سندھ میں اسکول جانے کی عمر کے لاکھوں بچوں کے تعلیمی نظام سے باہر ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق صوبے میں 5 سے 16 سال کی عمر کے تقریباً 39 فیصد بچے اسکول نہیں جاتے، جو صوبے کے تعلیمی نظام اور بچوں تک تعلیم کی رسائی سے متعلق ایک بڑا سوال بن کر سامنے آیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اسکول سے باہر بچوں کی شرح اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ سندھ میں تعلیم کے شعبے میں سرکاری سطح پر ہونے والے اخراجات کے باوجود بڑی تعداد میں بچے بنیادی تعلیم سے محروم ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ میں تعلیمی بحران: 6 ہزار 220 مخدوش اسکول، 70 لاکھ بچے اسکول سے باہر، جعلی بھرتیوں کا انکشاف
صورتحال نہ صرف تعلیمی پالیسیوں پر نظرثانی کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے بلکہ موجودہ نظام کی کارکردگی اور اس کے ثمرات پر بھی سوال اٹھاتی ہے۔
ماہرین تعلیم کے مطابق بچوں کے اسکول سے باہر رہنے کی متعدد وجوہات ہوسکتی ہیں، جن میں غربت، والدین کی کم آمدنی، بچوں سے مشقت، اسکولوں کی عدم دستیابی، دور دراز علاقوں میں تعلیمی سہولیات کا فقدان اور لڑکیوں کے لیے مناسب تعلیمی ماحول کی کمی شامل ہیں۔
صوبے کے دیہی اور پسماندہ علاقوں میں یہ مسائل مزید شدت اختیار کر جاتے ہیں، سندھ میں بڑی تعداد میں ایسے بچے بھی موجود ہیں جو کبھی اسکول گئے ہی نہیں، جبکہ کچھ بچے داخلے کے بعد تعلیم کا سلسلہ جاری نہیں رکھ پاتے۔
مزید پڑھیں: سندھ کے عوام کے لیے خوشخبری، وفاقی حکومت نے معاشی اور تعلیمی ترقی کے لیے بڑے فیصلے کرلیے
اسکولوں میں اساتذہ کی کمی، بنیادی سہولیات کا فقدان، عمارتوں کی خراب حالت اور تعلیمی معیار سے متعلق مسائل بھی بچوں کے اسکول سے دور ہونے کی اہم وجوہات میں شمار کیے جاتے ہیں۔
یہ صورتحال اس لیے بھی اہم ہے کہ تعلیم پر سرکاری وسائل خرچ ہونے کے باوجود اگر اسکول جانے کی عمر کے 39 فیصد بچے تعلیمی نظام سے باہر ہیں تو اس سے پالیسیوں کے نفاذ، وسائل کے درست استعمال اور تعلیمی
سہولیات کی مؤثر فراہمی کے حوالے سے کئی سوالات پیدا ہوتے ہیں۔
مزید پڑھیں: سندھ حکومت نے تعلیمی بورڈز میں نمبر سسٹم ختم کر کے گریڈنگ سسٹم نافذ کر دیا
تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسکول سے باہر بچوں کی تعداد کم کرنے کے لیے صرف نئے اسکول تعمیر کرنا کافی نہیں ہوگا بلکہ بچوں کو اسکول میں لانے اور انہیں تعلیم جاری رکھنے کے لیے جامع حکمت عملی درکار ہے۔
اس مقصد کے لیے غریب خاندانوں کی معاونت، اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی، اساتذہ کی دستیابی اور بالخصوص لڑکیوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ دینا ضروری ہے۔
ماہرین کے مطابق حکومت کو اسکول سے باہر بچوں کی ضلعی اور تحصیل کی سطح پر نشاندہی کرکے ان کے لیے مخصوص داخلہ مہم اور معاون پروگرام شروع کرنے چاہییں۔
مزید پڑھیں: ’کتاب اور گلاب چرانے کو کبھی چوری نہیں سمجھا‘، وزیر تعلیم سندھ کا دلچسپ انکشاف
ساتھ ہی اسکول چھوڑنے والے بچوں کی وجوہات کا جائزہ لے کر ایسے اقدامات کیے جائیں جن سے بچوں کو دوبارہ تعلیمی نظام کا حصہ بنایا جاسکے۔
سندھ میں 5 سے 16 سال کی عمر کے 39 فیصد بچوں کا اسکول سے باہر ہونا محض ایک تعلیمی اعداد و شمار نہیں بلکہ صوبے کے مستقبل سے جڑا ایک اہم مسئلہ ہے۔
سوال یہ ہے کہ تعلیم پر خطیر رقم خرچ ہونے کے باوجود اتنی بڑی تعداد میں بچے اسکول سے باہر کیوں ہیں، اور اس صورتحال کو بدلنے کے لیے ذمہ دار ادارے کب مؤثر اور قابلِ پیمائش اقدامات کریں گے؟














