مصنوعی ذہانت کی مدد سے پروگرامنگ زبان پی ایچ پی میں سیکیورٹی کی سنگین خامیوں کا پتا چلنے کے بعد دنیا بھر میں سرکاری اداروں اور مختلف تنظیموں نے ممکنہ سائبر حملوں کے خطرے سے نمٹنے کے لیے ویب سائٹس عارضی طور پر بند کرنا شروع کردیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق سائبر سیکیورٹی ماہرین نے مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے پی ایچ پی کے اندر موجود خامیوں کی نشاندہی کی، جن کے ذریعے حملہ آور اہم ویب سرورز کا کنٹرول حاصل کرسکتے ہیں۔ پی ایچ پی انٹرنیٹ پر ویب سائٹس بنانے اور صارفین کو معلومات فراہم کرنے کے لیے استعمال ہونے والی پروگرامنگ زبان ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چیٹ جی پی ٹی سے بچوں کو خطرات، امریکا کی 8 ریاستوں کا اوپن اے آئی کے خلاف مقدمہ
رپورٹ کے مطابق پی ایچ پی پر چلنے والی ویب سائٹس میں موجود سیکیورٹی خامیاں سرکاری اور کاروباری اداروں کے ڈیٹا اور اہم نیٹ ورکس کو خطرے میں ڈال سکتی ہیں۔ ان خامیوں کا تعلق پی ایچ پی کی تنصیبات سے ہے جو ویب درخواستوں کو وصول اور پراسیس کرتی ہیں، جبکہ ان کا سراغ پی ایچ پی کے اس پانچویں ورژن تک ملتا ہے جو پہلی بار 2004 میں متعارف کرایا گیا تھا۔
سیکیورٹی کی ان خامیوں کے سامنے آنے کے بعد دنیا بھر میں پی ایچ پی پر مبنی غیرمحفوظ ویب سائٹس کو نشانہ بنانے کی لاکھوں کوششیں ریکارڈ کی گئی ہیں۔ ان حملوں کا ہدف سرکاری اور نجی شعبے کے اہم نظام اور بنیادی ڈھانچہ بتایا گیا ہے۔
برطانیہ میں اس صورت حال کے باعث بجٹ رسپانسبلٹی کے سرکاری دفتر، آکسفورڈ شائر کاؤنٹی کونسل اور ہلنگڈن کونسل کی ویب سائٹس کو بھی عارضی طور پر بند کرکے نظام کی لازمی اپ ڈیٹ کا عمل شروع کرنا پڑا۔
یہ بھی پڑھیں: سیکیورٹی خدشات، اوپن اے آئی نے نیا اے آئی ماڈل جاری کرنے کا فیصلہ واپس لے لیا
برطانوی ایوانِ بالا میں جمعرات کی صبح بیرونس لائیڈ آف ایفرہ نے بتایا کہ پی ایچ پی کی خامیوں سے متعلق حفاظتی اقدامات کے دوران حکومت کی 32 خدمات دستیاب نہیں رہیں، جبکہ 4 دیگر خدمات کی کارکردگی متاثر ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق مختلف ممالک کی حکومتوں اور اداروں نے بدھ کو ان خامیوں کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد فوری اقدامات شروع کیے۔ حکام کی جانب سے ممکنہ سیکیورٹی نقائص کی نشاندہی اور انہیں دور کرنے کا عمل جاری ہے۔
برطانوی حکومت کے ترجمان نے کہا کہ سرکاری اداروں کو ممکنہ سیکیورٹی خامیوں کا پتا لگانے اور انہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔ ترجمان نے تمام چھوٹے بڑے سرکاری اور نجی اداروں پر زور دیا کہ وہ نیشنل سائبر سیکیورٹی سینٹر کی ہدایات پر عمل کریں، اپنے نظام کو لاحق خطرات کا جائزہ لیں اور انہیں محفوظ بنانے کے لیے ضروری اقدامات کریں۔









