیش کرکے دنیا بھر کے زندہ ضمیر لوگوں کی توجہ مرکوز کروارہے ہیں۔
انٹر نیٹ پر سرچ کرنے کے دوران غزہ کے کچھ بچوں کی شاعری ملتی ہے جو اسرائیلی مظالم کے خلاف کی گئی ہے۔
یہ شاعری کیا ہے ؟ایک طرح سے زخموں کا بازار ہے ،جہاں سے ہم گزرتے اور نظارہ کرتے جاتے ہیں …مگر رکنے کا کہیںحوصلہ نہیں ہوتا۔
یہ بھی پڑھیں: http://ہوا دان، منگھ، بادگیر یا بادکش
غزہ کے بچوں کی دکھوں بھری ننھی سی نظمیں دل میں تیر کی طرح ترازو ہوئی جاتی ہیں کہ اس چھوٹی سی عمر میں ،تتلیاں پکڑنے اور گلی محلے میں اپنے ہم عمر دوستوں،سہیلیوں کے ساتھ کھیلنے کے بجائے ،وہ اسرائیل جیسے وحشی، سنگدل فوجیو ں کا مقابلہ اپنے خالی ہاتھوں سے یا حد سے حد غلیل جیسے ’ہتھیار‘ سے کررہے ہیں۔ نہ صرف اتنا بلکہ ثقافتی اور ادبی محاذ پر بھی یہ بچے اپنے اظہار سے انسانیت کو جگانے کی مقدور بھر کوششیں کررہے ہیں۔
ایسی کئی نظمیں ملتی ہیں،جن کے ننھے تخلیق کاروں کے نام، سائٹس کے ایڈمنس جان بوجھ کر نہیںدیتے تاکہ ان بچوں کو ٹارگٹ نہ کیا جائے۔مگر ایک دو ایسی نظمیں بھی ملی ہیں ،جن کے ننھے منے یا نوعمر شاعروں اور شاعرائوں کے نام بھی ساتھ لکھے ہوئے ہیں تو ان نظموں کو ان شعراءاور ان کی عمر کے ساتھ شامل کیا گیا ہے۔
یہاں دو نظمیں ‘Peace’ اور ’Start with Yourself First” ایسی ہیں ،جن کوایک امریکی ایک تنظیمUS National Park Service and International World Peace Rose Gardensنے پہلے اور دوسرے نمبر پر انعام کا مستحق قرار دیا ہے۔ و ہ نظمیں بالترتیب، روبا رفعت القدر اور نورالہدیٰ رفعت محمد ال شعر کی ہیں۔ یہ دونوں غزہ میں اقوام متحدہ کے ریلیف کیمپ اسکول کی طالبات ہیں۔ امریکی تنظیم کے اس مقابلے میں 19ہزار بچوں نے حصہ لیا تھا، جن میں سے جیتنے والوں کو ایٹلانٹا امریکا بلاکر خصوصی تقریب میں انعامات دیے گئے مگر اس تقریب میں اول اور دوئم آنے والی نوعمر فلسطینی شاعرات کی کرسیاں خالی رہیں کیوںکہ غزہ کی سرحدیں اسرائیل نے بند کررکھی ہیں ۔اس لیے ان دونوں فلسطینی بچیوں کو وہاں سے نکلنے نہیں دیا گیا۔
مزید پڑھیے: کشکول کی تیاری
غزہ میں مسلسل جاری انسانی المیے نے، زندہ ضمیر انسانوں کی نیندیں حرام کررکھی ہیں اور ہزاروں لاکھوں لوگ دنیا کے مختلف ملکوں میں اسرائیل کی ننگی جارحیت کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری رکھے ہوئےہیں مگر بے فکر رہیے،اپنے پیارے وطن میں ایسا کوئی سلسلہ نہیں ہے۔ ہماری سڑکیں احتجاج کرنے والوں نے بندنہیں کررکھیں ،ہمارے ایوان ہائے اقتدار میں بھی غزہ کے معصوم شہداء کے حق میں کوئی بازگشت سنائی نہیں دے رہی۔ اس حوالے سے ہمارے ہاں راوی چین ہی چین لکھتا ہے۔ اگر یہ غزہ کی یہ نظمیں پڑھ کر آپ کی طبیعت مکدر ہوتو ہم اس کی پیشگی معذرت چاہتے ہیں:
گونگا مشاہدہ
میں نے دیکھے ہیں چاند چہرے وہ
چھوٹی لڑکیوں کے
ان کے دھڑ سے الگ۔
