پاکستانی فیشن ڈیزائنر ماریہ بی نے طلاق کے بعد بچوں کو یتیم خانوں میں چھوڑ کر دوسری شادی کرنے والی خواتین اور بچوں کی ذمہ داری قبول نہ کرنے والے مردوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ والدین اور خاندان کے دیگر افراد کی موجودگی کے باوجود بچوں کا یتیم خانوں میں پرورش پانا تشویش ناک ہے۔
ماریہ بی نے انسٹاگرام پر ایک ویڈیو شیئر کی جس میں یتیم خانوں میں رہنے والے بچوں کے انٹرویوز شامل تھے۔ ویڈیو میں کئی بچوں نے بتایا کہ والدین کی طلاق کے بعد ان کی ماؤں نے دوسری شادی کرلی اور انہیں یتیم خانوں میں چھوڑ دیا، جس کے بعد نہ مان اور نہ باپ نے ان کی خبر گیری کی۔
یہ بھی پڑھیں: ’آپ ایجنڈے پر کام کرتے ہیں‘، ماریہ بی کی عورت مارچ پر تنقید
ماریہ بی نے اس معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ بعض خواتین کی طلاق کے بعد دوسری شادی کے وقت خاندان کی جانب سے یہ شرط رکھی جاتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو ساتھ نہیں رکھ سکتیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایسے حالات میں بچوں کی ذمہ داری کون اٹھائے گا، جبکہ ان کے والد، نانا، ماموں اور چچا بھی انہیں اپنے ساتھ رکھنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔
View this post on Instagram
انہوں نے کہا کہ بچوں کی کفالت مردوں کی بنیادی ذمہ داری ہے، لیکن جب خاندان اپنے بچوں کو قبول نہیں کرتے تو انہیں یتیم خانوں میں چھوڑ دیا جاتا ہے، جہاں وہ استحصال اور جنسی زیادتی سمیت مختلف خطرات سے دوچار ہوسکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں مبینہ اخلاق باختہ جنسی پارٹی پر ماریہ بی کا ردعمل
ماریہ بی کا کہنا تھا کہ ایسے بچے جن کے والدین اور خاندان زندہ ہوں، انہیں یتیم خانوں میں چھوڑ دینا افسوس ناک ہے، جبکہ بعد میں ان کی خیریت معلوم کرنے والا بھی کوئی نہیں ہوتا۔ انہوں نے پاکستانی خاندانوں پر زور دیا کہ وہ بچوں کے معاملے میں اللہ سے ڈریں اور ان کی ذمہ داری سے غفلت نہ برتیں۔
فیشن ڈیزائنر نے یہ بھی کہا کہ وہ سمجھتی ہیں کہ اکیلی ماں کے لیے زندگی گزارنا آسان نہیں ہوتا، تاہم خواتین کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونے اور مالی طور پر خود مختار بننے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق خواتین کو اللہ پر بھروسا کرتے ہوئے محنت کرنی چاہیے اور اپنے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے چاہییں۔
یہ بھی پڑھیں: ڈاکٹر عفان قیصر نے ماریہ بی سے معافی کیوں مانگی؟
ماریہ بی نے ان مردوں اور ان کے خاندانوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جو بچوں کی ذمہ داری قبول نہیں کرتے۔ ان کا کہنا تھا کہ بچے مستقبل میں اپنی ماؤں کا سہارا بن سکتے ہیں، جبکہ وہ مرد اور خاندان مشکل وقت میں ان کے کام نہیں آتے جنہوں نے بچوں کو قبول کرنے سے انکار کیا ہوتا ہے۔
ماریہ بی کی اس ویڈیو پر سوشل میڈیا صارفین نے بھی ردعمل دیا اور بچوں کے حقوق اور ان کی پرورش کی ذمہ داری سے متعلق آگاہی اجاگر کرنے پر ان کی حمایت کی۔ بعض طلاق یافتہ خواتین نے تبصروں میں بتایا کہ انہوں نے اپنے بچوں کی خاطر دوسری شادی نہیں کی۔











