پاکستان مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے سیکریٹری جنرل چوہدری طارق فاروق نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے سیاسی مفادات کے لیے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی تحریک کو استعمال کرنے کی کوشش کی، جبکہ مہاجرین جموں و کشمیر کی 12 نشستیں ختم کرنے کا مطالبہ بھی اسی سوچ کا حصہ تھا۔
وی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ جب تک تحریک عوامی حقوق تک محدود رہی، حکومت پاکستان اور قومی سلامتی کے اداروں نے بھی اس کی بات سنی، لیکن جب بعض عناصر نے آزاد کشمیر کو ایک آزاد ریاست بنانے اور مہاجرین کی نشستیں ختم کرنے جیسے مطالبات اٹھائے تو یہ قومی مفاد سے متصادم تھا۔
مزید پڑھیں: آزادکشمیر انتخابات: دوسرے مرحلے میں خاتون سمیت 7 نئے امیدوار پہلی بار اسمبلی میں پہنچ گئے
چوہدری طارق فاروق نے کہاکہ پیپلز پارٹی پنجاب میں اپنی سیاسی جگہ نہ بنا سکی تو اس نے آزاد کشمیر میں حکومت بنانے کے لیے مختلف راستے اختیار کیے۔
انہوں نے کہاکہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ بعض سیاسی عناصر کی قربت نے صورتحال کو مزید پیچیدہ کیا، حالانکہ کشمیری عوام کا اصل مقصد ہمیشہ پاکستان کے ساتھ اپنی وابستگی کو مضبوط کرنا اور تکمیل پاکستان کی جدوجہد رہا ہے۔
’ایکشن کمیٹی سے مذاکرات کریں گے، لیکن قومی مفاد پر سمجھوتہ نہیں ہوگا‘
طارق فاروق نے کہاکہ مسلم لیگ (ن) ابتدا ہی سے اس مؤقف پر قائم رہی ہے کہ عوامی مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔ سابق حکومت کو چاہیے تھا کہ عوامی ایکشن کمیٹی سے بروقت مکالمہ کرتی اور عوام کے معاشی مسائل کو مثبت انداز میں حل کرتی، لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہاکہ سیاست کا دوسرا نام مکالمہ ہے، تاہم اگر عوامی حقوق کے مطالبات کو اس مقام تک لے جایا جائے جہاں قومی سلامتی، ریاستی مفاد اور مسئلہ کشمیر کی بنیادی حیثیت متاثر ہونے لگے تو پھر حکومت خاموش نہیں رہ سکتی۔
ان کا کہنا تھا کہ آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر صرف موجودہ آزاد علاقے کی نمائندہ حکومت نہیں بلکہ پوری ریاست جموں و کشمیر کی نمائندہ حکومت ہے، اس لیے کوئی بھی ایسا مطالبہ قبول نہیں کیا جا سکتا جو ریاست کے تاریخی اور آئینی تشخص سے متصادم ہو۔
انہوں نے کہاکہ حکومت پاکستان نے آزاد کشمیر کو بجلی پر سبسڈی دی، آٹے پر سبسڈی دی، صحت، تعلیم، سڑکوں اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کے لیے اربوں روپے فراہم کیے۔ دانش اسکول قائم کیے جا رہے ہیں اور دانش یونیورسٹی بنانے کا بھی اعلان کیا گیا ہے، اس لیے یہ تاثر درست نہیں کہ آزاد کشمیر کے عوام کو بنیادی حقوق حاصل نہیں۔
مہاجرین کی نشستیں ختم کرنے کا مطالبہ کس کا ایجنڈا تھا؟
طارق فاروق نے کہاکہ جب تحریک عوامی حقوق تک محدود تھی تو لوگ اس کے ساتھ کھڑے رہے، لیکن جب مہاجرین جموں و کشمیر کی 12 نشستیں ختم کرنے جیسے مطالبات سامنے آئے تو عوام نے بھی سوال اٹھانا شروع کر دیا۔
