پاکستان کے سابق وزیر خزانہ اور عوام پاکستان پارٹی کے سیکریٹری جنرل مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ وہ صوبہ سندھ کی تقسیم کی بات نہیں کرتے لیکن جس علاقے کے عوام کی خواہش ہو وہاں نئے صوبے بنانے میں کوئی حرج نہیں۔
وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پاکستان کا موجودہ نظام درست طریقے سے نہیں چل رہا، اس پر شاید ہی کسی کو اختلاف ہو، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ موجودہ نظام کا بہتر متبادل کیا ہونا چاہیے۔
مزید پڑھیں: پاکستان میں نئے صوبے بنانے کا فارمولا کیا ہونا چاہیے؟
انہوں نے کہاکہ جہاں عوام کی واضح خواہش ہو، وہاں نئے صوبے بنانے میں کوئی حرج نہیں۔
’مثال کے طور پر جنوبی پنجاب اور ہزارہ کے لوگ اگر الگ صوبہ چاہتے ہیں تو ان کی رائے کا احترام ہونا چاہیے۔ اگر کسی علاقے کے لوگ محسوس کرتے ہیں کہ ان کے مسائل موجودہ انتظامی ڈھانچے میں حل نہیں ہورہے تو انہیں اپنی انتظامی اکائی بنانے کا حق ہونا چاہیے۔ اس سے کسی قسم کی دشمنی پیدا نہیں ہوتی۔‘
انہوں نے کہاکہ جنوبی پنجاب میں صرف سرائیکی بولنے والے نہیں رہتے، لاکھوں پنجابی بولنے والے بھی آباد ہیں، اس لیے نئے صوبے کا مطلب کسی لسانی تقسیم یا نفرت کو فروغ دینا نہیں ہے۔
مفتاح اسماعیل نے کہاکہ ترقیاتی اخراجات اس عدم توازن کی واضح مثال ہیں، گزشتہ سال پنجاب کے ترقیاتی بجٹ میں لاہور ڈویژن کے ہر شہری پر قریباً 13 ہزار روپے سے زیادہ خرچ کیے گئے، جبکہ لودھراں میں فی کس قریباً 408 روپے، لیہ میں قریباً 540 روپے اور رحیم یار خان میں بھی قریباً اتنی ہی رقم خرچ ہوئی۔ جب تمام فیصلے ایک ہی مرکز سے کیے جائیں گے تو وسائل بھی اسی مرکز کے گرد زیادہ خرچ ہوں گے۔
’بہاولنگر میں نائب قاصد کی بھرتی کی منظوری بھی لاہور سے‘
انہوں نے کہاکہ بلدیاتی نظام کی بات ضرور کی جاتی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں بااختیار بلدیاتی نظام موجود نہیں۔ مثال کے طور پر بہاولنگر میں اگر کسی اسکول میں ایک نائب قاصد بھی بھرتی کرنا ہو تو منظوری لاہور سے لینا پڑتی ہے۔ پنجاب اتنا بڑا صوبہ ہے کہ اگر یہ ایک الگ ملک ہوتا تو دنیا کے بڑے ممالک میں شمار ہوتا۔ اتنے وسیع علاقے کو ایک ہی دارالحکومت سے مؤثر انداز میں چلانا ممکن نہیں۔
سابق وزیر خزانہ نے کہاکہ اس لیے اگر سرائیکی صوبہ بنایا جائے، بہاولپور کو اس کی تاریخی حیثیت کے مطابق الگ صوبہ بنایا جائے، پوٹھوہار میں الگ انتظامی اکائی قائم کی جائے یا خیبر پختونخوا میں ہزارہ صوبہ بنایا جائے تو اس میں کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ بلوچستان میں بھی پشتون اور بلوچ آبادیوں کی اپنی الگ سیاسی ترجیحات ہیں، اس لیے وہاں بھی انتظامی بنیادوں پر نئے یونٹس پر غور کیا جا سکتا ہے۔
’یہ تقسیم لسانی بنیادوں پر نہیں بلکہ عوام کی سیاسی ترجیحات اور انتظامی ضرورتوں کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔ مختلف علاقوں کے لوگوں کی سیاسی سوچ مختلف ہوتی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ انہیں اپنے معاملات چلانے کے لیے زیادہ خودمختاری دی جائے۔‘
’شہر کے فیصلے وزیراعلی ہاؤس سے ہونا درست طرز حکمرانی نہیں‘
انہوں نے کہاکہ سندھ کا معاملہ نسبتاً مختلف ہے۔ میں سندھ کی تقسیم کی حمایت نہیں کرتا، لیکن کراچی کو ایک مضبوط انتظامی یونٹ بنایا جانا چاہیے۔ کراچی کے شہریوں کو تعلیم، صحت، صفائی، سیوریج، سڑکوں، پولیس اور شہری منصوبہ بندی جیسے معاملات پر مکمل انتظامی اختیار ملنا چاہیے۔ ان کے مالی وسائل بھی براہِ راست انہی پر خرچ ہونے چاہییں تاکہ شہری مسائل کا فوری حل ممکن ہو۔
’یہ دنیا میں کہیں بھی مناسب طرزِ حکمرانی نہیں کہ ایک بڑے شہر کے روزمرہ کے فیصلے صوبائی حکومت یا وزیراعلیٰ ہاؤس سے کیے جائیں۔ کراچی جیسے شہر کو اپنے معاملات خود چلانے کا اختیار ملنا چاہیے، جبکہ سندھ کی دیگر ڈویژنز کو بھی اسی نوعیت کے اختیارات دیے جائیں تاکہ پورے صوبے میں مقامی سطح پر بہتر حکمرانی قائم ہو سکے۔‘
انہوں نے کہاکہ بعض لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اگر پاکستان کو متعدد انتظامی یونٹس یا نئے صوبوں میں تقسیم کیا گیا تو انتظامی اخراجات بہت بڑھ جائیں گے۔ میری رائے میں یہ اعتراض اپنی جگہ درست ہے اور اس پر بحث ہونی چاہیے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اصلاحات ہی نہ کی جائیں۔
’حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ہاں حکمران طبقے کی مراعات اور سرکاری اخراجات غیر معمولی ہیں۔ وزیراعلیٰ کے سرکاری جہاز، متعدد بلٹ پروف گاڑیاں، طویل پروٹوکول، غیر ضروری عملہ اور شاہانہ اخراجات کسی بھی مؤثر انتظامی نظام کا حصہ نہیں ہوتے۔ دنیا کی بڑی ریاستوں، جیسے امریکا کی پنسلوانیا یا جرمنی کی باویریا کے سربراہان بھی اس سطح کی سرکاری آسائشیں استعمال نہیں کرتے۔‘
مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ اگر نئے انتظامی یونٹس بنائے جائیں تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہر جگہ یہی شاہانہ نظام قائم کیا جائے۔ واضح قانون بنایا جا سکتا ہے کہ سرکاری عہدیداروں کی تنخواہیں اور مراعات محدود ہوں، غیر ضروری پروٹوکول ختم کیا جائے اور عوامی وسائل صرف عوامی خدمات پر خرچ ہوں۔
انہوں نے کہاکہ اگر کراچی کے اسکول کراچی کے منتخب نمائندوں کے ماتحت ہوں تو اس کے لیے نئے اساتذہ یا نئی بیوروکریسی پیدا نہیں ہوگی۔ اساتذہ تو پہلے ہی موجود ہیں، صرف ان کے فیصلے مقامی سطح پر ہوں گے۔ اسی طرح صحت، صفائی، سیوریج، بلدیات اور دیگر محکمے بھی موجود ہیں، فرق صرف یہ ہوگا کہ ان کا کنٹرول مقامی انتظامیہ کے پاس ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت ایک مرکزی بیوروکریسی پورے صوبے کے معاملات دیکھتی ہے، حالانکہ بہتر طریقہ یہ ہے کہ ہر ڈویژن یا انتظامی یونٹ اپنے اسکول، اسپتال، بلدیات اور دیگر اداروں کی نگرانی خود کرے۔ اس سے نہ صرف فیصلے تیز ہوں گے بلکہ عوامی مسائل بھی بہتر انداز میں حل ہوں گے۔
’یہ تصور درست نہیں کہ اس سے لازماً بیوروکریسی بڑھ جائے گی۔ حقیقت میں مرکزی بیوروکریسی کا حجم کم ہو سکتا ہے کیونکہ اختیارات نیچے منتقل ہو جائیں گے۔‘
انہوں نے کہاکہ انتظامی اختیارات عوام کے قریب ہونے چاہییں، جب فیصلے مقامی سطح پر ہوں گے تو لوگوں کے مسائل بھی جلد حل ہوں گے۔ مثال کے طور پر اگر کسی علاقے میں صحت کا بحران پیدا ہو جائے یا اسکولوں میں مسائل ہوں تو مقامی حکومت فوری کارروائی کر سکے گی، جبکہ موجودہ نظام میں ہر فیصلہ صوبائی دارالحکومت سے ہوتا ہے اور اسی وجہ سے تاخیر اور غفلت پیدا ہوتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ کراچی کی موجودہ صورتحال بھی اسی مرکزی نظام کا نتیجہ ہے، شہر کے بنیادی مسائل جیسے صفائی، سیوریج، سڑکیں، پانی اور شہری منصوبہ بندی ان اداروں کے ہاتھ میں ہیں جو براہ راست کراچی کے عوام کے سامنے جوابدہ نہیں، یہی وجہ ہے کہ شہری مسائل برسوں سے حل نہیں ہو پا رہے۔
سندھ کا مسائل بھی کراچی جتنے اہم
مفتاح اسماعیل نے کہاکہ میری رائے میں کراچی ہی نہیں بلکہ سندھ کی تمام ڈویژنژ کو بااختیار انتظامی یونٹس بنایا جانا چاہیے، ہر علاقے کو اپنی تعلیم، صحت، بلدیات اور ترقیاتی منصوبوں کے بارے میں خود فیصلے کرنے کا اختیار ہونا چاہیے، اس سے نہ صرف کراچی بلکہ اندرون سندھ کے عوام کو بھی فائدہ ہوگا۔
مفتاح اسماعیل نے کہاکہ دادو، خیرپور، سکھر، لاڑکانہ اور دیگر علاقوں کے بچوں کو بھی معیاری تعلیم اور صحت کی سہولتیں ملنی چاہییں۔ موجودہ نظام میں دیہی سندھ کے لاکھوں بچے بنیادی تعلیم سے محروم ہیں، بہت سے بچے اپنی جماعت کے مطابق پڑھ بھی نہیں سکتے، اور غذائی قلت کا شکار ہیں۔ یہ بھی اتنی ہی بڑی قومی ذمہ داری ہے جتنی کراچی کے مسائل۔
کسی جماعت یا خاندان کی ایک صوبے یا شہر پر اجارہ داری نہیں ہونی چاہیے
ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی سیاسی جماعت یا خاندان کو کسی شہر یا صوبے پر اجارہ داری حاصل نہیں ہونی چاہیے۔ سیاست کا مقصد عوام کی خدمت ہونا چاہیے۔
سابق وزیر خزانہ نے کہاکہ قدرتی طور پر جن لوگوں کو موجودہ نظام سے فائدہ پہنچ رہا ہے، وہ اس میں تبدیلی نہیں چاہیں گے۔ جن خاندانوں، جماعتوں یا شخصیات کے سیاسی اور مالی مفادات موجودہ ڈھانچے سے وابستہ ہیں، ان کے لیے اختیارات کی تقسیم قبول کرنا آسان نہیں ہوگا۔ لیکن ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ ملک اور عوام کے لیے کیا بہتر ہے۔
انہوں نے کہاکہ بعض لوگ سوال کرتے ہیں کہ اگر بڑی سیاسی جماعتیں اس خیال کی مخالفت کریں گی تو ایسی اصلاحات نافذ کیسے ہوں گی؟ میرا خیال ہے کہ جب سیاسی قیادت کسی معاملے پر سنجیدہ ہو تو آئینی ترامیم اور بڑے فیصلے ممکن ہو جاتے ہیں۔ ہم نے ماضی میں بھی دیکھا ہے کہ اہم آئینی ترامیم بہت کم وقت میں منظور ہوئی ہیں۔ اس لیے اگر حقیقی سیاسی ارادہ موجود ہو تو نئے انتظامی یونٹس یا اختیارات کی تقسیم بھی ممکن ہے۔
اصل مسئلہ سیاسی عزم کا ہے، نہ کہ آئینی رکاوٹیں
انہوں نے کہاکہ 2009 میں این ایف سی ایوارڈ نافذ ہوا اور اس کے بعد اٹھارویں آئینی ترمیم بھی منظور ہوئی۔ اس کے بعد سے مختلف جماعتیں وفاق اور صوبوں میں حکومت کرتی رہی ہیں، لیکن کسی بھی حکومت نے بااختیار بلدیاتی نظام قائم نہیں کیا، اگر ان کی واقعی نیت ہوتی تو آج مقامی حکومتیں مضبوط اور خودمختار ہوتیں۔
مفتاح اسماعیل کے مطابق کراچی میں بلدیاتی ادارہ موجود ضرور ہے، مگر اس کے پاس حقیقی اختیارات نہیں۔ شہر میں صفائی، بلڈنگ کنٹرول، شہری منصوبہ بندی، کئی ترقیاتی منصوبے اور دیگر بنیادی معاملات اب بھی صوبائی حکومت کے اختیار میں ہیں۔ جب مقامی حکومت اپنے شہر کے بنیادی فیصلے ہی نہ کر سکے تو اس سے اچھی کارکردگی کی توقع بھی نہیں کی جا سکتی۔
مئیر اور وزیراعلیٰ کا براہ راست انتخاب
انہوں نے کہاکہ میری رائے میں میئر کا انتخاب براہِ راست عوام کے ووٹ سے ہونا چاہیے، نہ کہ بالواسطہ طریقے سے۔ اسی طرح وزرائے اعلیٰ کے انتخاب پر بھی غور ہونا چاہیے تاکہ عوام براہِ راست اپنے صوبے کی قیادت منتخب کریں۔
انہوں نے کہاکہ اس طریقہ کار سے ایسے قابل لوگ بھی سامنے آ سکیں گے جو کسی بڑی سیاسی جماعت یا سیاسی خاندان کا حصہ نہیں ہیں۔ موجودہ نظام میں اکثر کسی اہم انتظامی عہدے تک پہنچنے کے لیے کسی بڑی جماعت میں شامل ہونا ضروری سمجھا جاتا ہے، جبکہ براہِ راست انتخابات اس رکاوٹ کو کم کر سکتے ہیں۔
مفاہمت ناگزیر ہے
انہوں نے کہاکہ ملک میں انتظامی اصلاحات کے حوالے سے مختلف جماعتوں کے درمیان اختلاف موجود ہے۔ بعض حلقے صرف اس لیے مخالفت کرتے ہیں کہ تجویز کسی مخالف سیاسی گروہ یا ریاستی ادارے کی طرف سے آئی ہے، حالانکہ کسی بھی تجویز کا فیصلہ اس کی افادیت کی بنیاد پر ہونا چاہیے، نہ کہ اس کے پیش کرنے والے کی بنیاد پر۔
مفتاح اسماعیل نے کہاکہ میرے خیال میں مستقبل میں کسی نہ کسی سطح پر سیاسی مفاہمت ناگزیر ہوگی۔ چاہے وہ قومی حکومت کی صورت میں ہو، کسی عبوری انتظام کے ذریعے ہو یا کسی اور سیاسی فارمولے کے تحت، لیکن تمام بڑی سیاسی قوتوں کی شمولیت کے بغیر ملک میں بنیادی اصلاحات کے لیے آگے بڑھانا مشکل ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال میں ایک بڑی مشکل یہ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اعتماد قریباً ختم ہو چکا ہے۔ اس ماحول میں اگر کوئی بڑی آئینی یا انتظامی اصلاحات کرنی ہیں تو تمام بڑی سیاسی قوتوں کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔ صرف ایک جماعت یا ایک اتحاد کی بنیاد پر ایسی تبدیلیاں دیرپا نہیں ہو سکتیں۔
ن لیگ بھی اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کی حامی نہیں
انہوں نے کہاکہ میری رائے میں مسلم لیگ (ن) بھی مکمل طور پر اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کی حامی نہیں، کیونکہ ہر حکومت چاہتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ اختیارات اس کے پاس رہیں۔ اسی طرح تحریک انصاف کے بہت سے کارکن اور رہنما بھی بعض تجاویز کی صرف اس وجہ سے مخالفت کرتے ہیں کہ وہ موجودہ نظام یا ریاستی اداروں کی طرف سے سامنے آتی ہیں۔ ہمیں تجاویز کو ان کی افادیت کی بنیاد پر دیکھنا چاہیے، نہ کہ صرف اس بنیاد پر کہ وہ کس کی طرف سے آئی ہیں۔
’حکومت کے اندر بھی اختلافات کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔ مختلف وزرا ایک دوسرے پر تنقید کرتے ہیں اور بعض اوقات حکومتی پالیسیوں سے اختلاف بھی ظاہر کرتے ہیں۔ مضبوط سیاسی قیادت کی ایک علامت یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنی ٹیم میں نظم و ضبط برقرار رکھے اور اختلافات کو مؤثر انداز میں سنبھالے۔‘
انہوں نے کہاکہ کسی بھی وزیراعظم کی اصل طاقت صرف آئینی اختیار سے نہیں بلکہ اس کی سیاسی اور اخلاقی ساکھ سے آتی ہے۔ اگر قیادت کے پاس مضبوط سیاسی اختیار ہو تو وہ اپنی کابینہ میں نظم قائم رکھ سکتی ہے اور ضروری فیصلے بھی کر سکتی ہے۔
موجودہ حکومت نے اصلاحات نہ کیں تو عبوری یا نئی حکومت کرے گی
انہوں نے کہاکہ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ کیا چند ماہ کے اندر نیا انتظامی نظام نافذ ہو جائےگا، تو میرے خیال میں اس بارے میں یقین سے کچھ کہنا مشکل ہے، اس نوعیت کی اصلاحات صرف اعلانات سے نہیں ہوتیں بلکہ ان کے لیے سیاسی اتفاق، آئینی تبدیلیاں اور عملی منصوبہ بندی درکار ہوتی ہے۔
’البتہ میرا خیال ہے کہ اگر موجودہ حکومت اپنے باقی ماندہ عرصے میں کوئی بڑی اصلاحات کرنا چاہتی ہے تو اس کے لیے وقت بہت محدود ہے۔ اگر آئندہ چند ماہ میں اس سمت میں پیشرفت نہ ہوئی تو پھر عام انتخابات کے بعد نئی سیاسی صورتحال میں ہی اس پر دوبارہ غور ہو سکے گا۔‘
انہوں نے کہاکہ گزشتہ ڈھائی برس میں حکومت کی مجموعی کارکردگی بھی عوام کی توقعات پر پوری نہیں اتر سکی۔ معیشت، گورننس اور سیاسی استحکام جیسے بنیادی شعبوں میں وہ نتائج سامنے نہیں آئے جن کی امید کی جا رہی تھی۔ اس لیے اگر حکومت اپنے دور کا کوئی مثبت اور دیرپا اثر چھوڑنا چاہتی ہے تو اسے انتظامی اصلاحات جیسے بڑے فیصلوں کی طرف جانا ہوگا۔
مفتاح اسماعیل نے کہاکہ میری رائے میں اگر موجودہ سیاسی قیادت یہ کام نہیں کر سکتی تو مستقبل میں کسی عبوری یا قومی اتفاقِ رائے پر مبنی حکومت کو یہ ذمہ داری ادا کرنا پڑ سکتی ہے تاکہ ملک کے انتظامی ڈھانچے میں بنیادی اصلاحات کی جا سکیں۔
کراچی کی بدحالی کی تین بنیادی وجوہات
مفتاح اسماعیل کے مطابق کراچی کی موجودہ بدحالی کی بنیادی وجوہات تین ہیں۔
’پہلی وجہ پیپلز پارٹی کی طویل حکمرانی اور صوبائی سطح پر ناقص انتظام ہے، جس کے باعث شہری مسائل مسلسل بڑھتے گئے۔ دوسری وجہ ایم کیو ایم کی وہ سیاست ہے جس نے کئی برس تک شہر کی سیاست اور انتظامی نظام کو غیر معمولی کشیدگی کا شکار رکھا۔‘
مزید پڑھیں: ملک میں نئے صوبے بنانے کی بازگشت، بلاول بھٹو بول پڑے
انہوں نے بات کو جاری رکھتے ہوئے کہاکہ تیسری اور سب سے اہم وجہ ہمارا آئینی اور انتظامی ڈھانچہ ہے، جس میں تمام مالی وسائل اور اختیارات صوبائی حکومت کے پاس مرتکز ہیں، جبکہ مقامی حکومتیں عملی طور پر بے اختیار ہیں۔
صوبوں کے اندر وسائل کی تقسیم کا منصفانہ نظام
انہوں نے کہاکہ این ایف سی ایوارڈ کے ذریعے وفاق سے صوبوں کو وسائل منتقل کیے جاتے ہیں، لیکن اسی طرح صوبوں کے اندر بھی ایک مؤثر اور منصفانہ پروونشل فنانس کمیشن ہونا چاہیے تاکہ وسائل اضلاع اور مقامی حکومتوں تک بھی منصفانہ انداز میں پہنچ سکیں۔ اگر صوبے خود وسائل نچلی سطح تک منتقل نہیں کرتے تو اختیارات کی تقسیم کا مقصد ادھورا رہ جاتا ہے۔












