سوئٹزرلینڈ، شہریوں کی اکثریت نے جعلی خبروں کو بڑا سماجی مسئلہ قرار دے دیا

پیر 26 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سوئٹزرلینڈ کی کل آبادی کے نصف سے زیادہ افراد نے جعلی خبروں اور گمراہ کن معلومات کو بڑا سماجی مسئلہ قرار دیا ہے، جبکہ بیشتر شرکا نے کہا کہ انہیں سماجی رابطوں کی ویب سائٹس اور دیگر آن لائن پلیٹ فارمز پر اکثر غلط معلومات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

سوئس اِنفو کے مطابق یہ نتائج یونیورسٹی آف زیورخ کے ریسرچ سینٹر فار دی پبلک اسفیئر اینڈ سوسائٹی کی جانب سے جاری کردہ 2026 کے میڈیا کوالٹی سالنامے میں شائع کیے گئے ہیں۔ تحقیق کے مطابق 56.5 فیصد شرکا جعلی خبروں کو بڑا سماجی مسئلہ سمجھتے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ شرح 5 سال پہلے کے مقابلے میں نمایاں طور پر بڑھ گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جعلی خبریں پھیلانے کا الزام، ایلون مسک دھر لیے گئے

تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ نصف سے زائد افراد کو باقاعدگی سے گمراہ کن معلومات کا سامنا ہوتا ہے۔ ان معلومات کے پھیلاؤ میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹس، ویڈیوز شیئر کرنے والے پلیٹ فارمز اور مصنوعی ذہانت پر مبنی چیٹ بوٹس اہم ذرائع ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 42 فیصد افراد کو خبروں سے محروم رہنے والے گروہ میں شامل کیا گیا۔ اس سے مراد ایسے افراد ہیں جو حالات حاضرہ سے متعلق خبریں شاذونادر ہی دیکھتے ہیں یا سماجی رابطوں کی ویب سائٹس سے ادھوری معلومات حاصل کرتے ہیں۔ تحقیق میں کہا گیا کہ اس طرزِ عمل کے باعث ایسے افراد سازشی نظریات سے زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: جعلی خبریں پھیلانے پر 80 ہزار موبائل فون سمز بلاک

محققین کے مطابق صرف ٹک ٹاک اور انسٹاگرام جیسے پلیٹ فارمز پر انحصار کرنے والے افراد کو سازشی نظریات سے اتنا ہی خطرہ لاحق ہوسکتا ہے جتنا ان لوگوں کو جو خبروں سے بالکل دور رہتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خبروں کے مستند ذرائع سے دوری یا صرف محدود آن لائن ذرائع پر انحصار گمراہ کن معلومات سے تحفظ کی ضمانت نہیں۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ 2025 کے دوران مجموعی طور پر خبروں کا معیار مستحکم رہا، تاہم ذرائع ابلاغ کے تنوع میں کمی دیکھی گئی۔ قومی سیاست سے متعلق 44.7 فیصد خبریں جرمن زبان کے متعدد اشاعتی اداروں میں شائع ہوئیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان پر قبضے سے متعلق جھوٹ، بھارتی نیوز چیلنز جعلی خبروں پر معافی مانگنے لگے

رپورٹ کے مطابق 57.7 فیصد شرکا نے عوامی نشریاتی اداروں کو اہم یا انتہائی اہم قرار دیا۔ دوسری جانب ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز نے سالانہ اشتہاری آمدن کی مد میں 2.5 ارب سوئس فرانک، یعنی تقریباً 3 ارب ڈالر تک حاصل کیے، جبکہ سوئٹزرلینڈ کے مقامی ذرائع ابلاغ کی آمدن کم ہو کر 1.94 ارب سوئس فرانک، یعنی تقریباً 2.3 ارب ڈالر رہ گئی۔

محققین نے جعلی خبروں اور گمراہ کن معلومات کے اثرات سے نمٹنے کے لیے مختلف اقدامات تجویز کیے، جن میں نوجوان بالغ افراد کو ذرائع ابلاغ کے استعمال کے لیے مالی معاونت فراہم کرنے کی غرض سے خصوصی واؤچرز متعارف کرانے کی تجویز بھی شامل ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار کا ٹیکس دہندگان کی شکایت کے بروقت ازالے کا حکم

کشمیر ڈے پر واک، اسلام آباد پولیس نے ٹریفک کے لیے متبادل پلان جاری کردیا

عالمی منڈی میں غیریقینی صورت حال کے باعث مہنگائی کا دباؤ بڑھا، شرح سود میں اضافہ ناگزیر تھا، گورنر اسٹیٹ بینک

پی ٹی آئی رہنماؤں کی سیاست اور سرگرمیاں دہشتگردی کے خلاف آپریشن میں رکاوٹ تھیں، رانا ثنااللہ

حکومت نے 27 اکتوبر کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کردیا

ویڈیو

پشاور میں زیر زمین پانی کی سطح خطرناک حد تک کم، 2050 تک شدید بحران کا خدشہ

نوشہرو فیروز: نامکمل قومی شاہراہ 3 برسوں سے سندھ حکومت کی توجہ کی طالب، مایوس شہری نئے انتظامی یونٹس کے منتظر

4 جی تو ٹھیک چلتا نہیں، 5 جی کیسے چلے گا؟ انٹرنیٹ کی رفتار پر اسلام آباد کے شہری کیا کہتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف : رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے

درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں

یورپ کی جین زی اتنے غصے میں کیوں ہے؟