الیکٹرک گاڑیوں میں جدید ڈیزائن کے لیے استعمال ہونے والے چھپے ہوئے ڈور ہینڈلز سلامتی کے لیے بڑا خطرہ بن گئے۔
چین میں گاڑیوں کی تاریخ کی بڑی واپسی کے تحت 40 لاکھ سے زائد گاڑیاں واپس بلائی جا رہی ہیں جن میں 29 لاکھ 80 ہزار سے زائد چین میں تیار شدہ ٹیسلا کی گاڑیاں بھی شامل ہیں۔
ٹیسلا کے علاوہ چین کی نامور کار ساز کمپنیوں ‘ایکس پینگ‘، ‘شیاؤمی اور ‘جیلی کی گاڑیاں بھی اس فیصلے سے متاثر ہوئی ہیں۔
گاڑیاں واپس بلانے کی وجوہات
ہنگامی صورتحال میں خطرہ: ٹیسلا کے مطابق ماڈل 3، وائی، ایس اور ایکس کے ڈور ہینڈلز کا رنگ اندرونی ڈیزائن سے ملتا جلتا ہے جس کی وجہ سے حادثے یا پاور ناکامی کی صورت میں مسافروں کا باہر نکلنا اور ریسکیو ٹیموں کے لیے دروازے کھولنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔
خوفناک حادثات کا پس منظر: چین میں شیاؤمی کی گاڑیوں کے دو مہلک حادثات کے بعد یہ ڈیزائن شدید تنقید کی زد میں آیا جہاں بجلی کی فراہمی منقطع ہونے کی وجہ سے دروازے نہ کھل سکے اور قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔
عارضی حل
متاثرہ گاڑیوں کے اندرونی دروازوں پر معلوماتی وارننگ لیبلز لگائے جائیں گے جبکہ سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کے ذریعے حادثے کی صورت میں شیشے خود بخود نیچے کرنے کا نظام فعال کیا جائے گا۔
چین نے ہڈن ڈور ہینڈلز پر عارضی حل کے بجائے مستقل پابندی کا فیصلہ کیا ہے۔ یکم جنوری 2027 سے نافذ العمل ہونے والے نئے قوانین کے تحت چین میں صرف وہی گاڑیاں فروخت ہو سکیں گی جن میں اندر اور باہر مکینیکل (دستی) ہینڈل موجود ہوں گے۔
امریکی سیفٹی ریگولیٹرز بھی ٹیسلا کے ان ہینڈلز سے متعلق رپورٹس اور بچوں کے گاڑی میں پھنسنے کے واقعات کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ تمام کار ساز کمپنیوں کے لیے ایمرجنسی ایگزٹ کے نئے عالمی معیارات مقرر کیے جا سکیں۔














