تائیوان نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ ماہ اس کی سرکاری ایجنسیوں کو بیرونِ ملک سے مصنوعی ذہانت کی مدد سے کیے گئے سائبر حملوں کا نشانہ بنایا گیا، تاہم متاثرہ اداروں نے حملوں سے نمٹنے اور اپنے نظام کو محفوظ بنانے میں کامیابی حاصل کرلی۔ تائیوان کی وزارتِ ڈیجیٹل امور کے مطابق حملوں میں ہیکرز نے روایتی انسانی کارروائیوں کے ساتھ مصنوعی ذہانت پر مبنی ایجنٹس کو بھی استعمال کیا۔
وزارتِ ڈیجیٹل امور کے مطابق سائبر سیکیورٹی کی نگرانی کرنے والے اداروں نے جولائی میں سرکاری ایجنسیوں کو نشانہ بنانے والے ایک غیر معمولی حملے کا سراغ لگایا۔ 20 جولائی سے تائیوان کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سائبر سیکیورٹی نے تحقیقات کے دوران سرکاری اداروں کو متعدد سکیورٹی الرٹس جاری کیے۔
Taiwan detected AI-assisted cyberattacks on government agencies last month coming from overseas but the affected bodies successfully ‘handled’ the incident, the Ministry of Digital Affairs said. More here: https://t.co/XXuRvVpR7o
— Reuters Tech News (@ReutersTech) August 13, 2026
تحقیقات سے معلوم ہوا کہ حملے واضح طور پر بیرونِ ملک سے کیے گئے تھے۔ ہیکرز نے ایک ایسے طریقہ کار کو استعمال کیا جس میں انسانی سطح پر دستی کارروائیوں کے ساتھ مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس بھی شامل تھے۔ تائیوانی وزارت کے مطابق حملوں کے ذرائع، طریقہ کار اور ان سے متاثر ہونے والے دائرہ کار کی مکمل تحقیقات کی گئیں اور متاثرہ اداروں نے ضروری کارروائی مکمل کرلی۔
حکومت نے مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والے سائبر خطرات کے اس نئے انداز کے پیش نظر سرکاری اداروں کے لیے حفاظتی رہنما اصول بھی وضع کیے ہیں، جبکہ سائبر حملوں کا ابتدائی مرحلے میں سراغ لگانے اور انہیں روکنے کے لیے مختلف اداروں کے نظام کی نگرانی مزید سخت کردی گئی ہے۔
تائیوان کی حکومت نے اپنے بیان میں چین کو ان حملوں کا ذمہ دار قرار نہیں دیا۔ چین کے تائیوان امور کے دفتر نے بھی حملے سے متعلق تبصرے کے لیے فوری طور پر درخواست کا جواب نہیں دیا۔
یہ بھی پڑھیں:امریکی نوجوان سائبر اٹیکرز کے نشانے پر کیوں؟
تائیوان طویل عرصے سے چین پر ’ہائبرڈ جنگ‘ کے مختلف حربے استعمال کرنے کا الزام عائد کرتا رہا ہے، جن میں جزیرے کے قریب فوجی مشقیں، غلط معلومات پر مبنی مہمات اور سائبر حملے شامل ہیں۔ بیجنگ تائیوان کو چین کا حصہ قرار دیتا ہے جبکہ تائیوان کی جمہوری حکومت چینی خودمختاری کے دعوے کو مسترد کرتی ہے۔
تائیوان کے نیشنل سیکیورٹی بیورو نے رواں سال جنوری میں بتایا تھا کہ 2025 کے دوران ملک کے اہم بنیادی ڈھانچے، جن میں اسپتال اور بینک بھی شامل ہیں، کو چینی سائبر حملوں میں 6 فیصد اضافہ ہوا اور روزانہ اوسطاً 26 لاکھ 30 ہزار حملے ریکارڈ کیے گئے۔ بیورو کے مطابق بعض سائبر حملے چینی فوجی مشقوں کے ساتھ بھی بیک وقت کیے گئے، جنہیں ’’ہائبرڈ خطرات‘‘ کے طور پر دیکھا گیا۔
Taiwan confirms AI-driven attack after Israeli firm investigation
Taiwan detected AI-assisted cyberattacks on government agencies in July, while Israeli cybersecurity firm Dream uncovered the campaign targeting Taiwanese government…https://t.co/yL2wngSxyy pic.twitter.com/9hcJ9fgkIf
— Ynet Global (@ynetnews) August 13, 2026
تائیوان کی جانب سے سائبر حملے کی تصدیق ایک اسرائیلی سائبر سیکیورٹی کمپنی کی رپورٹ کے ایک روز بعد سامنے آئی۔ کمپنی ’ڈریم‘ نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ اس نے ایشیا کی ایک نامعلوم حکومت کے خلاف مصنوعی ذہانت سے چلنے والی ہیکنگ مہم کا سراغ لگایا ہے۔
کمپنی کے مطابق مصنوعی ذہانت پر مبنی متعدد ایجنٹس نے مل کر کام کرتے ہوئے سرکاری حکام کے درجنوں پاس ورڈز حاصل کیے، تائیوان کی وزارتِ انصاف سے متعلق اہلکاروں کا ڈیٹا چوری کیا اور ملک کے جوہری تحفظ کے ادارے کے نظام میں موجود کمزوریوں کا جائزہ لیا۔
ڈریم نے بتایا کہ وہ ہیکنگ مہم کی کارروائیوں کو اس وقت دوبارہ ترتیب دینے میں کامیاب ہوئی جب اسے مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس کا مکمل آپریشنل ورک اسپیس حاصل ہوا۔ تاہم کمپنی نے رائٹرز کو نہ تو چوری شدہ ڈیٹا فراہم کیا اور نہ ہی ہدف بننے والی حکومت کا نام بتایا۔ بعد ازاں فنانشل ٹائمز نے، جسے ڈریم کی تحقیقات کے بارے میں سب سے پہلے بریفنگ دی گئی تھی، نشاندہی کی کہ ہدف بننے والے ادارے تائیوان کے تھے۔