جن کی گہری سی مردہ آنکھوں میں
خواب بھی منجمد ہوئے سارے۔
میں نے بچوں کے لاشے دیکھے ہیں،
جن کے ہاتھوں میں ماں کے دامن کی
دھّجیاں تب بھی میں نے دیکھی ہیں
جب انہیں لحد میں لٹایا گیا۔
اس لیے میرابولنا بند ہے؛
اب اگر بولوں بھی تو کیا بولوں؟
میری منی بہن
دو برس کی وہ ننھی بچی تھی
جس کو کنکر چبھتا تو اس سے بھی
گال پر لال نشان پڑتا تھا۔
اس کو جب رائفل کی گولی لگی
جسم سارا ہی اس کا لال ہوا
میری منی بہن کے اندر سے
خون اتنا بہاکہ مرگئی وہ!۔
We Love Ghaza
میں ابھی تک غزہ میں رہتا ہوں
اور رہنا یہاں پہ ایسا ہے
جیل میں کوئی رہتا ہو جیسے
سرحدیں سب ہماری سیل ہیں
اور ایئرپورٹ، گاڑیاں نہیں یہاں
بس یہاں موت راج کرتی ہے
اسرائیلی مارتے ہیں ہم کو
اور
ہم صرف احتجاج کرتے ہیں۔
وہ غزہ کی زمین چاہتے ہیں
ہم بھلا اپنا گھر اُنہیں کیوں دیں؟
یہ غزہ، یہ وطن فلسطیں ہے۔
فائرنگ ہوتی،بم برستے ہیں
خوف آتا ہے،ڈرسا لگتا ہے
یہ غزہ ہے ہمارا پھر بھی
اور
ہم کو جینا یہاں پہ مرنا ہے۔
کیا حضرت عیسیٰ ہمیں پیار نہیں کرتے؟
(ایک فلسطینی بچے کا سوال)
کیا حضرت عیسیٰ ایک فلسطینی سے پیار کرتے ہیں؟
کیا پتا؟!
کیونکہ ان کے پیروکار
قتل کرتے ہیں ہم کو روز یہاں
چھین لیتے ہیں گھر ہمارے اور
کیمپ میں بھی عذاب دیتے ہیں۔
میں تو بچہ ہوں
پر وہ کہتے ہیں :
ان کو عیسیٰ مسیح نے ہے کہا:
’ہر فلسطینی کومارڈالو
اور ان کے بچوں کو مارنا پہلے!‘۔
کیا یہ بھی انہی کا کہنا تھا
میرے دادا کی ، بابا کی،
میری سب زمینیں تمہاری ملکیت ہیں؟۔
اور اگرنہیں ہیں تو پھر مجھے تم نے
گھر سے بے گھر کیا بھلا کیوں ہے؟۔
ہیں وہ عیسیٰ مسیح میرے بھی
پر یہ بات تم کبھی نہ سمجھو گے!۔
(شاعر:فرحان توفیق، گیارہ سال)
میرا خوفناک خواب
میں نے کل شب جو خواب دیکھا تھا
اس میں حضرت مسیح آئے تھے،
مہرباں چہرہ مسکراتا ہوا۔
ہاں، مگر ان کے پیچھے جو کھڑے تھے،
وہ سب یہودی تو وحشی لگتے تھے
مکّے تانے، مجھے وہ کہتے تھے:
’یہ چلے جائیں ،دیکھنا پھر تم
کیسے ٹکڑے تمہارے کرتے ہیں!‘۔
نازک لوتھڑوں بھرا تھیلا
ننھے نازک سے لوتھڑوں کا بھرا
سرجری میز پر ہے تھیلا پڑا۔
کھلی رہ گئی ہیں آنکھیں
جن سے وہ
درد واضح ہے اب تلک
جس کو زندگی جھیل کر گزرگئی ہے ۔
تیری ماں کی یہ غم شناس آنکھیں
موہوم امید تیرتی تھی وہاں
اب وہاں نا امیدی چھاگئی ہے
تیرا ننھا سا شاخِ گل سا ہاتھ
ماں کے مضبوط ہاتھ میں پیوست
ایک لمحے کو تم چھڑا بھاگے
تتلی کے پیچھے چند قدم دوڑے
زندگی کی وہ آخرین جھلک
تیری ماں کی کھلی ہتھیلی پر
ہاتھ تیرے کا آخرین لمس
اڑتا جاتا ہے تتلیوں کی طرح۔
ماں کی آنکھوں سے بہہ رہے آنسو
تیری آنکھوں کو غسل دیتے ہیں
تیرا بازو ہے تیرے پاس دھرا
بند مٹھی جو کھل نہیں پاتی،
اس میں تتلی کے رنگ باقی ہیں
حملہ ۔۔۔حملہ در حملہ
شب گزشتہ وہ صیہونی لوگ
پھر ہمارے گھروں میں گھس آئے
گھر میں آتے ہی ہم پہ چڑھ دوڑے ایسے
جیسے کہ مار ڈالیں گے!
