پاکستان کویت شراکت داری کا نیا دور

جمعہ 31 جولائی 2026
author image

عبدالرحمان حیات

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خلیجی خطے میں تیزی سے بدلتے ہوئے سیاسی اور سلامتی کے حالات نے علاقائی تعلقات کی نوعیت کو بھی نئی سمت دینا شروع کر دی ہے۔

ایسے ماحول میں کویت کے وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح کا حالیہ دورہ پاکستان محض ایک سفارتی ملاقات یا رسمی تبادلہ خیال نہیں تھا بلکہ اس نے اس حقیقت کو اجاگر کیا کہ اسلام آباد اور کویت اپنے تعلقات کو ایک ایسے مرحلے میں داخل کر رہے ہیں جہاں تعاون صرف سفارت کاری تک محدود نہیں رہے گا بلکہ دفاع، سلامتی، معیشت، توانائی، سرمایہ کاری اور سیاسی ہم آہنگی سمیت متعدد شعبوں پر محیط ہوگا۔

یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا جب مشرق وسطیٰ کو گزشتہ کئی برسوں کے مقابلے میں غیر معمولی نوعیت کے چیلنجز درپیش ہیں۔ امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست کشیدگی، خلیجی ممالک میں حساس تنصیبات اور عسکری مراکز کو درپیش خطرات، ڈرونز، میزائلوں اور سائبر حملوں کی بڑھتی ہوئی صلاحیت نے خلیجی قیادت کو اپنی سلامتی کی حکمتِ عملی پر ازسر نو غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خطے میں سلامتی کے روایتی تصورات اب تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔

اس تناظر میں کویت کے دورے کی اہمیت اس لیے بھی دوچند ہو جاتی ہے کہ یہ پاکستان اور کویت کے درمیان سنہ 2023 میں طے پانے والے دفاعی تعاون کے معاہدے کی کویتی توثیق کے بعد پہلا بڑا اعلیٰ سطحی رابطہ تھا۔

اس پیشرفت نے دونوں ممالک کے عسکری تعلقات کو ایک مضبوط قانونی اور ادارہ جاتی بنیاد فراہم کر دی ہے جس کے نتیجے میں اب تعاون صرف اعلانات تک محدود نہیں رہے گا بلکہ مشترکہ فوجی تربیت، دفاعی اداروں کے درمیان روابط، پیشہ ورانہ مہارتوں کے تبادلے اور مشترکہ مشقوں کی صورت میں عملی شکل اختیار کرے گا۔

اگر اس دورے کو صرف دوطرفہ تعلقات کے زاویے سے دیکھا جائے تو تصویر مکمل نہیں ہوتی۔ حقیقت یہ ہے کہ پورا مشرق وسطیٰ اس وقت ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے۔ گزشتہ چند برسوں نے یہ واضح کر دیا ہے کہ صرف روایتی عسکری طاقت جدید خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے کافی نہیں رہی۔

آج دفاعی منصوبہ بندی میں میزائل، سائبر سیکیورٹی، مصنوعی ذہانت، نگرانی کے جدید نظام اور غیر روایتی خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت بنیادی اہمیت اختیار کر چکی ہے۔

اگرچہ خلیجی ممالک اب بھی امریکا کو اپنی سلامتی کے بنیادی شراکت دار کے طور پر دیکھتے ہیں تاہم حالیہ تجربات نے انہیں اس سوچ کی طرف مائل کیا ہے کہ سلامتی کا مکمل انحصار صرف ایک طاقت پر نہیں ہونا چاہیے۔

اسی لیے گزشتہ برسوں میں خلیجی ممالک نے اپنی تزویراتی شراکت داریوں کو وسعت دینے کی پالیسی اختیار کی ہے تاکہ دفاع، اسلحہ، تربیت اور ٹیکنالوجی کے میدان میں متعدد قابلِ اعتماد شراکت دار موجود ہوں۔

یہ بھی پڑھیں: مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار

یہیں پاکستان کی اہمیت نمایاں ہو جاتی ہے۔ پاکستان نہ صرف اسلامی دنیا کی بڑی اور تجربہ کار افواج میں شمار ہوتا ہے بلکہ اس نے گزشتہ برسوں میں اپنی دفاعی صنعت کو بھی مسلسل وسعت دی ہے۔

