وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع کے لیے 160 ارب روپے کے ترقیاتی پیکج کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت 70 فیصد فنڈز ضم شدہ اضلاع اور 30 فیصد بندوبستی اضلاع میں خرچ کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ ان اضلاع میں پہلے سے جاری ترقیاتی منصوبوں پر بھی کام جاری رکھا جائے گا۔
ایریا ڈیویلپمنٹ سیکریٹریٹ (اے ڈی ایس) اور صوبائی حکومت کے درمیان افسران و اہلکاروں کے تبادلے محکمہ انسانی وسائل و انتظامیہ کے ذریعے ایڈیشنل چیف سیکریٹری یا ایڈمنسٹریٹر کی سفارش اور چیف سیکریٹری کی منظوری سے کیے جائیں گے، جبکہ ان تبادلوں سے متعلقہ افسران و اہلکاروں کی سینیارٹی متاثر نہیں ہوگی۔
محکمہ خزانہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اے ڈی ایس اور متعلقہ محکموں کی مشاورت سے بجٹ، تنخواہوں، انتظامی اخراجات، ترقیاتی فنڈز، رقوم نکلوانے اور تقسیم کرنے کے مجاز افسران سمیت دیگر مالی اختیارات سے متعلق ضروری انتظامات کرے۔
انتظامی منتقلی کے دوران متعلقہ محکمے ریکارڈ، اثاثوں، واجبات اور منظور شدہ اسامیوں کی حوالگی سمیت تمام ضروری معاونت فراہم کریں گے۔ اس دوران متعلقہ ادارے فی الحال اپنے موجودہ دفاتر سے ہی کام جاری رکھیں گے، جبکہ پہلے سے فراہم کردہ سرکاری گاڑیاں اور دیگر سہولیات بھی ان کے زیرِ استعمال رہیں گی۔
ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع کے لیے 160 ارب روپے کے جس ترقیاتی پیکج کا اعلان کیا ہے، اس کے تحت 70 فیصد فنڈز 8 ضم شدہ قبائلی اضلاع جبکہ 30 فیصد فنڈز 4 بندوبستی اضلاع ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں، لکی مروت اور ٹانک میں خرچ کیے جائیں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مختلف محکموں کی جانب سے ان اضلاع میں پہلے سے جاری ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری رکھا جائے گا، تاہم ان منصوبوں کے باقی ماندہ اخراجات ایریا ڈیویلپمنٹ سیکریٹریٹ (اے ڈی ایس) برداشت کرے گا۔
اسی طرح مختلف محکموں میں خالی اسامیوں پر بھرتیوں کا عمل بھی شروع کیا جائے گا تاکہ متعلقہ اضلاع کے مقامی افراد کو روزگار کے مواقع فراہم کیے جاسکیں۔