ہم سبھی کو نکال کر باہر
سب گھروں پرکیے تھے پھر فائر
ان گھروں پر وہ ہوگئے قابض۔
ٹینکوں والے بھی آگے آئے
اور
گھر ،محّلے کو چھوڑنے کا کہا۔
ہم وہاں سے چلے اور چلتے گئے
گھنٹے بھر میںچچا کے ہاں پہنچے،
بیٹھنے بھی نہ پائے تھے کہ وہاں
اسرائیلی فوجی آکے دھمکے
اور کہنے لگے:
’نکلو ،آگے چلو ہمارے تم!‘۔
وہ ہمیں لے کے اک احاطے میں
چھوڑگئے
توصیہونی آئے اور
مارنے پیٹنے لگے ہم کو
کچھ نے فائر بھی تھے کئے ہم پر
میرے بابا اور بھائی زخمی ہوئے
تین دن تین رات ہم تھے وہاں
بھوکے پیاسے تھے اور اندھیرا تھا
چھوٹے بچے تو روتے رہتے تھے،
اب بڑے لڑکے بھی لگے رونے
بھوک اور پیاس ان کو لگتی تھی
پھر بڑے بھائی اور کزن میرے
نکلے کھانا تلاش کرنے کو
تاکہ ہم بھوک سے نہ مرجائیں۔
وہ مگر لوٹ کر نہ آئے کبھی
کہتے ہیں بھائی مرگئے تھے وہاں
اور چچازاد زخمی ہوکے گرے
خون بہتا رہا ان کا
اور وہ بھی بھائی کے ساتھ جاکے ملے۔
حملہ اک پھرہوا احاطے پر
اندھا دھند ہم کو گولیاں ماریں۔
چھپ گیا تھا میں اینٹوں کے پیچھے
چار بہنیں اور ماں تو ماری گئی
اور بھتیجا بھی میرا ننھا سا !
میرے چچا کے سارے لڑکے بھی
میرے بھائی بھی جو چھپے ہوئے تھے۔
میں انہیں مرتے دیکھتا ہی رہا
میں وہاں دیر تک کھڑا ہی رہا
لوگ آئے اور کیا کیا کہتے رہے،
وہ صیہونیوں کو ہاتھ جوڑتے رہے،
تب بندوقوں والے دفع ہوگئے
ایمبولینسوں کو کال کی ہم نے
پر صیہونیوں کی فائرنگ سے وہ
ڈرکے مارے نہ آئے دو دن تلک
اس طرح خاندان کل میرا
میری ماں،بابا،بھائی اور بہنیں
اک بھتیجا،وہ میرا منا سا
چاچا اور اس کی بیٹیاں بیٹے
سب صیہونیوں نے مارڈالے ہیں۔
میرے بابا مجھے گھماتے تھے
اورکہتے تھے:
یہ وطن ہمارا ہے۔
میری اماں مجھے سکھاتی تھیں:
کس طرح دعا کریں،نماز پڑھیں؟
کس طرح کپڑے پہنیں
اور کیسے شرٹ کے ہم بٹن لگاتے ہیں۔
اب میں تنہا سا
چھوٹا سا لڑکا،
نعشوں کے پاس بیٹھا روتا ہوں۔
پر اکیلا نہیں محلے میں
اور بھی لوگ ہیں جو لاشوں پر
بیٹھے روتے ہیں…روئے جاتے ہیں۔
(شاعر:فواد ۔کلاس ششم)
میں ابھی ابھی 14سال کا ہوا ہوں
میرے گالوں پہ بہتے جاتے ہیں
میرے آنسو ،گرم گرم آنسو
زخم گہرے کبھی بھریں گے نہیں
امن کے خواب کرچی کرچی ہیں
ہر جگہ لاشیں اور لہوپھیلا
دھرتی ہتھیانے کے ہیں ہتھکنڈے
امن اورحُسن اب نہیںہیں یہاں
وہ تخیل کی بات ہیں اب تو
یہ زمیں تیری ہے یا میری ہے ؟
یہ اک ایسا سوال ہے جس نے
آگ بھڑکائی ہے وہ، جس نے یہاں
جسم کیا روحیں تک جلا ڈالیں
بچ گئی ہے تباہی بربادی
اب ہمارے نصیب میں کیا ہے ؟
اپنے پیاروں کے بے کفن لاشے۔
میرا دل،زہر سے بھرا یہ دل
رنج وغم ہر طرف سے گھیرے ہیں
خوف چھایا ہے چارسو میرے
دم بخود میں کھڑا یہ سوچتا ہوں:
اس خموشی میں بھی میری چیخیں
کیوں کوئی اور سن نہیں سکتا؟۔
اوخدایا!مجھے سمجھ ہی نہیں
میری چیخیں تو میرے اندر ہیں۔
میں فقط چودہ سال کا بچہ
کل ہی گزری ہے سالگرہ میری!