انہوں نے کہاکہ یہ سوچ کشمیری عوام کی نہیں ہو سکتی کیونکہ کشمیریوں کی جدوجہد ہمیشہ پوری ریاست جموں و کشمیر کی آزادی اور پاکستان کے ساتھ الحاق کے لیے رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم صرف 4 ہزار مربع میل کے آزاد علاقے کی بات نہیں کرتے بلکہ ہماری جدوجہد پوری ریاست جموں و کشمیر، جس میں وادی کشمیر، جموں، لداخ اور دیگر تمام علاقے شامل ہیں، کے لیے ہے اور ہمارا نصب العین تکمیل پاکستان ہے۔
’مسلم لیگ (ن) کی کامیابی حیران کن نہیں‘
طارق فاروق نے کہاکہ انتخابات کے پہلے دو مراحل میں مسلم لیگ (ن) کی کامیابی کسی کے لیے حیران کن نہیں ہونی چاہیے کیونکہ پارٹی گزشتہ 5 برس سے مسلسل انتخابی تیاری کر رہی تھی۔
انہوں نے کہاکہ 2021 کے انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ (ن) کو حکومت میں شامل ہونے کی پیشکش بھی کی تھی، لیکن پارٹی نے یہ پیشکش مسترد کردی کیونکہ اس نے عوام کے درمیان رہ کر اگلے انتخابات کی تیاری کا فیصلہ کیا تھا۔
انہوں نے کہاکہ 2021 کا الیکشن مسلم لیگ (ن) سے چھین لیا گیا تھا، تاہم اس بار عوام نے دوبارہ اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
’مسلم لیگ (ن) کے دور میں آزاد کشمیر کا نقشہ بدلا‘
طارق فاروق نے کہاکہ 2016 سے 2021 تک مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے آزاد کشمیر میں تاریخی ترقیاتی منصوبے مکمل کیے۔
انہوں نے کہاکہ اس عرصے میں آزاد کشمیر کا ترقیاتی بجٹ کئی گنا بڑھا، وزیراعظم اور اسمبلی کے اختیارات میں اضافہ ہوا، بڑے پیمانے پر انفراسٹرکچر تیار کیا گیا، سرکاری اداروں میں اصلاحات متعارف کرائی گئیں، این ٹی ایس کے ذریعے شفاف بھرتیوں کا نظام قائم کیا گیا، نوجوانوں کے لیے مواقع پیدا کیے گئے اور جامعات کو وسائل فراہم کیے گئے۔
ان کے مطابق یہی وہ کارکردگی تھی جس کی بنیاد پر عوام نے ایک بار پھر مسلم لیگ (ن) پر اعتماد کیا۔
’دھاندلی کا الزام بے بنیاد ہے‘
پیپلز پارٹی کی جانب سے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کے جواب میں طارق فاروق نے کہاکہ آزاد کشمیر میں کسی قسم کی دھاندلی نہیں ہوئی۔
انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی سمجھتی تھی کہ مختصر مدت کی حکومت کے بعد بھی وہ انتخابات جیت جائے گی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے منظم انداز میں انتخابی مہم چلائی جبکہ دوسری جماعتیں اپنی تیاری مکمل نہیں کر سکیں۔
انہوں نے طنزیہ انداز میں کہاکہ جو جماعت اپنی تیاری نہ کرے وہ شکست کے بعد الزامات ہی لگاتی ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ عوام نے کارکردگی کی بنیاد پر مسلم لیگ (ن) کے حق میں فیصلہ دیا۔
’وزیراعظم کا فیصلہ پارٹی کرے گی، جسے نامزد کیا گیا سب اس کے ساتھ کھڑے ہوں گے‘
وزیراعظم آزاد کشمیر کے لیے مختلف ناموں کی گردش کے سوال پر طارق فاروق نے کہاکہ مسلم لیگ (ن) میں قیادت کے حوالے سے کبھی ابہام نہیں رہا۔ ماضی میں بھی جب پارٹی کو حکومت بنانے کا موقع ملا تو قائد مسلم لیگ (ن) نواز شریف نے جس رہنما کو وزیراعظم نامزد کیا، پوری جماعت اس کے ساتھ کھڑی ہوئی۔
انہوں نے کہاکہ پارٹی میں کئی سینیئر اور تجربہ کار رہنما موجود ہیں، جن میں شاہ غلام قادر سمیت دیگر شخصیات شامل ہیں، تاہم حتمی فیصلہ پارٹی قیادت کرے گی۔
اپنے نام کے وزیراعظم کے امیدواروں میں شامل ہونے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہاکہ وہ کئی اہم وزارتوں میں کام کر چکے ہیں اور آئینی، گورننس اور ترقیاتی شعبوں میں ذمہ داریاں نبھانے کا تجربہ رکھتے ہیں۔ اگر پارٹی انہیں کسی ذمہ داری کے لیے موزوں سمجھے تو یہ ان کے لیے اعزاز ہوگا، تاہم وہ ہمیشہ پارٹی ڈسپلن کے پابند رہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ جس ساتھی کو بھی پارٹی منتخب کرے گی، ہم سب اس کے ساتھ کھڑے ہوں گے اور حکومت کی کامیابی کے لیے کام کریں گے۔
’صدر آزاد کشمیر کے لیے اس بار سیاسی شخصیت لانے کا عندیہ‘
صدر آزاد کشمیر کے عہدے سے متعلق سوال پر طارق فاروق نے کہاکہ یہ ایک اہم آئینی اور سیاسی منصب ہے، اس لیے ماضی کے تجربات کو سامنے رکھتے ہوئے اس مرتبہ پارٹی کسی سینیئر سیاسی رہنما کو اس ذمہ داری کے لیے زیر غور لا سکتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ سابق صدر مسعود خان ایک قابل اور باصلاحیت شخصیت تھے، تاہم موجودہ حالات غیر معمولی نوعیت کے ہیں اور ایسے ماحول میں سیاسی معاملات کو سمجھنے والی قیادت کی ضرورت ہوتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ صدر اور وزیراعظم کو ایک ٹیم کے طور پر کام کرنا ہوتا ہے اور کامیابی ہمیشہ اجتماعی قیادت کی ہوتی ہے، کسی ایک فرد کی نہیں۔
’پونچھ ڈویژن میں 5 نشستیں جیتنے کی توقع‘
تیسرے مرحلے کے انتخابات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے طارق فاروق نے کہاکہ الیکشن کمیشن کے مطابق پونچھ ڈویژن میں انتخابات 10 اگست کو ہوں گے اور مسلم لیگ (ن) کو امید ہے کہ وہ کم از کم 5 نشستوں پر کامیابی حاصل کرے گی۔
انہوں نے کہاکہ باغ، حویلی اور دیگر علاقوں میں مجموعی طور پر انتخابی ماحول مسلم لیگ (ن) کے حق میں ہے، تاہم تمام جماعتوں کو آزادانہ انتخابی مہم چلانے اور ووٹرز کو آزادانہ رائے کے اظہار کا موقع ملنا چاہیے۔
طارق فاروق نے کہاکہ پیپلز پارٹی انتخابی شکست کے خدشات کے باعث بعض ایسے عناصر کے ساتھ سیاسی روابط استوار کررہی ہے جو قومی مفاد کے مطابق کردار ادا نہیں کر رہے۔
انہوں نے کہاکہ قومی سطح کی جماعتوں کو وقتی سیاسی فائدے کے لیے ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ اس سے وقتی طور پر کسی جماعت کو فائدہ ہو سکتا ہے، لیکن مجموعی طور پر قوم کو نقصان پہنچتا ہے۔
’نواز شریف کے پونچھ ڈویژن میں جلسے سے بڑا فرق پڑے گا‘
مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کے ممکنہ انتخابی جلسے کے حوالے سے طارق فاروق نے کہاکہ انہیں اطلاعات ملی ہیں کہ نواز شریف پونچھ ڈویژن میں انتخابی جلسہ کریں گے، تاہم حتمی پروگرام کا اعلان بعد میں ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ 2021 کے انتخابات میں بھی حویلی میں نواز شریف کے جلسے میں بڑی تعداد میں عوام شریک ہوئے تھے اور اس مرتبہ بھی اگر وہ جلسہ کرتے ہیں تو انتخابی مہم پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
انہوں نے کہاکہ کشمیری عوام نواز شریف سے دو بنیادی وجوہات کی بنا پر محبت کرتے ہیں۔ پہلی وجہ ان کا کشمیری پس منظر ہے، جبکہ دوسری وجہ آزاد کشمیر میں ان کے دور حکومت میں ہونے والے ریکارڈ ترقیاتی منصوبے ہیں۔
طارق فاروق نے کہاکہ نواز شریف نے ہمیشہ آزاد کشمیر میں ترقی، تعلیم، نوجوانوں کے روشن مستقبل، جامعات کے فروغ، اسکالرشپس، لیپ ٹاپ پروگرام اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری پر توجہ دی، جبکہ دیگر سیاسی رہنما ایسی ترقیاتی سوچ پیش نہیں کر سکے۔
’بھارت نے فوجی شکست کے بعد سوشل میڈیا جنگ شروع کی‘
بھارت اور حالیہ علاقائی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے طارق فاروق نے کہاکہ کشمیری عوام نے ہمیشہ ہر مشکل وقت میں پاکستان اور پاک افواج کا ساتھ دیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ حالیہ پاک بھارت کشیدگی میں جب پاکستان نے مؤثر جواب دیا تو کشمیری عوام نے اس کامیابی کو اپنی کامیابی سمجھا اور بھرپور خوشی کا اظہار کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ روایتی محاذ پر ناکامی کے بعد بھارت نے سوشل میڈیا کے ذریعے پاکستان کے خلاف ہائبرڈ اور ففتھ جنریشن وار شروع کی، جس کا مقصد کشمیری نوجوانوں اور بیرون ملک مقیم کشمیریوں کو گمراہ کرنا تھا۔
انہوں نے کہاکہ اس مہم میں بعض سیاسی عناصر بھی دانستہ یا نادانستہ طور پر استعمال ہوئے، جس سے آزاد کشمیر میں غیر ضروری انتشار پیدا ہوا۔
’کشمیریوں کا مستقبل پاکستان سے وابستہ ہے‘
چوہدری طارق فاروق نے کہاکہ کشمیری عوام نے 1947 سے لے کر آج تک پاکستان کے ساتھ اپنی وابستگی کا عملی ثبوت دیا ہے اور ہر جنگ میں پاک افواج کے شانہ بشانہ کھڑے رہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ نئی حکومت جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سمیت تمام متعلقہ حلقوں سے مذاکرات کرے گی، عوامی مسائل حل کرے گی اور جہاں مشکلات ہوں گی انہیں دور کیا جائے گا، کیونکہ حکومت کی ذمہ داری عوام کی خدمت ہے۔
مزید پڑھیں: پیپلز پارٹی آزاد کشمیر الیکشن میں شکست کے بعد بوکھلاہٹ کا شکار ہے، ن لیگ کا بلاول بھٹو کی تنقید پر جواب
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان مخالف بیانیے یا مسئلہ کشمیر کے بنیادی نظریے سے انحراف کی کسی کوشش کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہاکہ کشمیریوں کو محبت، اعتماد اور سہارا ہمیشہ پاکستان نے دیا ہے، اسی لیے ہمارا نصب العین آج بھی تکمیل پاکستان ہے اور ہم اسی منزل کی طرف آگے بڑھ رہے ہیں۔













