آن لائن کھیلوں اور سوشل میڈیا پر بچوں کے لیے خطرناک جال، گروہ کیسے کام کرتے ہیں؟

منگل 3 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

انٹرنیٹ اور آن لائن کھیل بچوں کے لیے سیکھنے، تفریح اور دوست بنانے کا ذریعہ ہیں لیکن اسی ڈیجیٹل دنیا میں بعض ایسے خطرناک گروہ بھی سرگرم ہیں جو معصوم بچوں کو اپنے جال میں پھنساتے ہیں۔ یہ گروہ پہلے بچوں سے دوستی کرتے انہیں جذباتی طور پر اپنے قریب لاتے اور پھر آہستہ آہستہ بلیک میلنگ، تشدد اور خود کو نقصان پہنچانے جیسے خطرناک کاموں پر مجبور کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بچوں کے جنسی استحصال پر مبنی لاکھوں صارفین والا آن لائن پلیٹ فارم کیسے بند کروایا گیا؟

ان گروہوں کا طریقہ واردات اس قدر منظم اور خوفناک ہو سکتا ہے کہ بچے طویل عرصے تک ان کے دباؤ اور دھمکیوں سے باہر نہیں نکل پاتے۔ بعض صورتوں میں انہیں اپنے جسم کو زخمی کرنے، اپنی قابل اعتراض تصاویر بھیجنے حتیٰ کہ اپنے بہن بھائیوں یا پالتو جانوروں کو نقصان پہنچانے کے لیے بھی اکسایا جاتا ہے۔

برطانیہ میں بچوں کو نشانہ بنانے والے ایسے ہی آن لائن گروہوں کے خلاف پولیس اور بین الاقوامی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ اسکاٹ لینڈ کی پولیس بھی ان گروہوں کے خلاف بین الاقوامی تحقیقات میں شامل ہو گئی ہے۔

یہ گروہ خود کو کسی باقاعدہ تنظیم کے طور پر ظاہر نہیں کرتے بلکہ مختلف آن لائن حلقوں اور نیٹ ورکس کی صورت میں کام کرتے ہیں۔ انہیں مجموعی طور پر ’دی کام‘ کہا جاتا ہے۔ ان کا خاص نشانہ لڑکیاں ہوتی ہیں جنہیں بالخصوص آن لائن کھیلوں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے تلاش کیا جاتا ہے۔

ان گروہوں میں زیادہ تر نوعمر اور نوجوان مرد شامل ہوتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں بچوں کو جنسی استحصال، بلیک میلنگ، ہیکنگ اور خود کو نقصان پہنچانے پر اکسانے کے واقعات کے باعث یہ نیٹ ورکس زیادہ نمایاں ہوئے ہیں۔

اسکاٹ لینڈ میں اب تک اس سلسلے میں ایک گرفتاری عمل میں آ چکی ہے جب کہ انگلینڈ میں بھی ایسے جرائم کے متعدد ملزمان کو سزائیں سنائی جا چکی ہیں۔

مزید پڑھیے: آن لائن دوستیاں: نجی پیغامات کے ذریعے بچوں کو کیسے پھنسایا جاتا ہے؟ برطانیہ میں تحقیق شروع

بچوں اور نوجوانوں کی خودکشی کی روک تھام کے لیے کام کرنے والے ادارے ’مولی روز فاؤنڈیشن‘ نے ان گروہوں کو انٹرنیٹ پر بچوں کے لیے سنگین ترین خطرات میں سے ایک قرار دیا ہے۔

بچوں کو کیسے اپنے جال میں پھنسایا جاتا ہے؟

اسکاٹ لینڈ پولیس کے انٹرنیٹ تحقیقات کے شعبے میں کام کرنے والے ایک تفتیشی افسر جن کا اصل نام ظاہر نہیں کیا گیا نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں بچوں کے ساتھ بدسلوکی اور خود کو نقصان پہنچانے سے متعلق بڑی تعداد میں تصاویر موصول ہو رہی ہیں۔

یہ مواد امریکا کے نیشنل سینٹر فار مسنگ اینڈ ایکسپلائٹڈ چلڈرن کی جانب سے مشتبہ قرار دیے جانے کے بعد برطانیہ کے نیشنل کرائم ایجنسی اور پھر اسکاٹ لینڈ پولیس تک پہنچا تھا۔

تفتیشی افسر کے مطابق ایک کیس میں تقریباً ایک ہزار تصاویر کا جائزہ لینا پڑ رہا ہے تاکہ متاثرہ بچے اور اس جرم میں ملوث شخص کی شناخت کی جا سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ انہیں بدقسمتی سے خود کو زخمی کرنے سے متعلق بہت سی تصاویر مل رہی ہیں اور ہر تصویر کا الگ سے جائزہ لینا ضروری ہوتا ہے۔

پولیس کے مطابق زیر تفتیش کیس کا تعلق ’دی کام‘ کے ایک گروہ سے ہے جو معروف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو استعمال کرتے ہوئے لڑکیوں کو نفسیاتی دباؤ، بلیک میلنگ اور دھمکیوں کے ذریعے اپنے مطالبات ماننے پر مجبور کرتا ہے۔

