وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی جانب سے نئے صوبوں کے قیام کی حمایت کے بعد کوئٹہ کے شہریوں نے بھی اس تجویز کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان جیسے وسیع رقبے کے صوبے کو ایک ہی انتظامی مرکز سے چلانا مشکل ہے، نئے صوبے یا انتظامی اکائیاں بننے سے عوام کو اپنے مسائل کے حل کے لیے طویل سفر سے نجات مل سکتی ہے۔
مزید پڑھیں:بلوچستان میں آخری دہشتگرد کی موجودگی تک جنگ جاری رہے گی، وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے نئے صوبوں کے قیام کی حمایت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ بلوچستان جیسے وسیع صوبے کو صرف کوئٹہ میں بیٹھ کر مؤثر انداز میں نہیں چلایا جاسکتا اور نئے صوبوں کی تشکیل لسانی کے بجائے انتظامی بنیادوں پر ہونی چاہیے۔
وزیراعلیٰ کے بیان پر کوئٹہ کے شہریوں کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو معمولی سرکاری کاموں کے لیے بھی صوبائی دارالحکومت کا رخ کرنا پڑتا ہے، جس سے وقت اور پیسے دونوں کا ضیاع ہوتا ہے۔
شہریوں کے مطابق اگر گوادر میں کسی شخص کا ایسا سرکاری کام ہو جس کے لیے اسے کوئٹہ آنا پڑے تو طویل سفر، سفری اخراجات اور دیگر مشکلات اس کے لیے اضافی بوجھ بن جاتی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر انتظامی اختیارات مقامی سطح پر منتقل کیے جائیں تو لوگوں کو اپنے علاقوں میں ہی سرکاری سہولیات میسر آسکتی ہیں۔
کوئٹہ کے شہریوں نے کہا کہ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے ایک وسیع صوبہ ہے، اس لیے تمام علاقوں کے مسائل ایک ہی مرکز سے حل کرنے کے بجائے مقامی سطح پر مؤثر انتظامی نظام قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے بقول نئے صوبے یا انتظامی اکائیاں بننے سے سرکاری دفاتر تک رسائی آسان ہوسکتی ہے اور عوام کو اپنے کاموں کے لیے بار بار طویل سفر نہیں کرنا پڑے گا۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں گوادر، تربت، خضدار، سبی اور دیگر دور دراز علاقوں کی ضروریات مختلف ہیں، اس لیے ترقیاتی منصوبوں، صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے مقامی ضروریات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ انتظامی اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی سے مقامی مسائل کی نشاندہی اور ان کے حل میں بھی مدد مل سکتی ہے۔









