اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے شرح سود میں 50 بیسس پوائنٹس یعنی 0.5 فیصد اضافہ کر دیا، جس کے بعد بنیادی شرح سود 11.5 فیصد سے بڑھ کر 12 فیصد ہو گئی ہے۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی نے ستمبر میں ہونے والے گزشتہ اجلاس کے بعد ملکی اور عالمی معاشی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ شرح سود میں اضافے کے فیصلے کے پیچھے کئی بنیادی عوامل کارفرما ہیں، جن میں مہنگائی کے مستقبل کے امکانات کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔
گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے باعث توانائی اور تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ ہوا، جبکہ مقامی منڈی میں ہونے والی پیش رفت اور اس کے نتیجے میں مہنگائی پر پڑنے والے اثرات کو بھی فیصلے میں مدنظر رکھا گیا۔
جمیل احمد نے بتایا کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی کے 10 میں سے 9 ارکان نے شرح سود بڑھانے کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ ایک رکن کی رائے مختلف تھی اور وہ شرح سود میں مزید اضافے کا حامی تھا۔
انہوں نے کہا کہ فیصلے کے دوران صارفین کی توقعات، معاشی پیش گوئی کرنے والے اداروں کی آرا اور دیگر معاشی عوامل کا بھی جائزہ لیا گیا۔
’خصوصاً عالمی منڈی میں اشیا اور تیل کی قیمتوں کے بیرونی کھاتے پر اثرات، ترسیلات زر اور برآمدات کے رجحانات کو بھی پیش نظر رکھا گیا۔‘
جاری کھاتے کی صورتحال اور ترسیلات زر کے تخمینے میں تبدیلی
گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی کے گزشتہ اجلاس کے بعد سے جاری کھاتے کی صورتحال میں کچھ خرابی آئی ہے۔
تاہم انہوں نے کہاکہ مثبت پہلو یہ ہے کہ جاری کھاتے کے خسارے کا حجم اب بھی مجموعی ملکی پیداوار کے صفر سے ایک فیصد کے درمیان ہے اور توقع ہے کہ یہ اسی حد میں رہے گا۔
جمیل احمد نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک نے رواں مالی سال کے دوران ترسیلات زر کا تخمینہ 44 ارب ڈالر سے بڑھا کر 45 ارب ڈالر کر دیا ہے۔
برآمدات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ان میں بہتری کا رجحان دیکھا جا رہا ہے، تاہم یہ بہتری ابھی ملکی معیشت کی ضروریات کے مطابق نہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اسٹیٹ بینک کے اندازے کے مطابق درآمدات کا حجم تقریباً 71 ارب ڈالر رہنے کا امکان ہے۔
معاشی ترقی کی شرح سے متعلق تخمینوں میں تبدیلی
گورنر اسٹیٹ بینک نے معاشی ترقی کے حوالے سے کہا کہ گزشتہ سال شرح نمو کا تخمینہ 3.7 فیصد تھا۔
تاہم ایک اہم تبدیلی یہ سامنے آئی کہ گزشتہ مالی سال کی آخری سہ ماہی کی شرح نمو کے اعداد و شمار پر نظرثانی کی گئی، جس کے بعد یہ شرح 2.9 فیصد سے کم ہو کر 2 فیصد رہ گئی۔
انہوں نے کہا کہ اس کمی کی بنیادی وجہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال تھی۔
مہنگائی کو 5 سے 7 فیصد کی حد میں رکھنے کے لیے شرح سود بڑھانا ضروری قرار
بعد ازاں جاری کیے گئے تفصیلی اعلامیے میں مانیٹری پالیسی کمیٹی نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر توانائی کی بلند قیمتوں کا نوٹس لیا۔
کمیٹی کے مطابق اگرچہ بروقت مانیٹری پالیسی میں ردوبدل اور مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے کے باعث عالمی معاشی جھٹکے کے ملکی معیشت پر اثرات اب تک محدود رہے ہیں، تاہم جغرافیائی و سیاسی پیش رفت کے نتیجے میں مہنگائی کے امکانات پہلے کے اندازوں کے مقابلے میں مزید خراب ہوئے ہیں۔
مانیٹری پالیسی کمیٹی نے واضح کیا کہ مہنگائی سے متعلق توقعات کو قابو میں رکھنے، رسد میں جاری خلل کے بالواسطہ اثرات محدود کرنے اور مہنگائی کو 5 سے 7 فیصد کی مقررہ حد میں لانے کے لیے شرح سود میں اضافہ ضروری تھا۔
اعلامیے کے مطابق اس فیصلے سے مجموعی معاشی استحکام برقرار رکھنے میں بھی مدد ملے گی۔
دوسری جانب ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے اسٹیٹ بینک کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ شرح سود میں اضافہ ان کی توقعات کے مطابق کیا گیا ہے۔
اس سے قبل شرح سود میں کب اضافہ کیا گیا تھا؟
واضح رہے کہ اسٹیٹ بینک نے گزشتہ مانیٹری پالیسی میں شرح سود 11.5 فیصد پر برقرار رکھی تھی۔
اس سے قبل اپریل میں عالمی سطح پر توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور سپلائی چین کو لاحق خطرات کے پیش نظر شرح سود میں 100 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کیا گیا تھا۔ یہ تقریباً 3 سال کے دوران شرح سود میں پہلا اضافہ تھا۔
اسٹیٹ بینک نے جون 2023 میں شرح سود 22 فیصد کی ریکارڈ سطح تک پہنچنے کے بعد، مہنگائی میں نمایاں کمی کے تناظر میں 2024 کے وسط سے مجموعی طور پر شرح سود میں 1050 بیسس پوائنٹس کی کمی کی تھی۔
تاہم عالمی توانائی کی قیمتوں میں حالیہ اضافے اور مہنگائی کے بڑھتے ہوئے خدشات کے باعث مرکزی بینک نے ایک مرتبہ پھر شرح سود میں اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔











