انگلینڈ کے سابق کپتان گراہم گوچ عظیم بلے باز تھے۔ 1990 میں لارڈز میں انڈیا کے خلاف پہلی اننگز میں 333 اور دوسری میں 123 رنز بنا کر انہوں نے ایک ٹیسٹ میں سب سے زیادہ 456 رنز بنانے کا ریکارڈ قائم کیا تھا۔ 1991 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف بیٹ کیری کیا۔ اس کڑی مہم جوئی میں میلکم مارشل، کرٹلی ایمبروز، کورٹنی والش اور پیٹرک پیٹرسن کی برق رفتار گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے 154 رنز بنائے۔ انگلینڈ کا مجموعی اسکور 252 تھا۔ اس سے پہلے وہ ٹیسٹ میں اس طاقتور حریف کے خلاف 4 سینچریاں بنا چکے تھے جن میں سے 1981 میں برج ٹاؤن میں سینچری کو مبصرین نے بہت سراہا ہے۔
اس اننگز کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان کا سامنا اینڈی رابرٹس، مائیکل ہولڈنگ، کولن کرافٹ اور جوئیل گارنر جیسے عظیم فاسٹ باؤلرز سے تھا۔
گراہم گوچ کا شمار ان کھلاڑیوں میں ہوتا ہے جنہوں نے کرکٹ کے بارے میں اپنی یادداشتوں، مشاہدات اور تجربات کو مختلف کتابوں کے ذریعے دوسروں تک پہنچایا ہے۔ سرِ دست ان کی آپ بیتی اور کپتانی کے بارے میں کتاب سے جاوید میانداد کی ایک اننگز کے بارے میں ان کی پسندیدگی پر کچھ عرض کرنا ہے جس کا ایک اہم پہلو ٹیل اینڈرز کے ساتھ بیٹنگ کرنے میں ان کی مہارت ہے جو آج کے پاکستانی بلے بازوں میں مفقود ہے اور اس سے ان کی صلاحیت اور جرات مندی پر سوال اٹھتا ہے، اسی وجہ سے بابر اعظم ویسٹ انڈیز کے خلاف پاکستان کے مجموعی اسکور 120 میں ناقابلِ شکست 58 رنز کا قابلِ قدر حصہ ڈال کر بھی تنقید کا نشانہ بنے ہیں۔
گوچ نے کپتانی پر اپنی کتاب میں ٹیل اینڈرز کے وکٹ پر اڑ جانے کو کپتان کے لیے بڑی پریشانیوں میں سے ایک قرار دیا ہے اور بتایا ہے کہ کس طرح بعض اوقات یہ درد سر بن جاتے ہیں۔
پاکستان ٹیم کو بھی گزشتہ برسوں میں ان کی وجہ سے نہ صرف زچ ہونا پڑا ہے بلکہ بعض موقعوں پر انہوں نے اپنی ٹیم کی جیت میں بھی اہم حصہ ڈالا ہے۔ شمر جوزف سامنے کی مثال ہیں۔ اس سے پہلے 2024 میں جنوبی افریقہ کے خلاف سینچورین ٹیسٹ میں ربادا نے ناقابل شکست 31 رنز جوڑ کر اپنی ٹیم کو دو وکٹوں سے کامیابی دلانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ 2025 میں راولپنڈی ٹیسٹ میں چار چوکوں اور چار چھکوں کی مدد سے 71 رنز بنا کر ٹیسٹ کرکٹ میں پہلی نصف سینچری اسکور کی تھی۔ ربادا کا یہ 73 واں ٹیسٹ میچ تھا۔
