بلوچستان کو نئے صوبوں میں تقسیم کرنے کی تاریخی مثال، ریاست قلات کا حوالہ اہمیت اختیار کرگیا

پیر 7 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان میں نئے صوبوں کی بحث کو اگر تاریخ کے آئینے میں دیکھا جائے تو ریاست قلات ایک اہم مثال کے طور پر سامنے آتی ہے، جو صدیوں تک ایک الگ سیاسی اور انتظامی اکائی کے طور پر موجود رہی۔ قیام پاکستان کے وقت بھی قلات کی اپنی حکمرانی، انتظامی ڈھانچہ اور مقامی ادارے موجود تھے، تاہم بعد ازاں ریاست قلات پاکستان کا حصہ بنی اور 1955 میں ون یونٹ کے قیام کے ساتھ اس کی الگ ریاستی حیثیت ختم ہوگئی۔

ریاست قلات کی تاریخ اور بلوچستان کا انتظامی سوال

ریاست قلات کی تاریخ آج کے بلوچستان کے حوالے سے ایک اہم سوال اٹھاتی ہے کہ کیا اتنے وسیع رقبے کو ایک ہی صوبائی انتظامی مرکز سے مؤثر طریقے سے چلایا جاسکتا ہے؟

بلوچستان پاکستان کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے جو ملک کے تقریباً 44 فیصد رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ صوبے کے کئی علاقے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے سینکڑوں کلومیٹر دور ہیں۔

ایسے جغرافیے میں اگر تعلیم، صحت، سڑکوں، روزگار، آبپاشی اور دیگر ترقیاتی فیصلوں کا بڑا حصہ ایک ہی مرکز میں مرتکز ہو تو دور دراز علاقوں تک ریاستی سہولیات پہنچانا ایک بڑا انتظامی چیلنج بن جاتا ہے۔

ماضی میں مقامی انتظامی مراکز کی اہمیت

ریاست قلات کے دور میں بھی بلوچستان کے مختلف علاقوں کی اپنی جغرافیائی اور معاشی ضروریات تھیں، اسی لیے مقامی سطح پر انتظامی مراکز اور اداروں کی موجودگی اہم تھی۔

قلات میں اسکول، سڑکیں اور دیگر سرکاری ادارے قائم کیے گئے۔ اگرچہ اس دور کی مجموعی ترقی کو آج کے جدید معیار سے مثالی قرار نہیں دیا جاسکتا، تاہم یہ سبق ضرور ملتا ہے کہ اگر بلوچستان کو نئے صوبوں میں تقسیم کیا جائے تو یہ کوئی انہونی بات نہیں ہوگی، کیونکہ یہاں ریاست قلات جیسی چھوٹی انتظامی اکائیوں کی تاریخی مثالیں موجود ہیں۔

نئے صوبوں پر سوال کیوں نہ اٹھایا جائے؟

دنیا کے کئی ممالک نے بھی اپنے وسیع علاقوں کو چھوٹی انتظامی اکائیوں میں تقسیم کرکے حکومت کو شہریوں کے قریب کیا ہے۔ تو پھر بلوچستان کے بارے میں بھی یہ سوال کیوں نہ اٹھایا جائے کہ کیا ایک صوبہ اس پورے خطے کی مختلف ضروریات کو مؤثر انداز میں پورا کرسکتا ہے؟

شاید بلوچستان کے بڑے جغرافیے، دور دراز آبادیوں اور مختلف علاقائی ضروریات کو دیکھتے ہوئے مزید انتظامی اکائیوں یا نئے صوبوں کے قیام پر سنجیدہ بحث کی ضرورت ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پی ٹی آئی کے اسلام آباد مارچ سے قبل علی امین گنڈاپور بیمار پڑ گئے، ڈاکٹروں کا مکمل آرام کا مشورہ

وزیراعظم شہباز شریف کی بارشوں سے متاثرہ علاقوں میں ہر ممکن امداد یقینی بنانے کی ہدایت

خیبر پختونخوا کے 97 ارب روپے کے شہری منصوبے میں 32 ارب کی مبینہ بے ضابطگیاں، نیب تحقیقات تیز

آئندہ ایک ہفتے کے دوران 4 لانگ مارچ :  جڑواں شہروں کی سیکیورٹی سخت، تعلیمی ادارے و مارکٹیں بند رکھنے کا فیصلہ

بھارت میں پاکستان کا خوف برقرار، کٹھوعہ میں ٹرک ڈرائیور مبینہ جاسوسی کے الزام میں گرفتار

ویڈیو

پاکستانی قوم سعودی عرب کے ساتھ کھڑی ہے، شرکا تحفظ حرمین شریفین کانفرنس

’میری بیٹی زندہ اور گھر میں موجود ہے‘، پمز آتشزدگی میں بچ جانے والی نومولود کے والد نے انتقال کی تردید کردی

ہنر سیکھنے کا سفر، بلوچستان کی خواتین مفت بیوٹیشن کورس کے لیے اسلام آباد پہنچ گئیں

کالم / تجزیہ

قاتل لکھاری

سیاست عوام کے لیے کیوں نہیں؟

آپ کا سب سے بڑا مخالف آپ خود ہیں