بیوروکریسی میں انقلابی اصلاحات کی منظوری، سی ایس ایس امتحان کا طریقہ کار تبدیل، 11 نئے کیڈرز کا قیام

اتوار 20 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

حکومت پاکستان نے وفاقی بیوروکریسی کی کارکردگی میں بہتری، جدید تقاضوں سے ہم آہنگی اور خصوصی صلاحیتوں کے حامل افسران کی فراہمی کے لیے جامع سول سروس اصلاحات کا پیکیج حتمی شکل دے دیا ہے۔ ان اصلاحات کے تحت نوکر شاہی کی بھرتیوں، تربیت، کیریئر کی پیشرفت، کارکردگی کے جائزے اور ادارہ جاتی ساخت میں بنیادی تبدیلیاں لائی جا رہی ہیں۔

اصلاحات کے اس منصوبے کی تفصیلات وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی زیر صدارت منعقدہ ایک مشاورت اجلاس کے دوران پیش کی گئیں۔ اجلاس میں سینیٹر سلیم مانڈوی والا، وفاقی وزیر عبدالعلیم خان، سابق وفاقی وزیر اسد عمر، سینئر پالیسی سازوں اور مختلف شعبوں کے ماہرین نے شرکت کی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اس مقصد کے لیے 2 اعلیٰ سطحی کمیٹیاں قائم کی تھیں، جنہوں نے ستمبر 2024 سے اب تک 18 اجلاس منعقد کیے اور 46 سفارشات میں سے 43 پر مکمل اتفاق رائے حاصل کیا۔

11 نئے کیڈرز اور انتظامی سطحوں میں کمی

مجوزہ اصلاحات کے تحت ایچ آر، قانون، انجینئرنگ، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام، انرجی، کلائمیٹ، زراعت و جنگلات، تعلیم اور صحت کے 11 نئے پروفیشنل کیڈرز قائم کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو ‘ہیومن ریسورس اینڈ آرگنائزیشنل ڈیولپمنٹ ڈویژن’ میں تبدیل کر دیا جائے گا، جبکہ وفاقی سطح پر فیصلے سازی کے مراحل کو 5 سے گھٹا کر 3 کر دیا جائے گا۔

نیشنل ایگزیکٹو سروس (NES) اور اوپن مقابلہ

نئے قائم کردہ ‘نیشنل ایگزیکٹو سروس’ (NES) فریم ورک کے تحت گریڈ 20 اور اس سے اوپر کی تمام اسامیوں پر 5 سالہ معاہدے کے تحت کھلے مقابلے کے ذریعے تعیناتیاں کی جائیں گی۔ ان عہدوں پر سویلین افسران، نجی شعبے کے ماہرین اور تعلیمی ماہرین کو مساوی بنیادوں پر حصہ لینے کا موقع ملے گا اور ان کی کارکردگی کے طے شدہ اہداف کا جائزہ لیا جائے گا۔ تاہم، پولیس سروس اور فارن سروس کو اس این ای ایس ساخت سے استثنیٰ حاصل ہو گا۔

یہ بھی پڑھیے سی پیک فیز 2 میں کون سے 5 نئے کوریڈور شامل ہیں؟ احسن اقبال نے بتا دیا

سیکرٹریٹ میں کارکردگی سے مشروط تنخواہوں کا پائلٹ پروجیکٹ شروع کیا جائے گا اور ریٹائرمنٹ پر ماہانہ کٹوتیوں سے فنڈ شدہ 50 لاکھ روپے کی یک مشت رقم اور رعایتی ہیلتھ انشورنس کا پیکیج دیا جائے گا۔

پاک فوج کے ایچ آر ماڈل کی تقلید

نئی پالیسی میں پاک فوج کے طریقہ کار سے بھی مدد لی گئی ہے۔ سی ایس ایس کے ایک دن کے روایتی انٹرویو (Viva Voce) کے بجائے ‘آئی ایس ایس بی’ (ISSB) کے طرز پر چند دنوں پر مشتمل اہلیت اور صلاحیت پر مبنی جامع جائزہ لیا جائے گا۔

اس ماڈل میں امیدواروں کی نفسیاتی (Psychometric)، جذباتی ذہانت اور قيادت کی صلاحیتوں کی جانچ کی جائے گی تاکہ ’درست کام کے لیے درست شخص‘ کے اصول پر تعیناتی ممکن ہو سکے۔ اس کے علاوہ ترقیوں کا نظام بھی فوج کی طرز پر بورڈز کے ذریعے باقاعدہ معیار پر کیا جائے گا نہ کہ انفرادی پسند و ناپسند کی بنیاد پر۔

سی ایس ایس امتحانات میں اہم تبدیلیاں

اصلاحات کا ایک اہم پہلو متعلقہ شعبے میں تخصیص (Specialisation) کی بنیاد پر بھرتی ہے، جس سے وہ پرانا طریقہ ختم ہو جائے گا جس میں افسران کو ایسے شعبے میں تعینات کر دیا جاتا تھا جس کا انہوں نے کبھی مطالعہ بھی نہ کیا ہو۔

یہ بھی پڑھیے این ایف سی ایوارڈ میں آبادی کا معیار اصلاح طلب ہے، احسن اقبال کی نشاندہی

اگرچہ سی ایس ایس کا بنیادی امتحان ختم نہیں ہوگا، تاہم امیدواروں کو لازمی مضامین—ایسے، پریسس اینڈ کمپوزیشن، اسلامیات، مطالعہ پاکستان اور کرنٹ افیئرز کا امتحان اردو میں دینے کی اجازت ہوگی، جبکہ انگریزی میں بنیادی مہارت کا ابتدائی اسکریننگ ٹیسٹ میں ہی جائزہ لیا جائے گا۔

ابتدائی ٹیسٹ (MPT) کا پاسنگ معیار 33 فیصد سے بڑھا کر 40 فیصد کر دیا گیا ہے، جس میں تجزیاتی صلاحیتوں (Analytical Reasoning) کے سوالات شامل کیے گئے ہیں جبکہ نیگیٹو مارکنگ ختم کر دی گئی ہے۔ تمام تر بھرتیوں کے عمل کو مکمل ڈیجیٹلائز کر کے اس کا دورانیہ 6 ماہ یا اس سے کم کر دیا جائے گا، اور بلوچستان، سندھ، اقلیتوں اور خواتین کے غیر پُر شدہ کوٹے کو بھرنے کے لیے ترجیحی اقدامات کیے جائیں گے۔

کارکردگی کا جائزہ اور عمل درآمد کی مدت

نئے نظام کے تحت ہر وزارت وزیراعظم کے ساتھ سالانہ پرفارمنس معاہدہ کرے گی، اور ملازمین کا سال میں 2 بار جائزہ لیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ملازمین پر ہونے والے کل اخراجات کا 5 فیصد حصہ بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں کے لیے بطورِ اعزازیہ مختص کیا جائے گا۔

نیشنل مینجمنٹ کورس (NMC) کا دورانیہ 18 ہفتوں سے کم کر کے 10 ہفتے کر دیا جائے گا، جبکہ موجودہ قومی اور تربیتی اداروں کو ضم کر کے ایک ‘نیشنل یونیورسٹی آف پبلک ایڈمنسٹریشن’ قائم کی جائے گی۔

ان اصلاحات کے لیے کسی آئینی ترمیم کی ضرورت نہیں ہوگی۔ منظوری کے بعد ایک عمل درآمد کمیٹی ماہانہ بنیادوں پر وزیراعظم کو رپورٹ پیش کرے گی اور اگلے 120 دنوں کے اندر اس پورے اصلاحاتی پیکیج کو مکمل طور پر نافذ کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp