پاکستان کے اسٹار جیولن تھروور اور دفاعی چیمپئن ارشد ندیم کامن ویلتھ گیمز میں اپنے اعزاز کا دفاع کرنے میں ناکام رہے اور مردوں کے جیولن تھرو کے فائنل میں نویں پوزیشن حاصل کی۔
اسکاٹ اسٹون اسٹیڈیم میں ہونے والے فائنل میں ارشد ندیم کی بہترین تھرو 77.41 میٹر رہی، جو انہوں نے اپنی دوسری کوشش میں کی۔ ان کی پہلی کوشش مؤثر ثابت نہ ہو سکی، جبکہ تیسری کوشش میں انہوں نے 75.39 میٹر کی تھرو کی۔
ابتدائی دو راؤنڈز کے بعد ارشد ندیم 12 کھلاڑیوں میں پانچویں نمبر پر موجود تھے، تاہم بعد کی کوششوں میں دیگر ایتھلیٹس نے بہتر کارکردگی دکھائی، جس کے باعث وہ نویں پوزیشن پر چلے گئے اور ٹاپ 8 سے باہر ہونے کی وجہ سے مزید تھروز کا موقع نہ مل سکا۔
🚨 A WAKE UP CALL FOR PAKISTAN ATHLETICS 🇵🇰🚨
– Arshad Nadeem went from being the defending Commonwealth Games champion and Olympic gold medallist to missing the top eight. Rather than pointing fingers at the athlete, this result should force a serious discussion about the state… pic.twitter.com/NauBq9Z5wc
— Hamza Khan (@Hamzakhan17_) July 31, 2026
سری لنکا کے رمیش تھرانگا نے 89.75 میٹر کی بہترین تھرو کے ساتھ سونے کا تمغہ جیتا، جبکہ بھارت کے نیرج چوپڑا 85.83 میٹر کی تھرو کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔ ابتدائی 2 راؤنڈز کے بعد نیرج چوپڑا سرفہرست تھے، تاہم بعد میں سری لنکن ایتھلیٹ نے انہیں پیچھے چھوڑ دیا۔
ارشد ندیم نے 2022 کے کامن ویلتھ گیمز میں 90.18 میٹر کی ریکارڈ ساز تھرو کے ذریعے طلائی تمغہ جیتا تھا، جو کامن ویلتھ گیمز اور پاکستان دونوں کا ریکارڈ بھی تھا۔ تاہم اس بار وہ اپنے اعزاز کا دفاع نہ کر سکے اور پاکستان مردوں کے جیولن تھرو کے مقابلوں میں کسی بھی تمغے سے محروم رہا۔
اس سے قبل کوالیفائنگ راؤنڈ میں ارشد ندیم نے 78.63 میٹر کی بہترین تھرو کے ساتھ ساتویں پوزیشن حاصل کر کے فائنل کے لیے کوالیفائی کیا تھا، جبکہ پاکستان کے یاسر سلطان 74.36 میٹر کی تھرو کے ساتھ 14ویں نمبر پر رہے اور فائنل میں جگہ نہ بنا سکے۔