گوچ ٹیل اینڈرز کے بارے میں اپنے بیان میں بتاتے ہیں کہ اس درجے کے بلے بازوں کی سنگت میں جو بہترین اننگز انہوں نے دیکھی ہے وہ جاوید میانداد کی تھی جب انہوں نے 1981 میں گلمورگن کی طرف سے ایسیکس کے خلاف ڈبل سینچری کی تھی۔ گوچ اسے غیر معمولی اننگز قرار دیتے ہیں۔ ایک مرحلہ پر میانداد نے آٹھویں نمبر پر بیٹنگ کے لیے آنے والے رابن ہابس کو مسلسل آٹھ اوورز حریف باؤلروں کا سامنا کرنے سے بچائے رکھا۔ پانچویں گیند پر وہ جارحانہ شاٹ کھیل کر رنز بٹورتے اور آخری گیند پر ایک رن چرا لیتے۔ 48 گیندوں کے بعد ہابس کو بازو آزمانے کا موقع ملا تو وہ پہلی گیند پر چلتے بنے۔ میدان میں ان کی آمد کے وقت ٹیم کا اسکور 227 رنز تھا جو ان کے صفر پر آؤٹ ہونے کے وقت 270 ہو چکا تھا۔
گوچ کی آپ بیتی میں اس اننگز کا تذکرہ اس مقام پر آیا ہے جہاں انہوں نے ان کھلاڑیوں پر مشتمل آل ٹائم ورلڈ الیون بنائی جن کے ساتھی یا حریف کے طور پر انہیں کھیلنے کا موقع ملا تھا۔ اس ٹیم کے لیے بیری رچرڈز، سنیل گواسکر، ویوین رچرڈز، ایلن بارڈر اور جاوید میانداد کو انہوں نے بلے باز کے طور پر چنا۔
گوچ نے لکھا ہے کہ انہوں نے میانداد کی ٹیسٹ کرکٹ میں بہت سی شاندار اننگز دیکھی ہیں لیکن ٹوٹی ہوئی ٹرننگ پچ پر ان کی اننگز کسی معجزے سے کم نہ تھی۔ گلمورگن کے مجموعی اسکور 311 میں میانداد کا حصہ 200 رنز تھا۔ گلمورگن کو 325 منٹ میں 325 رنز کا تعاقب کرنا تھا۔ 7 رنز پر دوسری وکٹ گرنے کے بعد میانداد میدان میں اترے۔ 44 پر چار وکٹیں گر گئیں۔ گوچ نے لکھا ہے کہ ان کی ٹیم میں عمدہ اسپنر تھے، گیند بہت زیادہ ٹرن لے رہی تھی اور فیلڈر میانداد کے گرد گھیرا ڈالے کھڑے تھے۔ اس صورت حال میں جاوید میانداد نے ہر وہ شاٹ کھیلا جسے ہم جانتے ہیں اور اس کے ساتھ انہوں نے حیران کن برجستگی سے شاٹ بھی کھیلے۔ گوچ نے مزید لکھا کہ میانداد نے کوئی خراب شاٹ نہیں کھیلا اور اپنے جوڑی دار کو کھیلنے کا کم ہی موقع دیا۔ اس کے بعد وہ آٹھویں نمبر پر بیٹنگ کے لیے آنے والے رابن ہابس کے ساتھ شراکت داری کا تذکرہ کرتے ہیں۔ نواں کھلاڑی آؤٹ ہوا تو ٹیم کو جیت کے لیے 34 رنز چاہیے تھے۔ آخری وکٹ گری تو گلمورگن کی ٹیم فتح سے 13 رنز کی دوری پر تھی۔
ایک بات جسے گوچ گول کر گئے لیکن معروف کرکٹ رائٹر پیٹر روبوک اور جاوید میانداد نے اس کا تذکرہ کیا ہے۔ دونوں نے بتایا ہے کہ آخری کھلاڑی کو غلط ایل بی ڈبلیو دیا گیا تھا۔ میانداد نے اسے مضحکہ خیز فیصلہ قرار دیا اور لکھا ہے کہ ہم کسی بھی طرح ہار کے مستحق نہیں تھے۔
وکٹ پر 315 منٹ قیام کے دوران انہوں نے بہترین کھیل کا مظاہرہ کیا اور جیت کی طرف پیش قدمی کرتے رہے۔ مخالف ٹیم انہیں آؤٹ کرنے میں ناکام رہی۔
گوچ کی گواہی ایک عظیم بلے باز ہونے کے ناتے اور میدان میں اپنی آنکھوں کے سامنے اس اننگز کو دیکھنے کے باعث بہت اہمیت رکھتی ہے۔ جاوید میانداد نے اپنی کتاب ‘کٹنگ ایج’ میں گوچ کی فراخدلانہ تحسین کو اپنے لیے بہت بڑا اعزاز قرار دیا ہے۔ 1981 کے سیزن میں کاؤنٹی کرکٹ میں ان کی عمدہ کارکردگی جس میں یہ یادگار اننگز شامل تھی، اس کی بنا پر میانداد کو 1982 میں وزڈن کرکٹر آف دی ایئر ٹھہرایا گیا۔ وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے ساتویں پاکستانی کھلاڑی تھے۔
دلچسپ بات ہے کہ ممتاز کرکٹ رائٹر پیٹر روبوک نے کرکٹ کی تاریخ کی پچاس گریٹ اننگز پر مشتمل اپنی کتاب میں مختلف خوبیوں کی بنیاد پر اننگز کی درجہ بندی کی جس میں میانداد کی مذکورہ اننگز کو انہوں نے جرات مندی اور بہادری والے زمرے میں ڈالا ہے۔ گوچ کی 1981 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف 116 رنز کی اننگز بھی کتاب کے اسی حصے میں شامل ہے۔
پیٹر روبوک نے میانداد کی اننگز کے بارے میں لیفٹ آرم اسپنر رے ایسٹ کی رائے نقل کی ہے جن کا کہنا تھا کہ اس پچ پر کھیلنا ناممکن تھا اور اس کے بارے میں رپورٹ کیا جا سکتا تھا۔ ان کی دانست میں وہ اسے آسانی سے بہترین اننگز قرار دے سکتے ہیں۔ ان کے بقول: ‘یہ اس طرح سے تھا جیسے میانداد کسی مختلف وکٹ پر بیٹنگ کر رہے ہوں۔ ہمیں اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آ رہا تھا، اس نے ہمیں تماشا بنا دیا تھا۔’
صاحبو! کہنے کو تو جاوید میانداد کی یہ محض ایک اننگز تھی لیکن اپنے اندر کتنے ہی پہلو سمیٹے ہوئے تھی۔ مشکل حالات اور پر آزمائش پچ پر وہ ہمت نہیں ہارے۔ میچ ڈرا کرنے کے بجائے اپنی ٹیم کو جیت سے ہمکنار کرنے کی تگ و دو میں جٹے رہے، یہ ان کے مثبت طرز فکر کی علامت تھی، جیت کے لیے ان کی اس بھوک سے پاکستان کرکٹ ٹیم نے بھی بہت دفعہ فائدہ اٹھایا۔ آخری نمبر کے کھلاڑیوں کو آزمائش میں ڈال کر دوسرے اینڈ پر ان کی بے بسی کا تماشا دیکھنے کے بجائے باؤلروں کے حربوں کو وہ خود ناکام بناتے رہے، ساتھ میں اسکور بھی آگے بڑھتا رہا اور پھر ایسی کمال اننگز سامنے آئی کہ حریف ٹیم میں شامل گوچ جیسے عظیم کھلاڑی نے اس کی تعریفوں کے پل باندھے، کتابوں میں اس کا تذکرہ ہوا، حریف ٹیم کے باؤلر نے اسے بے نظیر قرار دیا، شائقین کرکٹ کے ذہنوں میں اس کی یاد ہمیشہ روشن رہی۔ اس میں دوسروں کے لیے یہ سبق ہے:
کسب کمال کن کہ عزیز جہاں شوی
نوجوان کھلاڑیوں کے لیے اگر کبھی نصاب تیار ہو تو اس میں اس اننگز کو ضرور شامل کیا جانا چاہیے کیونکہ یہ اعلیٰ کارکردگی کی مثال ہی نہیں بلکہ نامساعد حالات میں ایثار اور انسانی عزم کی انوکھی داستان بھی ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔












