فائیو آئیز کی نگرانی کو عالمی سطح پر قانونی اور عوامی مزاحمت کا سامنا

ہفتہ 22 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا، برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ پر مشتمل ’فائیو آئیز‘ انٹیلی جنس اتحاد کی وسیع نگرانی کی طاقت کو عدالتوں، قانون ساز اداروں اور شہری آزادیوں کی تنظیموں کی جانب سے بڑھتے ہوئے چیلنجز کا سامنا ہے۔

معروف امریکی جریدے فارن پالیسی ان فوکس (ایف پی آئی ایف) میں شائع کردہ رپورٹ کے مطابق فائیو آئیز ممالک کے درمیان سگنلز انٹیلیجنس اور نگرانی سے متعلق معلومات کا تبادلہ کئی دہائیوں سے جاری ہے، تاہم 2013 میں ایڈورڈ سنوڈن کی جانب سے خفیہ نگرانی کے انکشافات کے بعد اس نظام کی عالمی سطح پر زیادہ جانچ پڑتال شروع ہوئی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ کی جانب سے 2025 میں ایپل کو خفیہ طور پر ایک تکنیکی حکم جاری کیا گیا تھا، جس کے تحت مبینہ طور پر انکرپٹڈ ڈیٹا تک حکومتی رسائی ممکن بنانے کے لیے سیکیورٹی نظام میں تبدیلی کا تقاضا کیا گیا۔ ایپل نے برطانیہ میں اپنی ’ایڈوانسڈ ڈیٹا پروٹیکشن‘ سہولت واپس لے لی اور اس حکم کو عدالت میں چیلنج کیا۔ 2026 میں بھی برطانوی حکومت کی جانب سے نئے حکم کے بعد ایپل نے دوبارہ قانونی کارروائی شروع کی۔

یہ بھی پڑھیں:امریکی انٹیلیجنس ادارے میں بڑے پیمانے پر برطرفیاں، قومی سلامتی پر سوال اٹھ گئے

رپورٹ کے مطابق نگرانی کے خلاف مزاحمت صرف برطانیہ تک محدود نہیں۔ مختلف ممالک کی ڈیجیٹل حقوق کی تنظیمیں عدالتوں اور پارلیمانوں کے ذریعے حکومتی نگرانی کے اختیارات کو محدود کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ جنوبی افریقہ سمیت کئی ممالک میں عوامی مہمات نے بھی وسیع پیمانے پر سرکاری نگرانی کے خلاف مؤثر کردار ادا کیا ہے۔

امریکا میں بھی شہری آزادیوں کی تنظیموں نے غیر ملکیوں کی الیکٹرانک مواصلات کی بڑے پیمانے پر نگرانی کی اجازت دینے والے ’سیکشن 702‘ میں مزید حفاظتی اقدامات کا مطالبہ کیا۔ رپورٹ کے مطابق جون 2026 میں امریکی ایوان نمائندگان نے اس قانون کی توسیع مسترد کردی، جس کے بعد یہ شق ختم ہوگئی، اگرچہ بعض موجودہ اجازت ناموں کے تحت نگرانی کا عمل محدود مدت تک جاری رہنے کی گنجائش موجود ہے۔

ایف پی آئی ایف کے مطابق فائیو آئیز کی نگرانی کے خلاف قانونی اور سیاسی مزاحمت اب سرحدوں سے آگے بڑھ چکی ہے، تاہم مستقبل میں اس نظام کو مؤثر طور پر چیلنج کرنے کے لیے ماہر تنظیموں کے ساتھ وسیع تر عوامی شمولیت بھی ضروری ہوگی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp