بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں جگہ جگہ غیر قانونی طور پر قائم کیے گئے منی ایرانی پیٹرول پمپس کی بھرمار ہو گئی ہے۔ ان پیٹرول پمپس پر ذخیرہ کیے جانے والے سینکڑوں لیٹر پیٹرول کسی ٹائم بم سے کم نہیں، جو آئے روز حادثات کا سبب بن رہے ہیں۔
چند روز قبل کوئٹہ کے وسطی علاقے انسکمب روڈ پر واقع ایک پیٹرول پمپ میں اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ خوش قسمتی سے واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم ایسے پیٹرول پمپ بڑے جانی و مالی نقصان کا سبب بن سکتے ہیں۔
وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کوئٹہ کے شہری حسن بٹ نے کہا کہ حکومت بوکھلاہٹ کا شکار نظر آتی ہے۔ ایک طرف کہا جاتا ہے کہ ایرانی پیٹرول کی خرید و فروخت غیر قانونی ہے اور اس پر پابندی عائد ہے، لیکن دوسری جانب شہر کے مختلف علاقوں میں یہ پیٹرول سرعام فروخت اور خریدا جا رہا ہے، جس کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی نظر نہیں آتی۔
یہ بھی پڑھیے کوئٹہ میں ایرانی پیٹرول کی قیمت میں تیزی سے اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟
انہوں نے کہا کہ ایسی صورت حال میں یہ پیٹرول پمپ آئے روز آتشزدگی کا شکار ہوتے ہیں، جس سے معصوم انسانی جانوں کے ضیاع کا خدشہ رہتا ہے۔
دوسری جانب ایک اور شہری دانش مراد نے کہا کہ حال ہی میں اسلام آباد کے پمز اسپتال میں پیش آنے والے واقعے میں کئی انسانی جانیں ضائع ہوئیں، تاہم بلوچستان میں غیر قانونی پیٹرول کی خرید و فروخت ایک عرصے سے شہریوں کی زندگیوں کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ قومی شاہراہوں پر ایرانی پیٹرول چھوٹی موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں کے ذریعے منتقل کیا جاتا ہے، جو حادثات کا سبب بنتا ہے۔ ماضی میں ایسے ہی ایک حادثے میں ایک بیوروکریٹ بھی جان کی بازی ہار چکا ہے، جبکہ آئے روز پیش آنے والے واقعات شہریوں کے لیے پریشانی کا باعث بن رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے کوئٹہ میں ایرانی پیٹرول کی غیر قانونی فروخت پھر شروع، حکومتی پابندی مؤثر کیوں نہ رہی؟
دانش مراد نے مطالبہ کیا کہ حکومت ایرانی پیٹرول کی غیر قانونی خرید و فروخت کے خلاف مؤثر کارروائی کرے اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف مؤثر کارروائی ہونی چاہیے تاکہ شہریوں کی جان و مال محفوظ رہ سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر غیر قانونی ایرانی پیٹرول پمپس اسی طرح چلتے رہے تو مستقبل میں کوئی بڑا حادثہ رونما ہو سکتا ہے۔













