پاکستان مسلم لیگ ن نے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کی تنقید پر جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ میرپور ڈویژن کے انتخابی نتائج سامنے آنے کے بعد پیپلز پارٹی بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال اور وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس کی اور آزاد کشمیر الیکشن سے متعلق گفتگو کی۔
مزید پڑھیں: پیپلز پارٹی آزاد کشمیر میں ہار تسلیم کرے، بلاول بھٹو کو اپنے بیانیے اور کام پر توجہ دینی چاہیے، مریم نواز
احسن اقبال نے کہاکہ وہ میرپور ڈویژن کے عوام کے انتہائی مشکور ہیں جنہوں نے مسلم لیگ (ن) پر اعتماد کا اظہار کیا۔
’کارکردگی کو ووٹ ملا‘
احسن اقبال نے کہاکہ میرپور ڈویژن کے عوام نے کارکردگی کو ووٹ دیا ہے اور پنجاب کی طرح ترقی کرنا آزاد کشمیر کے عوام کا بھی حق ہے۔
انہوں نے کہاکہ مسلم لیگ (ن) اور آزاد کشمیر کے عوام کا تعلق چولی دامن کا ہے، جس کا اظہار عوام نے اپنے ووٹ کے ذریعے کیا۔
’پیپلز پارٹی شکست کے بعد بوکھلاہٹ کا شکار ہے‘
وفاقی وزیر نے کہاکہ آزاد کشمیر میں انتخابی نتائج کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور اسی وجہ سے بے بنیاد بیانات دیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے الزامات غیر جمہوری اور ناقابل قبول ہیں۔
’الزامات کشمیری عوام کے ووٹ کی توہین ہیں‘
احسن اقبال نے کہا کہ شکست کے بعد بیان بازی کرنا دراصل کشمیری عوام کے ووٹ اور ان کے جمہوری فیصلے کی توہین ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بلاول بھٹو زرداری الزام لگاتے ہوئے یہ بھی بھول گئے کہ آزاد کشمیر میں حکومت ان ہی کی جماعت کی ہے۔
میرپور ڈویژن میں صاف و شفاف انتخابات ہوئے، طارق فضل
اس موقع پر وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا کہ میرپور ڈویژن میں صاف اور شفاف انتخابات ہوئے، جن میں پاکستان مسلم لیگ (ن) نے 13 میں سے 9 نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔
انہوں نے کہا کہ آزاد اور منصفانہ انتخابات آزاد کشمیر میں امن، استحکام اور جمہوری عمل کے فروغ کے لیے ناگزیر ہیں۔
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام نے سندھ اور پنجاب کی حکومتوں کی کارکردگی کا موازنہ کرتے ہوئے اپنا فیصلہ دیا اور کارکردگی کی بنیاد پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کو ووٹ دیا۔













