سندھ حکومت نے نوجوان تاجر میر رضا علی قتل کیس میں شفاف انکوائری کے لیے جوڈیشل کمیشن قائم کردیا ہے۔ سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کی نامزدگی پر جسٹس عمر سیال کو اس کمیشن کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
کمیشن کو 30 دن کے اندر اپنی رپورٹ مرتب کرکے پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ کمیشن یہ تعین کرے گا کہ آیا پولیس تفتیش میں کوئی کوتاہی ہوئی، شواہد چھپانے کی کوشش کی گئی یا متعلقہ افسران نے غفلت برتی۔ اس کے علاوہ مزید فارنزک تجزیے اور قانونی کارروائی کی سفارشات بھی کمیشن کا حصہ ہوں گی۔
مقتول کے اہل خانہ کے اعتراضات
مقتول میر رضا کے والد اور ان کے وکیل جبران ناصر نے جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کو سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔
وکیل جبران ناصر کے مطابق جوڈیشل کمیشن ایک انکوائری باڈی ہے، جو پولیس کی طرح نہ تو فوجداری تفتیش کر سکتی ہے اور نہ ہی عدالت میں چالان/چارج شیٹ جمع کروا سکتی ہے۔
جے آئی ٹی تشکیل دینے کا مطالبہ
اہل خانہ نے جوڈیشل کمیشن کے بجائے پولیس، رینجرز، ایف آئی اے، آئی بی، آئی ایس آئی اور ایم آئی کے نمائندوں پر مشتمل بااختیار جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دینے کی استدعا کی ہے۔
عدلیہ کو ذمہ دار بنانے کا خدشہ
درخواست گزار کے مطابق پولیس اور سابقہ تفتیشی ٹیم کی ناکامیوں پر عدلیہ کو کمیشن کے ذریعے ذمہ دار ٹھہرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
سندھ ہائیکورٹ کا تحریری حکم نامہ
سندھ ہائیکورٹ کے 2 رکنی آئینی بینچ نے جوڈیشل کمیشن کے خلاف اور جے آئی ٹی کی تشکیل کے لیے دائر درخواست پر تحریری حکم نامہ جاری کر دیا ہے، عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ، پراسیکیوٹر جنرل اور ڈپٹی اٹارنی جنرل کو 31 اگست کے لیے نوٹس جاری کرتے ہوئے معاونت کے لیے طلب کر لیا ہے۔
عدالت یہ جائزہ لے گی کہ آیا وہ براہِ راست جے آئی ٹی بنانے کا حکم دے سکتی ہے یا نہیں۔
پولیس تفتیش کا حتمی چالان روک دیا گیا
عدالت عالیہ نے کیس کے زیر التوا ہونے کے دوران موجودہ تفتیشی ٹیم کو فائنل چارج شیٹ یا حتمی رپورٹ جمع کرانے سے روک دیا ہے۔
سٹی کورٹ میں پیشرفت
دوسری جانب جوڈیشل مجسٹریٹ ایسٹ کی عدالت میں تفتیشی افسر نے موبائل فون اور دیگر اشیا کی فارنزک رپورٹس کا انتظار ہونے کا بتایا، جس پر عدالت نے پیشرفت رپورٹ جمع کرانے کی مدت 7 ستمبر تک بڑھا دی۔
کاروباری پارٹنر کی ضمانت میں توسیع
کراچی کی مقامی عدالت نے میر رضا کے بزنس پارٹنر محمد احمد کی عبوری ضمانت قبل از گرفتاری میں یکم ستمبر تک توسیع کردی ہے۔
سندھ حکومت اور میئر کراچی کا مؤقف
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہاکہ حکومت نے خاندان کے تحفظات اور تحفظات تفتیش کی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے ہی ہائیکورٹ سے جوڈیشل کمیشن کی درخواست کی تھی تاکہ غیر جانبدارانہ حقیقت سامنے آ سکے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ کمیشن کے قیام سے پولیس کی باضابطہ تفتیش پر اثر نہیں پڑے گا۔
واضح رہے کہ 25 سالہ تاجر میر رضا علی 28 جولائی کو پی ای سی ایچ ایس سے پراسرار طور پر لاپتا ہوئے تھے اور اگلے روز ان کی لاش گلستانِ جوہر سے ملی تھی۔
پہلے اسے خودکشی قرار دینے کی کوشش کی گئی، تاہم دوسری پوسٹ مارٹم رپورٹ اور طبی شواہد نے ان کے قتل کی تصدیق کی، جس کے بعد مقدمے میں قتل کی دفعات شامل کی گئی تھیں۔













