ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا یا اسرائیل نے ایران کی اہم تنصیبات پر حملہ کیا تو اس کا بھرپور جواب دیتے ہوئے اسرائیل کی اہم تنصیبات اور خطے میں موجود امریکی توانائی کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جائے گا۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری تصادم ابھی ختم نہیں ہوا اور ضرورت پڑنے پر امریکی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی سے وابستہ ذرائع کے مطابق ایک سینیئر سیکیورٹی عہدیدار نے کہا ہے کہ امریکی میڈیا میں ایران پر ممکنہ حملوں کی خبریں ’دیوانگی‘ کے مترادف ہیں اور تہران نے ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کے لیے جامع جوابی منصوبے تیار کر رکھے ہیں۔ ان کے مطابق ایرانی مسلح افواج اسرائیل کی اہم تنصیبات اور خطے میں امریکی توانائی کے مراکز کو نشانہ بنانے کی صلاحیت اور عزم رکھتی ہیں۔
BREAKING: Iran warns it has a “comprehensive plan” to respond to potential US-Israeli attacks, including strikes on Israeli vital infrastructure and US energy sites in the region, Iranian media reports.
🔴LIVE updates: https://t.co/Dw3uYurFeQ pic.twitter.com/KEPwQ4coMD
— Al Jazeera English (@AJEnglish) July 31, 2026
اسی دوران ایران کے سپریم لیڈر کے سینیئر فوجی مشیر محسن رضائی نے کہا کہ آبنائے ہرمز کا معاملہ صرف خطے کے ممالک سے متعلق ہے اور امریکا کا وہاں کوئی کردار نہیں بنتا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ واشنگٹن کس جواز کے تحت اس اہم آبی گزرگاہ میں مداخلت کر رہا ہے، جبکہ ایران اب بھی امریکا کے ساتھ تعلقات کو تصادم کی کیفیت میں سمجھتا ہے۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کا کہنا ہے کہ وہ ایران کے خلاف اپنی بحری کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ امریکی حکام کے مطابق متعدد تجارتی جہازوں کا رخ موڑا گیا، بعض بحری جہازوں کی تلاشی لی گئی، جبکہ انسانی امداد لے جانے والے جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا کشیدگی پھر شدت اختیار کرگئی، کیا مشرق وسطیٰ ایک بڑی جنگ کے دہانے پر ہے؟
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایرانی قیادت کو اب ایسے امریکی صدر کا سامنا ہے جو صرف مذاکرات پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ عملی اقدامات پر یقین رکھتا ہے۔ ان کے بقول ماضی میں ایران نے معاہدوں کی خلاف ورزی اور عالمی برادری کو گمراہ کرنے کی کوشش کی، لیکن موجودہ امریکی انتظامیہ اس طرز عمل کو مزید برداشت نہیں کرے گی۔
ادھر پینٹاگون کے ترجمان شان پارنل نے ’آپریشن ایپک فیوری‘ کو امریکی فوجی طاقت کا واضح مظہر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کارروائی نے دنیا کو امریکی افواج کی مشترکہ جنگی صلاحیت اور مہلک قوت دکھا دی ہے۔
BREAKING
Iran has warned it could target key oil & gas infrastructure if the US/israel carries out new strikes:
• Ghawar oil field 🇸🇦
• Abqaiq & Khurais facilities 🇸🇦
• Ruways refinery & Zakum oil field 🇦🇪
• North Ghadir gas field & Ras Laffan LNG 🇶🇦
• Burgan oil field 🇰🇼 pic.twitter.com/6g1Ou76rQg— Lee Golden (@LeeGolden6) August 1, 2026
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران کے ساتھ جاری کشیدگی پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لڑائی مزید جاری رہ سکتی ہے اور امریکی عوام کو اس امکان کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایران وقتی طور پر جوابی حملے کر سکتا ہے، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ اس کی صلاحیت کمزور ہوتی جائے گی۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی بحریہ، فضائیہ اور فضائی دفاعی نظام کو شدید نقصان پہنچایا جا چکا ہے، اگرچہ اس کے پاس محدود جوابی صلاحیت اب بھی موجود ہے۔
امریکی صدر نے یہ بھی اعتراف کیا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے امکانات کمزور پڑتے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں تہران کی نیت پر اعتماد نہیں رہا کیونکہ ایرانی قیادت مذاکرات میں سچ نہیں بولتی اور حقائق کو مسخ کرتی ہے۔ ان کے بقول امریکا کا مقصد صرف ایک ہے، اور وہ ہے اس تنازع میں کامیابی حاصل کرنا۔
یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا معاہدہ: کیا نیتن یاہو سب سے بڑے سیاسی نقصان اٹھانے والے ثابت ہوں گے؟
دوسری جانب ایرانی حکام کے سخت بیانات اور امریکی قیادت کی تازہ وارننگز نے خطے میں ایک نئے تصادم کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے، جبکہ عالمی توانائی کی ترسیل، آبنائے ہرمز کی سلامتی اور مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتحال پر بھی دنیا بھر کی نظریں مرکوز ہیں۔