بعض اوقات ان گروہوں کے ارکان اپنے ساتھیوں میں شہرت اور اثر و رسوخ حاصل کرنے کے لیے متاثرہ بچوں کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں: بچوں کے جنسی استحصال کا عالمی نیٹ ورک، بھارتی سرغنہ کو 20 سال قید

تفتیشی افسر کے مطابق ایسے واقعات میں عموماً 11 سے 17 سال کی عمر کی کم عمر اور نفسیاتی طور پر کمزور لڑکیاں نشانہ بنتی ہیں۔ تحقیقات کے دوران یہ بھی سامنے آتا ہے کہ ملزمان متاثرین کی دیگر کمزوریوں اور مسائل سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

ان گروہوں کے بعض ارکان خود کو زیادہ خوفناک اور طاقتور ظاہر کرنے کے لیے شیطانی علامات اور پراسرار نقش و نگار بھی استعمال کرتے ہیں۔

تاہم پولیس کے مطابق ان کا اصل مقصد کسی مذہبی یا شیطانی عقیدے کی پیروی کرنا نہیں بلکہ متاثرہ فرد پر زیادہ سے زیادہ کنٹرول حاصل کرنا اور اسے شدید نقصان پہنچانا ہوتا ہے۔

’دی کام‘ کیا ہے اور اس کے ارکان کون ہیں؟

’دی کام‘ دراصل ’دی کمیونٹی‘ کا مختصر نام ہے۔ یہ مختلف آن لائن گروہوں کا ایک ڈھیلا ڈھالا نیٹ ورک ہے جس کے ارکان بچوں اور دیگر کمزور افراد کو نشانہ بنانے کے علاوہ مالی جرائم اور انتہا پسندی میں بھی ملوث پائے گئے ہیں۔

حالیہ عدالتی مقدمات میں ’دی 764‘ اور ’سی وی ایل ٹی‘ جیسے گروہوں کے نام سامنے آئے ہیں تاہم ان گروہوں کی رکنیت اور سرگرمیوں کی نوعیت وقت کے ساتھ تبدیل ہوتی رہتی ہے۔

برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی نے رواں سال مئی میں بتایا تھا کہ وہ ان نیٹ ورکس سے منسلک تقریباً 200 کیسز کی تحقیقات کر رہی ہے جب کہ کئی ملزمان کو سزائیں بھی سنائی جا چکی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: میٹا کی جانب سے بھارت میں بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق سینکڑوں اشتہارات کی اشاعت کا انکشاف

اگست میں 20 سالہ جسٹن سوڈل کو دو سال قید کی سزا سنائی گئی۔ اس پر 100 سے زائد متاثرین کو بلیک میل کرنے اور خود کو نقصان پہنچانے پر مجبور کرنے کا الزام ثابت ہوا تھا۔ ان میں بعض متاثرین کو اپنے جسم پر اس کا آن لائن نام لکھنے پر بھی مجبور کیا گیا تھا۔

اسکاٹ لینڈ میں ان گروہوں کے خلاف کارروائیوں کی نگرانی کرنے والے پولیس افسر کریگ فالڈز نے ان جرائم کو آن لائن بچوں کے استحصال اور جنسی زیادتی کی بدلتی ہوئی شکل قرار دیا۔

ان کے مطابق ملزمان اکثر عام اور بظاہر بے ضرر آن لائن کھیلوں کے پلیٹ فارمز پر بچوں سے رابطہ کرتے ہیں جہاں سے بات چیت سوشل میڈیا، پیغام رسانی کی ایپس اور مختلف آن لائن فورمز تک پہنچ جاتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پولیس کو ایسے کیسز ملے ہیں جن میں ملزمان کم عمر اور کمزور بچوں، بالخصوص لڑکیوں کو نشانہ بناتے ہیں اور انہیں نفسیاتی طور پر قابو میں کرکے قابل اعتراض تصاویر بھیجنے یا خود کو شدید نقصان پہنچانے پر مجبور کرتے ہیں۔

ان کے مطابق اسکاٹ لینڈ میں متاثرین اور ملزمان دونوں کی شناخت کی جا چکی ہے اور پولیس اب اس خطرے کی وسعت اور پھیلاؤ کا جائزہ لے رہی ہے۔

ملزمان خود کون ہوتے ہیں؟

برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی کی تھریٹ لیڈرشپ ٹیم سے وابستہ ہیزل اسٹیورٹ کے مطابق ان گروہوں کے واقعات تعداد میں شاید زیادہ نہ ہوں لیکن ان سے ہونے والا نقصان انتہائی سنگین ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں: امریکا میں اسرائیلی سائبر سیکیورٹی عہدیدار بچوں کے جنسی استحصال کے الزام میں گرفتار

ان کا کہنا تھا کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد اکثر خود بھی کم عمر لڑکے ہوتے ہیں جو سماجی تنہائی یا دوسروں کی جانب سے تضحیک اور ہراسانی کا سامنا کر چکے ہوتے ہیں۔

وہ انٹرنیٹ پر اپنی ایک نئی شناخت بناتے ہیں جہاں انہیں اپنی مرضی کا کردار اختیار کرنے کا موقع ملتا ہے۔ اس کے بعد وہ ایسے بچوں اور نوجوانوں کو تلاش کرتے ہیں جو پہلے ہی کسی جذباتی یا نفسیاتی مشکل کا شکار ہوں۔

ہیزل اسٹیورٹ کے مطابق ملزمان بعض اوقات خودکشی کے خیالات، ذہنی دباؤ یا کھانے پینے سے متعلق مسائل پر گفتگو کرنے والی ویب سائٹس اور آن لائن فورمز پر ایسے بچوں کو تلاش کرتے ہیں پھر انہیں زیادہ نجی رابطوں کی طرف لے جاتے ہیں۔

وہ ابتدا میں متاثرین کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ان کی بات سنتے اور خود کو ان کا خیرخواہ ظاہر کرتے ہیں تاکہ ان کا اعتماد حاصل کر سکیں۔

لیکن اعتماد قائم ہونے کے بعد ان کا رویہ تبدیل ہونے لگتا ہے اور وہ بچوں کو نقصان دہ سرگرمیوں میں ملوث کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

مزید پڑھیے: انسانی اسمگلنگ کا شکار بچوں کو جنسی استحصال و گھریلو غلامی کا سامنا

ہیزل اسٹیورٹ کے مطابق بعض اوقات اس کا آغاز خود کو معمولی زخمی کرنے یا کسی پالتو جانور یا بہن بھائی کو نقصان پہنچانے جیسے مطالبات سے ہوتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ مطالبات مزید سنگین ہوتے جاتے ہیں اور متاثرہ بچہ نفسیاتی دباؤ اور مسلسل بلیک میلنگ کے باعث خود کو اس صورت حال سے نکالنے کے قابل نہیں رہتا۔

ان کے مطابق یہ ایک عالمی مسئلہ ہے اور برطانیہ اس خطرے سے نمٹنے کے لیے امریکا، آسٹریلیا، کینیڈا اور نیوزی لینڈ سمیت مختلف ممالک کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ انٹرپول اور یوروپول بھی اس سلسلے میں تعاون کر رہے ہیں۔

بچوں کا آن لائن تحفظ سب سے بڑا چیلنج

مولی روز فاؤنڈیشن کے چیف ایگزیکٹو اینڈی بروز نے خبردار کیا ہے کہ ایسے آن لائن گروہ بچوں کے تحفظ کے لیے ایک انتہائی سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ بچوں کو آن لائن نقصان پہنچانے والے گروہوں کی سرگرمیاں اب صرف سوشل میڈیا تک محدود نہیں رہیں بلکہ آن لائن کھیلوں، خفیہ پیغام رسانی کی ایپس اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر بھی پھیل رہی ہیں۔

انہوں نے برطانیہ کے آن لائن سیفٹی ریگولیٹر ’آف کام‘ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسے پہلے ہی ان خطرات سے آگاہ کیا گیا تھا، لیکن ان کے خلاف مؤثر اقدامات میں تاخیر ہوئی۔

ان کے مطابق یہ صورت حال برطانیہ کے آن لائن سیفٹی ایکٹ میں موجود خامیوں کو بھی ظاہر کرتی ہے۔

دوسری جانب آف کام کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان گروہوں سے پیدا ہونے والے خطرات ادارے کے لیے خاص تشویش کا باعث ہیں اور وہ پولیس اور بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر ان کا مقابلہ کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد: بچوں کے استحصال اور آن لائن گرومنگ میں ملوث 4 رکنی گینگ گرفتار

ترجمان کے مطابق اگر کوئی آن لائن سروس بچوں کے تحفظ سے متعلق اپنی قانونی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہی تو ادارہ اس کے خلاف کارروائی کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے سے رکشہ ڈرائیوروں کی آمدن آدھی رہ گئی

ایل پی جی کی درآمد مسابقتی بنیادوں پر کھولنے کا فیصلہ کرلیا، چند افراد کا گٹھ جوڑ توڑ دیں گے، عطااللہ تارڑ

شاہ چارلس کی وراثت سے شہزادہ ہیری کو محروم کیے جانے کا خدشہ بڑھ گیا

پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں سے متعلق آج پھر اچھی خبر ملے گی، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے خوشخبری سنا دی

بی وائی ڈی سی لائن ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں کی مقامی پیداوار اگلے ماہ سے شروع ہوجائے گی، حبکو

ویڈیو

عمران خان سے وکیل کی ملاقات، خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی پر کیا ردعمل ظاہر کیا؟

مولانا فضل الرحمان نے شہدا کی توہین کی، ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، بہرامند تنگی

ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ، پشاور میں فی کلو قیمت 650 روپے تک پہنچ گئی

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا