وہ شوہر تو بن جاتا ہے، شریکِ حیات نہیں:

جمعہ 30 اکتوبر 2026
author image

ندیا اطہر

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

حمزہ اور عالیہ کی شادی بڑی دھوم دھام سے ہوئی۔ دونوں کا تعلق متوسط طبقے سے تھا۔ نہ عالیہ کی خواہشات بہت زیادہ تھیں اور نہ حمزہ کی توقعات غیر معمولی۔ محبت اور ایک دوسرے کا ساتھ نبھانے کے وعدوں کے ساتھ نئی زندگی کا خوبصورت آغاز ہوا۔

ایک روز حمزہ کے دوستوں نے دونوں کو کھانے پر مدعو کیا۔ دورانِ گفتگو ایک دوست نے عالیہ سے کہا، ’’بھابھی! پہلے تو حمزہ رات گئے تک ہماری محفل میں بیٹھا رہتا تھا، اب اسے گھر جانے کی جلدی ہوتی ہے۔ یقیناً آپ نے ہی پابندیاں لگا دی ہوں گی۔ اب ہماری کہاں سنتا ہے!‘‘ عالیہ نے مسکراتے ہوئے بات ٹال دی، لیکن واپسی پر حمزہ سے کہا کہ شادی کے بعد زندگی میں کچھ تبدیلی تو آتی ہی ہے۔

کچھ دن بعد ایک رشتہ دار کے گھر ڈنر پر گئے تو وہاں ایک خاتون نے حمزہ سے کہا، ’’یہ تو میری بیٹیوں کے لیے بڑے بھائی جیسا ہے لیکن اب اس کے پاس ان کے لیے وقت ہی نہیں۔ ارے بھئی! بیوی تو ایک چھوڑو، دس مل جاتی ہیں، لیکن خون کے رشتے دوبارہ نہیں ملتے۔‘‘ عالیہ کو یہ بات بہت بری لگی۔ گھر آ کر اس نے حمزہ سے کہا کہ کیا وہ اپنے داماد سے بھی یہی کہیں گی؟

رفتہ رفتہ حمزہ کی روٹین بدلنے لگی۔ کبھی دوستوں کی محفلیں، کبھی رشتہ داروں کے ہاں بیٹھک اور کبھی رات گئے گھر واپسی۔ عالیہ انتظار کرتی اور شکایت کرتی تو حمزہ کو لگتا کہ وہ اسے اپنے دوستوں اور رشتہ داروں سے دور کرنا چاہتی ہے۔ ہر اختلاف میں اس کا ایک ہی جواب ہوتا، ’’تم تو چاہتی ہو کہ میں اپنے بہن بھائیوں اور رشتہ داروں سے ملنا جلنا ہی چھوڑ دوں۔‘‘ حالانکہ عالیہ کی شکایت صرف یہ تھی کہ اسے اس کے حصے کا وقت ملے، وہ حمزہ کو اس کے رشتوں سے دور نہیں کرنا چاہتی تھی، بلکہ اپنی ازدواجی زندگی میں توازن چاہتی تھی۔

یہ صرف حمزہ اور عالیہ کی کہانی نہیں۔ ہمارے معاشرے میں ایسی بے شمار کہانیاں ہیں۔ یہاں شادی کے بعد مرد کو بار بار یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ وہ بدل گیا ہے، بیوی کے زیرِ اثر آ گیا ہے یا اب پہلے جیسا آزاد نہیں رہا۔ دوستوں کے جملے ہوں یا بہن بھائیوں اور رشتہ داروں کے طعنے، اکثر ان کا مفہوم یہی ہوتا ہے کہ بیوی کو اہمیت دینا، اس کی رائے ماننا یا اس کے ساتھ وقت گزارنا مرد کی آزادی اور مردانگی کے خلاف ہے۔ حتیٰ کہ یہ جملہ بھی عام ہے کہ “ہر شریف مرد اپنی بیوی سے ڈرتا ہے۔”
مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب مرد ان باتوں کو مذاق سمجھ کر نظرانداز کرنے کے بجائے اپنی مردانگی کا امتحان سمجھ لیتا ہے۔ وہ دوسروں کے سامنے یہ ثابت کرنے لگتا ہے کہ اس کی زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ کبھی بیوی کی جائز بات رد کرتا ہے، کبھی اس کی رائے کو اہمیت نہیں دیتا اور کبھی محفل میں اسے جھڑک کر اپنی خودمختاری کا ثبوت دینے لگتا ہے۔

بعض مرد اپنی بیوی سے تنہائی میں تو اختلاف نہیں رکھتے، لیکن دوسروں کے سامنے اس سے اتفاق کرتے ہوئے جھجکتے ہیں۔ انہیں خدشہ ہوتا ہے کہ کہیں دوست یا رشتہ دار انہیں بیوی کے زیرِ اثر ہونے کا طعنہ نہ دینے لگیں۔ یوں وہ اپنے گھر کے فیصلوں میں بھی دوسروں کی رائے کو غیر ضروری اہمیت دینے لگتے ہیں۔

اس رویے کا نقصان بالآخر بیوی کو اٹھانا پڑتا ہے۔ وہ محسوس کرنے لگتی ہے کہ شوہر تنہائی میں اس کی بات سمجھتا ہے، مگر دوسروں کے سامنے اسے اہمیت دینے سے گریز کرتا ہے۔ دونوں کے درمیان اعتماد کم ہوتا ہے، شکایات بڑھتی ہیں اور محبت کی جگہ بدگمانیاں لینے لگتی ہیں۔

ایک اور رویہ بھی ہمارے معاشرے میں بہت عام ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ جب بیوی شوہر سے وقت اور توجہ مانگتی ہے تو جواب ملتا ہے، ’’کیا تمہیں کما کر نہیں دیتا؟ تمہارے لیے ہی تو کماتا ہوں۔‘‘ گویا گھر کا خرچ اٹھانا ایسا احسان ہے جس کے بعد بیوی کو وقت اور رفاقت کی خواہش نہیں رکھنی چاہیے۔ حالانکہ مالی کفالت اور جذباتی رفاقت دو الگ ذمہ داریاں ہیں۔ اگر گھر چلانے کے لیے پیسہ چاہیے تو گھر کو گھر بنانے کے لیے وقت، عزت اور شراکت ضروری ہے۔ بیوی کو کما کر دینا شوہر کی ذمہ داری ہے، لیکن اسے وقت دینا، اس کی بات سننا، اس کی رائے کا احترام کرنا اور زندگی میں شریک رکھنا بھی ازدواجی رشتے کا حصہ ہے۔
یقیناً شادی کے بعد مرد سے یہ توقع نہیں ہونی چاہیے کہ وہ اپنے والدین، بہن بھائیوں اور دوستوں کو چھوڑ دے۔ بیوی کو بھی شوہر کے دوسرے رشتوں کا احترام کرنا چاہیے۔ لیکن رشتوں کا احترام کرنے کا مطلب اپنے شریکِ حیات کو نظرانداز کرنا نہیں۔ شادی کے بعد زندگی میں ترجیحات کا توازن پیدا کرنا دونوں کی ذمہ داری ہے۔

شاید یہ ہمارے معاشرے کا ایک بنیادی مسئلہ ہے کہ مرد شوہر تو بن جاتا ہے، لیکن شریکِ حیات بننے کا مفہوم نہیں سمجھ پاتا اور اپنے ساتھ ساتھ اس کا سکون اور خوشیاں بھی تباہ کر دیتا ہے جس کے ساتھ زندگی کا سفر طے کرنا ہوتا ہے۔

آخر کیا وجہ ہے کہ ایک مرد کے لیے بیوی کی ہر ضرورت پوری کرنا تو قابلِ قبول ہے، لیکن اس کی رائے ماننا، اسے وقت دینا اور دوسروں کے سامنے اس کے ساتھ اپنی رفاقت کا اظہار کرنا مردانگی کے خلاف سمجھا جاتا ہے؟ کیا مسئلہ واقعی بیوی ہے یا ہمارے معاشرے میں مردانگی کا تصور ہی غلط
بنیادوں پر استوار ہے؟

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے سے رکشہ ڈرائیوروں کی آمدن آدھی رہ گئی

ایل پی جی کی درآمد مسابقتی بنیادوں پر کھولنے کا فیصلہ کرلیا، چند افراد کا گٹھ جوڑ توڑ دیں گے، عطااللہ تارڑ

شاہ چارلس کی وراثت سے شہزادہ ہیری کو محروم کیے جانے کا خدشہ بڑھ گیا

پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں سے متعلق آج پھر اچھی خبر ملے گی، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے خوشخبری سنا دی

بی وائی ڈی سی لائن ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں کی مقامی پیداوار اگلے ماہ سے شروع ہوجائے گی، حبکو

ویڈیو

عمران خان سے وکیل کی ملاقات، خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی پر کیا ردعمل ظاہر کیا؟

مولانا فضل الرحمان نے شہدا کی توہین کی، ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، بہرامند تنگی

ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ، پشاور میں فی کلو قیمت 650 روپے تک پہنچ گئی

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا