آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد نے 8 اگست 2026ء سے ملک بھر میں غیر معینہ مدت کے لیے مکمل پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے۔ ٹرانسپورٹ رہنماؤں نے واضح کیا ہے کہ جب تک ان کے تمام مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے اور وفاقی وزیرِ پیٹرولیم پرویز علی ملک استعفیٰ نہیں دیتے، تب تک مال بردار ٹرانسپورٹ کی سرگرمیاں معطل رہیں گی۔
یہ بھی پڑھیں: مشرق وسطیٰ بحران: ٹرانسپورٹرز سبسڈی سے کیسے مستفید ہو سکتے ہیں؟ وزیر حکومت نے بتا دیا
کراچی پریس کلب میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کے رہنما ملک شہزاد اعوان نے ملک بھر کی ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشنز کا متفقہ فیصلہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر کے مال بردار ٹرانسپورٹرز مطالبات کی منظوری تک متحد ہیں اور 8 اگست سے سپلائی چین مکمل طور پر بند کر دی جائے گی۔
چارٹر آف ڈیمانڈ حکومت کو ارسال، وزیر پیٹرولیم سے استعفے کا مطالبہ
پریس کانفرنس کے دوران ملک شہزاد اعوان نے بتایا کہ گڈز ٹرانسپورٹرز نے اپنا متفقہ ’چارٹر آف ڈیمانڈ‘ وفاقی اور تمام صوبائی حکومتوں کو باقاعدہ ارسال کر دیا ہے۔ انہوں نے حکومت کی پیٹرولیم اور ترسیلات سے متعلق پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ پیٹرولیم پرویز علی ملک سے فوری استعفے کا مطالبہ بھی کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ، بھاری ٹیکسز، اور شاہراہوں پر ٹرانسپورٹرز کو درپیش انتظامی مشکلات نے اس صنعت کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ اگر حکومت نے فوری طور پر پیش کردہ مطالبات پر سنجیدگی نہ دکھائی تو ہڑتال کا دائرہ کار مزید سخت کیا جائے گا۔
ٹرانسپورٹ شعبے کے تحفظات: صنعت اور عام آدمی دونوں متاثر ہوں گے
ٹرانسپورٹ اتحاد کے رہنماؤں کے مطابق مال بردار گاڑیوں کی بندش سے بندرگاہوں سے سامان کی ترسیل، صنعتی خام مال کی نقل و حمل اور منڈیوں تک اشیائے خورونوش کی فراہمی مکمل طور پر رک جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا پنجاب بھر میں ٹرانسپورٹرز کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم
ایک مقامی گڈز ٹرانسپورٹر نے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ ڈیزل اور اسپیئر پارٹس کی قیمتیں اتنی بڑھ چکی ہیں کہ اب گاڑیاں سڑکوں پر چلانا گھاٹے کا سودا بن چکا ہے۔ ان کے بقول، ٹرانسپورٹر کے پاس ہڑتال کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچا کیونکہ موجودہ کرایوں میں اخراجات پورے کرنا ناممکن ہو گیا ہے۔
حکومتی موقف اور معاشی ماہرین کا تجزیہ
اگرچہ حکومت کی جانب سے ابھی تک اس ہڑتال کے اعلان پر باقاعدہ ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم وزارتِ مواصلات اور پیٹرولیم کے ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت ٹرانسپورٹرز کے مسائل سے آگاہ ہے اور مذاکرات کے ذریعے حل نکالنے کی کوشش کی جائے گی۔
دوسری جانب معاشی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر 8 اگست سے گڈز ٹرانسپورٹ کی ہڑتال طول پکڑتی ہے تو اس سے نہ صرف ملک بھر میں اشیائے ضروریہ کی قلت پیدا ہو جائے گی بلکہ افراطِ زر اور مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگا، جس کا براہِ راست اثر عام شہری پر پڑے گا۔
آئندہ کا لائحہ عمل
آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد نے واضح کر دیا ہے کہ گیند اب حکومت کے کورٹ میں ہے۔ اگر 8 اگست سے قبل ان کے مطالبات پر پیش رفت نہ ہوئی تو ملک گیر پہیہ جام ہڑتال سے پیدا ہونے والے تمام تر معاشی بحران کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔













