سینئر وکیل اور پاکستان بار کونسل کے رکن احسن بھون نے مسلم لیگ ن کے رہنما کیپٹن (ر) محمد صفدر کے خلاف 5 ارب روپے ہرجانے کے لیے پنجاب ڈیفیمیشن ٹربیونل سے رجوع کرلیا۔ ٹربیونل نے دعویٰ قابل سماعت قرار دیتے ہوئے کیپٹن (ر) صفدر کو 11 نومبر کے لیے نوٹس جاری کردیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: احسن بھون کے خلاف مہم سستے سیاسی حربے کے سوا کچھ نہیں، اعظم نذیر تارڑ کا کیپٹن صفدر کو معاملے سے دور رہنے کا مشورہ
احسن بھون کی جانب سے دائر دعوے میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ کیپٹن (ر) محمد صفدر نے ان کی تعلیمی اسناد اور وکالت کی اہلیت کے حوالے سے ہتک آمیز بیانات دیے، جن سے ان کی پیشہ ورانہ ساکھ اور قانونی خدمات متاثر ہوئیں۔
دعویٰ میں واضح کیا گیا ہے کہ احسن بھون نے قانون کی ڈگری پنجاب یونیورسٹی سے حاصل کی، جس کی متعلقہ اداروں سے تصدیق بھی ہوچکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیپٹن صفدر نے سپریم کورٹ سے کیوں رجوع کیا؟
درخواست گزار نے ٹربیونل سے استدعا کی ہے کہ کیپٹن (ر) صفدر کو متنازع بیانات واپس لینے، غیر مشروط معافی مانگنے اور مستقبل میں ایسے بیانات دینے سے روکنے کا حکم دیا جائے۔
احسن بھون نے ہرجانے کی مد میں ایک ارب روپے عمومی، 2 ارب روپے خصوصی اور 2 ارب روپے تعزیری ہرجانہ ادا کرنے کی استدعا بھی کی ہے۔