مزید برآں پاکستان کے سعودی عرب، کویت، قطر، متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ریاستوں کے ساتھ تاریخی تعلقات ہیں جبکہ دوسری جانب وہ ایران، چین اور ترکی کے ساتھ بھی مسلسل رابطے برقرار رکھنے میں کامیاب رہا ہے۔ یہی متوازن سفارت کاری پاکستان کو دیگر علاقائی قوتوں سے ممتاز بناتی ہے۔

کویت بخوبی جانتا ہے کہ پاکستان کی یہی متوازن حیثیت اس کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ دونوں ممالک کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں اور ان میں عسکری، اقتصادی اور انسانی روابط ہمیشہ نمایاں رہے ہیں لیکن موجودہ مرحلہ ان تعلقات کو ایک نئے تزویراتی مفہوم سے ہمکنار کر رہا ہے۔

اسلام آباد میں ہونے والی ملاقاتوں میں دفاعی تعاون کے ساتھ ساتھ تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، غذائی تحفظ، زراعت، معدنیات، صحت، تعلیم اور انفارمیشن ٹیکنالوجی جیسے شعبوں پر بھی تفصیلی گفتگو اسی حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ جدید ریاستوں کے نزدیک سلامتی کا تصور صرف عسکری طاقت تک محدود نہیں رہا بلکہ معاشی استحکام، سپلائی چین، توانائی کے تحفظ اور تکنیکی ترقی بھی اس کا لازمی حصہ بن چکے ہیں۔

یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ کویتی وزیر خارجہ کا یہ دورہ اچانک سامنے آنے والی پیشرفت نہیں تھا۔ اس سے پہلے کویت میں پاکستان کے سفیر نے کویتی عسکری، سلامتی اور اقتصادی قیادت کے ساتھ متعدد اہم ملاقاتیں کی تھیں جنہوں نے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کی۔

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ قربت کسی وقتی سیاسی ضرورت کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک سوچے سمجھے اور تدریجی سفارتی عمل کا حصہ ہے، جس کا مقصد دونوں ریاستوں کے درمیان مختلف اداروں کی سطح پر مضبوط اور دیرپا روابط قائم کرنا ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عبدالرحمان حیات پاکستان میں مقیم سینیئر صحافی اور سیاسی تجزیہ کار ہیں، جو عرب میڈیا سے وابستہ ہیں اور پاکستان و مشرق وسطیٰ کے سیاسی و سفارتی امور پر نظر رکھتے ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ڈونلڈ ٹرمپ کے ایلچی کا نیتن یاہو کو غزہ امن منصوبے میں رکاوٹیں نہ ڈالنے کا مشورہ

جی سی ایس ای کے بعد ٹی لیولز، گریڈز کتنے اہم اور اے لیولز سے کیسے مختلف، اس کورس کا پاکستان میں کیا مستقبل ہے؟

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ، پیٹرول 3 روپے 34 پیسے، ڈیزل 5 روپے 27 پیسے مہنگا

عمران خان کی اسپتال منتقلی کے فیصلے پر پی ٹی آئی نے جلدی مٹھائی کھالی : طلال چوہدری

ورلڈکپ ہاکی 2026: پاکستان اور بھارت میں سے آگے کون بڑھے گا، فیصلہ کل ہوگا

ویڈیو

پاکستان میں خواتین معذوری کے ساتھ کن مسائل کا سامنا کرتی ہیں؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کو ’سفید جھنڈا لہرانے‘ کا مشورہ، ایرانی حکام کو ماہر کھلاڑی بھی قرار دے دیا

6 ماہ کے اندر نئے صوبے بنانے کا فیصلہ، کیا نئی آئینی ترمیم آرہی ہے؟

کالم / تجزیہ

سپمورن سنگھ کالرا سے گلزار تک

وزیر اعلیٰ اسلام آباد کا اقتدار کب ختم ہوگا؟

انتقال کے 29 برس بعد