کیا عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کا سپریم کورٹ کا فیصلہ حکومت کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے؟

جمعرات 20 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم کورٹ کی جانب سے سابق وزیراعظم عمران خان کو جیل سے اسپتال منتقل کرنے کے فیصلے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ حکومتی صفوں میں فیصلے پر تحفظات، مختلف وفاقی وزرا اور مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کے متضاد ردعمل اور تحریک انصاف کے ممکنہ سیاسی کردار کے حوالے سے قیاس آرائیوں نے اس معاملے کو محض ایک عدالتی فیصلے سے بڑھ کر سیاسی اہمیت دے دی ہے۔ تاہم تجزیہ کاروں کی رائے میں موجودہ صورتحال کو حکومت کے خاتمے یا فوری سیاسی تبدیلی سے جوڑنا قبل از وقت ہوگا۔

مسلم لیگ ن محسوس کررہی ہے کہ اسے جھٹکا لگا ہے، مظہر عباس

سینیئر تجزیہ کار مظہر عباس کے مطابق حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ کے فیصلے پر ردعمل میں تاخیر اس بات کی علامت ہے کہ حکومتی حلقے اس فیصلے کے سیاسی مضمرات پر غور کررہے ہیں، اگر معاملہ محض قانونی نوعیت کا ہوتا تو حکومت کی جانب سے فوری ردعمل سامنے آنا چاہیے تھا، تاہم وزیر قانون کی جانب سے فیصلے کو چیلنج کرنے کے اعلان سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت اس معاملے کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔

مزید پڑھیں: کیا عمران خان کو بنی گالہ منتقل کرنے کی تجویز زیر غور ہے؟ اسد قیصر نے بتادیا

مظہر عباس کے مطابق مسلم لیگ (ن) شاید یہ محسوس کر رہی ہے کہ اسے ایک سیاسی جھٹکا لگا ہے۔ ایک طرف پارٹی سے وابستہ رہنماؤں کے خلاف سخت فیصلے اور گرفتاریاں ہو رہی ہوں اور دوسری جانب اچانک ملک کے اہم ترین سیاسی رہنما عمران خان کو جیل سے اسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ سامنے آئے تو حکومتی جماعت کے لیے اس کے سیاسی اثرات پر غور کرنا فطری امر ہے۔

انہوں نے کہاکہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت سپریم کورٹ کے فیصلے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہوگی اور یہ سمجھنے کی کوشش کر رہی ہوگی کہ فیصلہ اس مرحلے پر کیوں آیا۔

ان کے مطابق فیصلے میں عمران خان کے خاندان کے بعض افراد کو رسائی اور میڈیکل بورڈ سے متعلق جو انتظامات کیے گئے ہیں، وہ بھی حکومتی حلقوں کے لیے سوالات کا باعث بن رہے ہیں۔

حکومت کو گھبرانے کی کوئی واضح وجہ دکھائی نہیں دیتی، منیب فاروق

دوسری جانب سینیئر تجزیہ کار منیب فاروق نے حکومت کے لیے فوری خطرے کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان میں حکومتوں کی تبدیلیاں ماضی میں مختلف سیاسی اور طاقت کے توازن سے جڑی حکمت عملیوں کے تحت ہوتی رہی ہیں، تاہم موجودہ حالات میں حکومت کو گھبرانے کی کوئی واضح وجہ دکھائی نہیں دیتی۔

انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ کا فیصلہ حکومت اور مجموعی سیاسی نظام کے لیے ضرور حیران کن ہے، لیکن اسے حکومت کے خاتمے کی ابتدا قرار دینا درست نہیں ہوگا۔

انہوں نے ماضی کی مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ جب نواز شریف کو جیل سے اسپتال منتقل کیا گیا یا بعد ازاں بیرون ملک جانے کا معاملہ سامنے آیا اس وقت سیاسی حالات مختلف تھے۔

منیب فاروق نے کہاکہ موجودہ صورتحال میں طاقت کے مراکز کو عمران خان کی حمایت یا سیاسی طور پر ان کی ضرورت پہلے جیسی محسوس نہیں ہوتی، اس لیے حکومت کے لیے فوری گھبراہٹ کا جواز موجود نہیں۔

ان کے مطابق صرف ایک عدالتی فیصلے کی بنیاد پر حکومت کے مستقبل کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔

