بیج، خودمختاری اور مستقبل: کیا ہم غذائی غلام بن رہے ہیں؟

منگل 27 اکتوبر 2026
author image

ندیا اطہر

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اگرچہ زراعت میرا شعبہ اور مضمون نہیں ہے، لیکن حالیہ دنوں میں زرعی پالیسی، جدید بیجوں اور غیر ملکی تعاون سے متعلق سامنے آنے والی متضاد خبروں نے مجھے اس موضوع پر تحقیق کرنے پر مجبور کیا۔ مختلف معلومات کا جائزہ لینے کے بعد محسوس ہوا کہ اس معاملے کو محض افواہوں یا خدشات کی بنیاد پر دیکھنے کے بجائے ریاست کی زرعی پالیسی، دستیاب حقائق اور مستقبل میں غذائی خودمختاری کے تناظر میں سمجھنا ضروری ہے۔

پاکستان ایک زرعی ملک ہے۔ ہماری معیشت، کسانوں کا روزگار اور کروڑوں لوگوں کی خوراک زراعت سے جڑی ہے۔ ہم نے ایٹمی ٹیکنالوجی میں اپنی صلاحیت منوائی، مگر سوال یہ ہے کہ ہم معیاری اور سستے بیجوں کے معاملے میں خودکفیل کیوں نہیں ہو سکے؟

بتاتی چلوں کہ پاکستان کی کل ضرورت کا صرف 37 فیصد مصدقہ بیج دستیاب ہے، باقی بڑا حصہ غیر مصدقہ بیج پر مشتمل ہے جبکہ ہزاروں ٹن بیج ہر سال درآمد بھی کیا جاتا ہے۔

آج پاکستان چین سمیت دوسرے ممالک کے ساتھ ہائبرڈ بیجوں، جدید زرعی ٹیکنالوجی اور جینیاتی تحقیق میں تعاون کررہا ہے۔ یہ تعاون بذاتِ خود غلط نہیں۔ جدید تحقیق سے فصلوں کی پیداوار بڑھ سکتی ہے، بیماریوں کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے اور کسان کی آمدنی بہتر ہو سکتی ہے۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ اس تعاون سے پاکستان کی اپنی سائنسی صلاحیت بڑھے گی یا ہم رفتہ رفتہ چند غیر ملکی کمپنیوں کے محتاج ہوتے جائیں گے؟

اس بات پر مزید آگے بڑھنے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ ہائبرڈ بیج اور جی ایم او بیج کیا ہیں اور ان میں کیا فرق ہے؟

ہائبرڈ دو بہترین نسلوں کا قدرتی سنگم ہے جبکہ جی ایم او لیبارٹری میں جین کی تبدیلی ہے۔ دنیا میں اس ٹیکنالوجی پر امریکا سب سے آگے ہے اور پاکستان میں سی ای ایم بی لاہور اور نِب جی ای فیصل آباد جیسے ادارے چین کے تعاون سے اس پر کام کر رہے ہیں، جبکہ بعض بڑے عالمی ادارے اس کی فنڈنگ میں کلیدی کردار ادا کررہے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی سے پیداوار اور بیماریوں کے خلاف قوت تو بڑھتی ہے، مگر اس کے ساتھ بیج پر ملٹی نیشنل کمپنیوں کے پیٹنٹ اور ہر سال نیا مہنگا بیج خریدنے کی مجبوری جیسے تحفظات بھی جڑے ہیں، لہٰذا اصل سوال جی ایم او کی سائنسی افادیت کا نہیں بلکہ یہ ہے کہ اس بیج کا کنٹرول کس کے ہاتھ میں ہے؟

اگر کسان کو ہر فصل کے لیے مہنگا بیج خریدنا پڑے اور مقامی متبادل موجود نہ ہو تو ظاہر ہے اس کی پیداواری لاگت بڑھ سکتی ہے۔

جیسا کہ اوپر لکھا ہے کہ پاکستان میں زرعی تحقیق کے ادارے موجود ہیں، نئی بیج پالیسیوں پر کام ہو رہا ہے اور مقامی طور پر بہتر اقسام تیار کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ مگر تحقیق کو لیبارٹری سے نکال کر کسان کے کھیت تک پہنچانا، معیاری بیج سستے داموں فراہم کرنا اور مقامی کمپنیوں کو مضبوط بنانا ابھی بڑا چیلنج ہے۔

پاکستان کو چین یا کسی دوسرے ملک سے تعاون ضرور کرنا چاہیے، مگر اہم یہ ہونا چاہیے کہ معاہدے اپنے کسان کے تحفظ اور ضرورت کو دیکھتے ہوئے کیے جائیں۔

اصل کامیابی یہ نہیں کہ پاکستان دوسرے ملکوں سے جدید بیج خرید سکے، اصل کامیابی یہ ہے کہ پاکستان خود ایسے بیج تیار کرنے کے قابل ہو جو سستے، معیاری، زیادہ پیداوار دینے والے اور ہماری آب و ہوا کے مطابق ہوں۔

میں سمجھتی ہوں کہ اگر پاکستان ایٹمی صلاحیت حاصل کر سکتا ہے، جدید میزائل بنا سکتا ہے تو زرعی ملک ہونے کے ناطے اپنے کسان کو مقامی مصدقہ بیج بھی مہیا کر سکتا ہے لیکن اس کے لیے بھی انہی بنیادوں پر کام کرنا ہو گا جس جذبے سے ایٹمی صلاحیت حاصل کی گئی۔

پاکستان کو محض ٹیکنالوجی کا خریدار نہیں، اس کا خالق بھی بننا ہوگا۔ کیونکہ غذائی تحفظ صرف زیادہ فصل اگانے کا نام نہیں، بلکہ اپنے کسان کو تحفظ دینے اور یہ یقین دینے کا نام بھی ہے کہ فصل تیار ہونے پر وہ اپنی لاگت اور محنت کا صحیح معاوضہ حاصل کرے گا۔ غذائی تحفظ یہ بھی ہے کہ ہمیں اپنے بیج اور اپنے مستقبل پر مکمل اختیار ہو۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے سے رکشہ ڈرائیوروں کی آمدن آدھی رہ گئی

ایل پی جی کی درآمد مسابقتی بنیادوں پر کھولنے کا فیصلہ کرلیا، چند افراد کا گٹھ جوڑ توڑ دیں گے، عطااللہ تارڑ

شاہ چارلس کی وراثت سے شہزادہ ہیری کو محروم کیے جانے کا خدشہ بڑھ گیا

پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں سے متعلق آج پھر اچھی خبر ملے گی، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے خوشخبری سنا دی

بی وائی ڈی سی لائن ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں کی مقامی پیداوار اگلے ماہ سے شروع ہوجائے گی، حبکو

ویڈیو

عمران خان سے وکیل کی ملاقات، خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی پر کیا ردعمل ظاہر کیا؟

مولانا فضل الرحمان نے شہدا کی توہین کی، ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، بہرامند تنگی

ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ، پشاور میں فی کلو قیمت 650 روپے تک پہنچ گئی

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا