وندے ماترم تنازع: کانگریس کا صرف 2 اشعار گانے پر اصرار، بی جے پی نے ’نئی مسلم لیگ‘ قرار دے دیا

جمعرات 20 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارت میں قومی نغمے ’وندے ماترم‘ کی مکمل یا مختصر شکل گانے کے معاملے پر کانگریس اور حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے درمیان تنازع شدت اختیار کرگیا ہے۔ کانگریس کی ورکنگ کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ پارٹی کی تقریبات میں وندے ماترم کے صرف پہلے دو اشعار گائے جائیں گے۔

کانگریس نے اپنے فیصلے کے لیے 1937 کی ایک قرارداد کا حوالہ دیا، جس میں پارٹی تقریبات میں قومی نغمے کے صرف پہلے 2 اشعار گانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ کانگریس کے جنرل سیکریٹری کے سی وینوگوپال نے کہا کہ پارٹی کا موجودہ مؤقف اسی تاریخی فیصلے کے مطابق ہے۔

انہوں نے کہا کہ 1937 میں مہاتما گاندھی، جواہر لعل نہرو، رابندر ناتھ ٹیگور، سبھاش چندر بوس اور سردار پٹیل سمیت اہم رہنما موجود تھے اور کانگریس کا مؤقف کسی نئے فیصلے کا نتیجہ نہیں۔

بی جے پی نے کانگریس کے فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اپوزیشن جماعت قومی نغمے کی توہین کر رہی ہے۔ بی جے پی کے قومی ترجمان سدھانشو تریویدی نے کانگریس کو ’نئی مسلم لیگ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے کانگریس کی حب الوطنی اور ملک سے وفاداری پر سوال اٹھتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کانگریس نے ثابت کردیا ہے کہ وہ خود کو آئین، پارلیمنٹ اور ملک سے بالاتر سمجھتی ہے۔ انہوں نے کانگریس کے مؤقف کو 1931 میں مسلم لیگ کی جانب سے وندے ماترم کی مکمل شکل گانے کی مخالفت سے بھی جوڑا۔

یہ بھی پڑھیں:’وندے ماترم‘ کے الفاظ اسلامی عقائد سے متصادم ہیں، مولانا ارشد مدنی کا دوٹوک اعلان

دوسری جانب کانگریس رہنما کے سی وینوگوپال نے بی جے پی پر قومی نغمے اور قومی ترانے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا الزام عائد کیا۔ ان کے مطابق بی جے پی کا یہ تنازع اٹھانا دیگر قومی مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔

بھارت میں وندے ماترم کے مکمل ورژن کا تنازع حالیہ دنوں میں اس وقت دوبارہ شدت اختیار کرگیا تھا جب سابق کانگریس صدر سونیا گاندھی کی ایک تقریب میں مکمل قومی نغمہ گائے جانے کے دوران حرکات پر بی جے پی نے اعتراض کیا تھا۔ کانگریس نے اس تشریح کو مسترد کردیا تھا۔

کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کو بھی حال ہی میں گوا میں وندے ماترم کا مختصر ورژن گانے پر بی جے پی کی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ کھرگے نے جواباً کہا تھا کہ انہوں نے وہی ورژن گایا جو ماضی میں گاندھی، نہرو، پٹیل اور اٹل بہاری واجپائی جیسے رہنما گاتے رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp