پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی رہنما اور رکن قومی اسمبلی سحر کامران نے کہا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کی شادی ہوئی تو نواز شریف، مریم نواز، اپوزیشن سمیت تمام سیاسی مخالفین کو دعوت دی جائے گی، شادی کے حوالے سے فی الحال میڈیا میں قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں، حتمی بات خاندان ہی کرے گا، نئے صوبوں کا قیام اگر پارلیمنٹ میں اتفاقِ رائے کے ذریعے ہوا تو پیپلز پارٹی ساتھ ہوگی لیکن اگر بلڈوز کیا گیا اور قرارداد کے ذریعے ہوا تو پیپلزپارٹی عوام کے ساتھ کھڑی ہوگی۔
وی ایکسکلوزیو میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ بلدیاتی اداروں کو مضبوط کرنے کے لیے اختیارات نچلی سطح تک منتقل کیے جانے چاہییں، پاکستان پیپلز پارٹی نے کبھی نفرت اور سیاست میں تفریق کو فروغ نہیں دیا، آزاد کشمیر کے انتخابات کو شفاف قرار نہیں دیا جا سکتا۔
مزید پڑھیں: کسی ’پرنسز گلوریا‘ کو نہیں جانتا، بلاول بھٹو منگنی کی خبروں پر بول پڑے
سحر کامران نے بلاول بھٹو زرداری کی شادی سے متعلق سوال پر کہا کہ اس وقت جو کچھ سامنے آ رہا ہے، وہ زیادہ تر میڈیا کی قیاس آرائیاں ہیں، کبھی شادی کی تاریخ کے حوالے سے خبریں آتی ہیں، کبھی گھر اور کبھی دلہن کی تلاش کی باتیں کی جاتی ہیں، جبکہ مصنوعی ذہانت سے بننے والی تصاویر اور ویڈیوز کے باعث حقیقی معلومات تک پہنچنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔
پی پی رہنما نے کہاکہ شادی ایک خاندانی معاملہ ہے اور خاندان کے افراد کو اپنی ذاتی زندگی کے حوالے سے فیصلے کرنے کا مکمل حق حاصل ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کی بہنیں، والد اور دیگر اہل خانہ جب کسی معاملے پر فیصلہ کریں گے تو یقیناً سب کے ساتھ خوشی کی خبر شیئر کریں گے۔
انہوں نے کہاکہ بھٹو خاندان نے بہت کم خوشیاں دیکھی ہیں اور بہت سی قربانیاں دی ہیں، اس لیے اگر خوشی کا کوئی موقع آتا ہے تو اسے بھرپور انداز میں منایا جائے گا۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان پیپلز پارٹی نے کبھی سیاست کو نفرت اور دشمنی کا ذریعہ نہیں بنایا۔ پارٹی پر تنقید ہوتی رہی ہے، لیکن پیپلز پارٹی نے ہمیشہ سیاسی رواداری اور جمہوری اقدار کو مقدم رکھا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب بلاول بھٹو کی شادی ہوگی تو دعوت نامے سب کو بھیجے جائیں گے، اس میں یہ تفریق نہیں ہوگی کہ کون سیاسی حلیف ہے اور کون مخالف ہے۔
سحر کامران نے کہاکہ پیپلز پارٹی سندھ کی محبت اور رواداری کی روایات کے ساتھ ساتھ پاکستان کی مہمان نوازی کی روایت کو بھی برقرار رکھے گی۔ نواز شریف، مریم نواز سمیت تمام سیاسی مخالفین کو بھی دعوت دی جائے گی، تاہم دعوت قبول کرکے تقریب میں شرکت کرنا ہر فرد کا اپنا فیصلہ ہوگا۔
نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سحر کامران نے کہاکہ جہاں انتظامی معاملات بہتر بنانے کے لیے اصلاحات کی ضرورت ہو وہاں اقدامات ہونے چاہییں۔ بلدیاتی اداروں کو مضبوط بنایا جانا چاہیے اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کا عمل مکمل ہونا چاہیے، اگر نئے صوبوں کے قیام سے عوام اور انتظامیہ کے مسائل حل ہوتے ہیں تو اس معاملے پر غور کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ اگر نئے صوبوں کے قیام کے لیے پارلیمنٹ میں اتفاقِ رائے پیدا ہوتا ہے اور پارلیمنٹ اسے منظور کرتی ہے تو پیپلز پارٹی اسے عوام کی خواہش تصور کرے گی، تاہم اگر اس معاملے کو زبردستی مسلط کرنے یا پارلیمانی عمل کو نظرانداز کرکے قرارداد کے ذریعے کرنے کی کوشش کی گئی تو پاکستان پیپلز پارٹی پاکستان کے عوام کے ساتھ کھڑی ہوگی۔
سحر کامران نے مزید کہاکہ نئے صوبوں کے قیام کے ساتھ وسائل، بیوروکریسی اور انتظامی ڈھانچے کے مسائل بھی سامنے آئیں گے۔ محض صوبوں کی تعداد بڑھانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے، اصل توجہ انتظامی نظام کی بہتری پر ہونی چاہیے۔
انہوں نے بیوروکریسی کو بھی نظام کی کارکردگی میں ایک اہم مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہاکہ ایسے عناصر کو بھی جوابدہ ہونا چاہیے جو عوام کے ووٹ سے منتخب ہو کر نہیں آتے۔
انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی نے جمہوریت کی بحالی اور اس کے استحکام کے لیے ماضی میں بڑی قربانیاں دی ہیں اور آج بھی انتخابات سمیت مختلف معاملات پر پارٹی کے تحفظات موجود ہیں، تاہم جمہوری نظام اور عوام کے حقِ رائے دہی پر پارٹی کا مؤقف واضح ہے۔
سحر کامران نے کہاکہ وہ سب سے پہلے پاکستانی ہیں، ان کا تعلق ایک سیاسی جماعت سے ضرور ہے، لیکن انہوں نے ہمیشہ اپنے قائدین کو پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگاتے دیکھا ہے۔
انہوں نے شہید بینظیر بھٹو کی جلاوطنی کے بعد وطن واپسی اور اسی سرزمین پر اپنی جان قربان کرنے کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ پیپلز پارٹی نے اصولوں کی سیاست کی اور اصولوں کے لیے قربانیاں دیں۔
سحر کامران نے کہاکہ پیپلز پارٹی کے نزدیک آج بھی پاکستان اولین ترجیح ہے اور وہ دعا کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ملک کو سلامت رکھے۔
آزاد کشمیر کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے سحر کامران نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ انتہائی اہم ہے اور پاکستان پیپلز پارٹی کی سیاسی جدوجہد میں بھی کشمیر کو بنیادی حیثیت حاصل رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر میں جس انداز سے انتخابات کرائے گئے، اس پر پیپلز پارٹی کو شدید تحفظات ہیں۔
انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی سمجھتی ہے کہ آزاد کشمیر کے انتخابات شفاف نہیں تھے بلکہ انتخابات کو مینج کیا گیا۔ ’انتخابی عمل میں ایک ایسا نظام مسلط یا منسلک کیا گیا جس کے نتائج پر بھی پارٹی کو تشویش ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی اس معاملے پر پیپلز پارٹی کا مؤقف واضح طور پر عوام کے سامنے رکھا ہے۔
مزید پڑھیں: نئے صوبوں کی مخالفت کرنے والے ذوالفقار علی بھٹو سے اختلاف کررہے ہیں، مصطفیٰ کمال
سحر کامران نے کہا کہ کشمیر جیسے اہم مسئلے پر مختصر مدت کے سیاسی مفادات کے لیے ایسے فیصلے نہیں ہونے چاہییں جو مستقبل میں مزید مسائل پیدا کریں، پاکستان پیپلز پارٹی کشمیر کے معاملے پر اپنے مؤقف اور تحفظات سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔
انہوں نے آزاد کشمیر میں نئی حکومت کے قیام کے بعد کی صورتحال پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ خود حکمران جماعت کے اندر بھی وزیراعظم آزاد کشمیر پر اعتماد کے حوالے سے سوالات موجود ہیں۔











