وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ترکمانستان کے چیف امام اور سابق مفتی اعظم یالکپ ہوجاگلیوو نے اپنے وفد کے ہمراہ وزارت مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وفاقی سیکریٹری مذہبی امور ابرار احمد مرزا سے ملاقات کی۔
26 اکتوبر کو ہونے والی ملاقات میں پاکستان اور ترکمانستان کے درمیان مذہبی تعلیم، قرآنی علوم اور دینی شعبوں میں باہمی تعاون کے فروغ سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس موقع پر ترکمانستان میں اسلامی تعلیمات کے فروغ کے لیے پاکستان کے تجربات سے استفادہ کرنے اور دوطرفہ اشتراک کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا گیا۔
ترکمانستان کے چیف امام کے ہمراہ پاکستان میں ترکمانستان کے سفیر عطاجان مولاموف اور فرسٹ سیکریٹری بیرام یازوو بھی وفد میں شامل تھے، جبکہ وزارت مذہبی امور کے شعبہ دعوت و زیارات کے جوائنٹ سیکریٹری شہباز مصطفیٰ اور ڈپٹی سیکریٹری ڈاکٹر شاہد الرحمان مارتھ بھی ملاقات میں موجود تھے۔
وفاقی سیکریٹری مذہبی امور ابرار احمد مرزا نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ترکمانستان پہلے ہی ثقافتی اور اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کے لیے کام کر رہے ہیں، جبکہ مذہبی تعلیم کے شعبے میں باہمی اشتراک دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عصری تعلیمی اداروں میں یونیورسٹی کی سطح تک دینی اور قرآنی علوم کی تعلیم دی جا رہی ہے، جبکہ پاکستانی علما اور مذہبی اسکالرز دنیا کے ممتاز تعلیمی و تحقیقی اداروں میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
ابرار احمد مرزا کا کہنا تھا کہ پاکستان کو دینی تعلیم، قرآنی علوم اور مذہبی تحقیق کے شعبوں میں وسیع تجربہ حاصل ہے، جس سے ترکمانستان میں مذہبی علوم کے فروغ کے لیے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی اور مذہبی تعاون کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، جن سے باہمی روابط کو مزید فروغ ملے گا۔
اس موقع پر ترکمانستان کے چیف امام اور سابق مفتی اعظم یالکپ ہوجاگلیوو نے کہا کہ ان کے دورہ پاکستان کا بنیادی مقصد یہاں رائج دینی تعلیم کے نظام، نصاب اور تدریسی طریقہ کار سے متعلق معلومات حاصل کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ترکمانستان بنیادی اسلامی عقائد، فقہ اور تفسیر کی تعلیم کے فروغ کے لیے پاکستان کے تجربات اور مہارت سے فائدہ اٹھانے کا خواہاں ہے۔
چیف امام نے بتایا کہ ترکمانستان کے نئے شہر میں 30 ہزار نمازیوں کی گنجائش رکھنے والی ’ارکاداگ روحی مسجد‘ کی تعمیر جاری ہے۔ مسجد کے ساتھ دینی تعلیم کے لیے ایک مدرسہ بھی قائم کیا جائے گا، جہاں اسلامی تعلیمات کے فروغ اور دینی علوم کی تدریس کا اہتمام ہوگا۔
ملاقات میں اس بات پر زور دیا گیا کہ مذہبی تعلیم کے شعبے میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مزید منظم اور مؤثر بنایا جائے تاکہ دینی علوم، تدریسی تجربات اور علمی روابط کے تبادلے کے ذریعے دوطرفہ تعلقات کو نئی جہت دی جا سکے۔











