سینیٹ نے اسلام آباد میں کتابوں پر ہر قسم کے پلاسٹک کورز کے استعمال پر مکمل پابندی سے متعلق قانون میں ترمیم کا بل متفقہ طور پر منظور کرلیا۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمان نے پلاسٹک بک کورز پر پابندی کے قانون میں ترمیمی بل ایوان میں پیش کیا، جسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔
اس موقع پر شیری رحمان نے کہا کہ اسلام آباد کی بعض بڑی دکانوں پر اب بھی کتابوں پر پلاسٹک کورز استعمال کیے جا رہے ہیں، جبکہ اس معاملے پر وزارت داخلہ کے ساتھ اجلاس بھی ہو چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب دکانوں کی چیکنگ کی جاتی ہے تو دکاندار ہر قسم کے پلاسٹک کو بائیو ڈیگریڈیبل، یعنی قدرتی طور پر گل سڑ کر ختم ہونے والا پلاسٹک قرار دیتے ہیں۔
شیری رحمان کے مطابق ترمیم کا بنیادی مقصد کتابوں پر پلاسٹک کورز کے استعمال سے متعلق قانون میں موجود ابہام کو دور کرنا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وزارت داخلہ کے مطابق ملک میں بائیو ڈیگریڈیبل پلاسٹک کی جانچ کے لیے نہ تو کوئی لیبارٹری موجود ہے اور نہ ہی اس کی تصدیق کا کوئی پیمانہ دستیاب ہے۔
سینیٹر شیری رحمان نے واضح کیا کہ نئی ترمیم کے تحت اسلام آباد میں کتابوں پر ہر قسم کے پلاسٹک کورز کے استعمال پر مکمل پابندی ہوگی اور اس سلسلے میں کسی شخص یا ادارے کو کوئی استثنیٰ حاصل نہیں ہوگا۔