میں اگر بن گیا صدر جو کبھی!
میں اگر بن گیا صدر جو کبھی
تو میں اسپین کا صدر ہوں گا۔
کیونکہ اسپین اچھا لگتا ہے
بارسلونا میں میرا گھر ہوگا
پہلا پہلا یہ کام ہوگا مرا
فوج اپنی جمع کروں گا میں
اور فلسطین کوچھڑائو ںگا
اور اسرائیل کوشکست دے کر
میں فلسطیں وہاں بناؤں گا۔
پھر خریدوں گا لیموزیں کاریں
فون،لیپ ٹاپ،جیپیں،باڈی گارڈ
پھر میں لوگوں میں خوشیاں بانٹوں گا
تب سبھی لوگ مجھ سے خوش ہوکر
مجھ کو’اچھا صدر!‘ پکاریں گے،
ملک میں ا من اور خوشی ہوگی۔
I Have a Dream
میرا ایک خواب ہے…
وہ دن آئے
کہ یہودی ،عیسائی یوں دیکھیں:
جیسا میں ہوں،مجھے قبول کریں
ایک چھوٹا سا خوفزدہ بچہ
اس گلی میں کھڑا ہے تنہا سا
ان کے ہاتھوں میں جو Bazookaہیں
ان کی نالوں کو دیکھ کر سوچے:
میں نے ایسا تو کچھ کیابھی نہیں!
پھر بھلا میرے ساتھ یہ سب کیوں؟
میرا اک خواب ہے …
وہ دن آئے !۔
(شاعر: نُصیر طالب، تیرہ سال)
میں بڑا ہوکے بزنس مین ہوں گا
دولت اور شہرت میرے پاس ہوگی
بلڈنگیں میری اور پلازے میرے
کمپنیاں میری ہر جگہ ہوں گی
ہوٹلیں،ریستوران اور ٹاور
ایک اک ملک میں الگ ہوں گے
زندگی میری ایسے گزرے گی
ہر طرف امن اور سکوں ہوگا
میرے بچے بھی مجھ سے خوش ہوں گے
میں کہ بزنس مین بڑا ہوں گا!
میرے بابابھی بزنس مین ہی تھے
اب مگر کچھ نہیں وہ کرپاتے
وہ جو بمباری اسرائیل نے کی
اس نے سب کچھ تباہ کرڈالا۔
میرا بزنس یہاں سے دور ہوگا
ایشیا،امریکہ اور یورپ میں
ہاں مگر ابتدا یہاں ہوگی
یہ فلسطین ہے وطن میرا
کوئی مانے ،نہ مانے پر مجھ کو
یہ فلسطین بہت ہی پیارا ہے ۔
(شاعر: سَمِیر۔10سال)
امن
امن دریا ہے جو بنجرسی زمیںپہ گذرتا جائے
جیسے صحرا پر پڑے بارش کبھی
جیسے ہم اک پھول کو ہلکے سے پانی دیں
اور پیار کریں
ایسے ہی ہے زندگی۔
جنگ کے دوران راضی نامہ ہے
سخت آلودہ فضا میں صاف ستھری ہے ہوا
امن یہ ۔
ہم جو ہیں انسان
تو حق ہیں ہمارے جو بھی وہ
ان سبھی میں امن ہے اعلیٰ ترین۔
(شاعر:روبا رفعت القدر)
آپ خود پہل کریں
دوسروں کو بدلنے سے پہلے
آپ تبدیل خود کو کرلیں
اور پیار خود سے کریں،
مدد بھی کریں
اس سے پہلے کہ دوسروں کی مدد
آپ بڑھ کر کریں
اور پیار کریں۔
پتھر وں سے لہونچوڑنے کا
کام ممکن نہیں ہے دوست میرے!
کرہّ ارض ہم سبھی کا ہے
اس لیے وہ ہے مہرباں سب پر
تم محّبت کی طاقتوں سے فتح
کر دکھاؤ سبھی قوتوں کو
تب ہی ہر جا پہ امن ہوگا
اور امن انسان کی جو منزل ہے۔
(شاعر: نور الہدیٰ رفعت محمد الشعر)
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔












