بھارتی ریاست اروناچل پردیش کے سرحدی علاقوں میں چین اور بھارت کی افواج کے درمیان حالیہ دنوں میں کئی مقامات پر ٹکراؤ ہوا ہے اور صورتحال اب بھی جاری ہے۔ بھارتی انڈو تبتن بارڈر پولیس کے سربراہ شتروجیت کپور نے سرکاری سطح پر اس صورت حال کا اعتراف کیا ہے۔
بی بی سی کے مطابق شتروجیت کپور نے راجستھان میں فورس کی سالانہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سرحدی علاقوں میں پیدا ہونے والی صورت حال سے نمٹنے کے لیے تعینات ’شوریہ کمانڈوز‘ نے مثالی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے جلد کمانڈوز کی مکمل بٹالین تشکیل دینے کا بھی اعلان کیا۔
Indian Army infantry battalion standing firm during a face-off with China’s PLA in Arunachal Pradesh. 🇮🇳💪 pic.twitter.com/83u4VUqW5O
— The Nalanda Index (@Nalanda_index) October 24, 2026
بھارتی اخبار ’دی ہندو‘ نے سرکاری ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ جولائی میں اروناچل پردیش کے علاقے ماجا میں دونوں ملکوں کے فوجی آمنے سامنے آگئے تھے۔ مختصر کشیدگی کے بعد بھارتی اور چینی فوجی واپس چلے گئے، تاہم چند روز بعد چینی فوجی دوبارہ وہاں پہنچے اور ایسے علاقے میں خیمے نصب کیے جسے بھارت اپنا علاقہ سمجھتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مقامی افراد نے چینی فوج کی سرگرمیوں، مبینہ تعمیرات اور روایتی چراگاہوں تک رسائی میں مشکلات پر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔
دوسری جانب بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس نے وزیراعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قومی سلامتی کے اس اہم معاملے پر عوام کو اصل صورت حال سے آگاہ کریں اور پارلیمنٹ میں وضاحت پیش کریں۔
یہ بھی پڑھیں:پاک بھارت کشیدگی: عالمی سطح پر چینی جنگی ہتھیاروں کی مانگ میں اضافہ
بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے براہ راست حالیہ ٹکراؤ پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا، تاہم کہا کہ سرحدی علاقوں میں امن برقرار رکھنے کے لیے دونوں ممالک سفارتی اور فوجی ذرائع سے رابطے میں ہیں۔
چین اروناچل پردیش کو جنوبی تبت کا حصہ قرار دیتا ہے، جبکہ بھارت اس ریاست پر اپنا حق تسلیم کرتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان یہ علاقہ طویل عرصے سے سرحدی تنازع کا مرکز ہے۔