وفاقی وزرا اس فیصلے سے خوش نظر نہیں آتے، منصور علی خان

سینیئر تجزیہ کار منصور علی خان نے بھی اس فیصلے کو حکومت کے لیے فوری خطرہ قرار نہیں دیا، تاہم ان کے مطابق حکومتی حلقوں میں فیصلے پر تحفظات اور آئندہ کی صورتحال کے حوالے سے تجسس ضرور پایا جاتا ہے۔

منصور علی خان نے کہاکہ وفاقی وزرا بھی اس فیصلے سے خوش نظر نہیں آتے، تاہم زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں سیاسی نظام کس سمت جاتا ہے۔

انہوں نے حالیہ عرصے میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے نظام میں تبدیلی اور اسے ازسرنو ترتیب دینے سے متعلق بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ اگر نظام کو ’ری شیفل‘ کرنے کی بات ہو رہی ہے تو اس عمل میں پاکستان تحریک انصاف کا کردار بھی اہم ہو سکتا ہے۔

ان کے مطابق یہ صورتحال تحریک انصاف کے لیے بھی ایک اہم موقع ہے کہ وہ دوبارہ سیاست میں اپنی جگہ بنائے۔

ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی جانب سے نئے صوبوں کے قیام سمیت بعض معاملات پر پہلے بھی مؤقف سامنے آتا رہا ہے، تاہم ان معاملات پر آگے بڑھنے کے لیے عمران خان کی منظوری اہم سمجھی جاتی رہی ہے۔

منصور علی خان نے وزیر اعلٰی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے ٹی وی انٹرویوز اور مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ اس سے یہ تاثر ضرور ملتا ہے کہ پس پردہ معاملات میں کچھ پیشرفت ہو سکتی ہے۔

انہوں نے کہاکہ اب حکومت کی کوشش یہی ہوگی کہ کسی بھی ممکنہ رابطے یا مفاہمت کے حوالے سے یہ تاثر پیدا نہ ہو کہ تحریک انصاف کے ساتھ کوئی باقاعدہ ڈیل طے پا رہی ہے۔

ان کے مطابق اگر تحریک انصاف کو کسی حد تک ریلیف ملتا بھی ہے تو اس کا مطلب حکومت کا خاتمہ نہیں ہوگا بلکہ ممکن ہے کہ معاملات مرحلہ وار آگے بڑھیں اور دونوں جانب سے اقدامات کے بدلے اقدامات کا سلسلہ شروع ہو۔

سپریم کورٹ کے فیصلے پر ن لیگی رہنماؤں کے ردعمل میں تضاد ہے، شہزاد اقبال

سینیئر تجزیہ کار شہزاد اقبال نے کہاکہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کے ردعمل میں واضح تضاد موجود ہے، کچھ رہنما فیصلے پر عملدرآمد کی بات کر رہے ہیں، بعض اسے حکومت کے خلاف سازش قرار دے رہے ہیں جبکہ کچھ اسے چیلنج کرنے کا اعلان کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ موجودہ صورتحال میں یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ عمران خان کے ساتھ کوئی ڈیل ہو چکی ہے یا وہ جلد جیل سے باہر آنے والے ہیں۔

شہزاد اقبال نے کہا کہ اگر کسی ڈیل کا مقصد عمران خان کو ریلیف دینا ہوتا تو ماضی میں ان کی صحت یا آنکھوں سے متعلق معاملات کے دوران بھی ایسا راستہ اختیار کیا جا سکتا تھا۔

انہوں نے کہاکہ اگر مستقبل میں کوئی سیاسی معاہدہ یا سمجھوتا ہوتا ہے تو اس کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنا بھی مشکل ہوگا۔ ان کے خیال میں موجودہ صورتحال میں اصل معاملہ نئے صوبوں سمیت وسیع تر سیاسی معاملات سے جڑا ہو سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: عمران خان اور بشریٰ بی بی کا اسٹیبلشمنٹ سے رابطہ نہیں، دال میں کچھ کالا ہوا تو نکال دیں گے، رانا ثنااللہ

تجزیہ کاروں کی گفتگو سے مجموعی طور پر یہ تاثر سامنے آتا ہے کہ سپریم کورٹ کا عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ حکومت کے لیے سیاسی طور پر تشویش اور غیر یقینی ضرور پیدا کرتا ہے، لیکن اسے فی الحال حکومت کے لیے براہ راست خطرہ یا حکومت کے خاتمے کی علامت قرار نہیں دیا جا سکتا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp