وفاقی آئینی عدالت نے اٹک سے پاکستان تحریک انصاف کے سابق رکن قومی اسمبلی میجر (ر) طاہر صادق کا نام سفری پابندیوں کی فہرستوں سے نکالنے کے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف وفاقی حکومت کی درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کردی، جس کے بعد ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رہا اور طاہر صادق کو بیرون ملک جانے کی اجازت دینے کا حکم بھی برقرار ہے۔
جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں جسٹس روزی خان بڑیچ اور جسٹس سید ارشد حسین شاہ پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ وفاقی حکومت نے سیکریٹری داخلہ کے توسط سے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:جی ایچ کیو حملہ کیس: شاہ محمود، وزیراعلیٰ گنڈاپور، شبلی فراز سمیت 14 ملزمان پر فرد جرم عائد
سماعت کے دوران وفاق کی جانب سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل بیرسٹر سردار عمر اسلم خان پیش ہوئے، جبکہ میجر (ر) طاہر صادق کی جانب سے وکیل راجہ عبدالقدیر عدالت میں پیش ہوئے۔
سماعت کے دوران جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ وفاق کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے سے کیا شکایت ہے؟ اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ ہائیکورٹ نے مصطفیٰ امپیکس کیس کے فیصلے کی روشنی میں درخواست منظور کرنے کی وجوہات بیان نہیں کیں۔
جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ ایک ہی کیس میں بار بار نام شامل کیے جارہے ہیں، حالانکہ اسلام آباد ہائیکورٹ اس عمل سے منع کرچکی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا مدعاعلیہ کا نام دوبارہ ای سی ایل میں ڈالنا ہے؟ کل کو ڈال دیجیے گا۔
یہ بھی پڑھیں: 9 مئی جی ایچ کیو حملہ کیس میں عمر ایوب، زرتاج گل، مراد سعید سمیت 47 ملزمان کو 10، 10 سال قید کی سزا
جسٹس عامر فاروق نے مزید ریمارکس دیے کہ عدالت نے اس کیس میں نام شامل کرنے سے منع کیا ہے، کسی دوسرے کیس میں نہیں۔
عدالت نے 9 مئی 2023 کے جی ایچ کیو حملہ کیس میں میجر (ر) طاہر صادق کا نام ای سی ایل، پروویژنل کنٹرول لسٹ (پی سی ایل) اور پاسپورٹ کنٹرول لسٹ (پی این آئی سی ایل) سے نکالنے کے اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم کو برقرار رکھتے ہوئے وفاقی حکومت کی درخواست خارج کردی۔











