دنیا میں اگر اس وقت سب سے زیادہ ذہنی دباؤ والے ممالک کو ترتیب سے دیکھا جائے تو پہلے نمبر پہ چین اس کے بعد بھارت، امریکہ، روس، برازیل، انڈونیشیا، پاکستان، بنگلہ دیش، نائجیریا اور دسواں نمبر جرمنی کا ہے۔ انسان کی ذہنی صحت میں خرابی پیدا کرنے والے عوامل میں ڈپریشن، انزائٹی سب سے زیادہ اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق، دنیا میں اس وقت تین سو ملین افراد ذہنی دباؤ اور ڈپریشن کا شکار ہیں. سالانہ خودکشی کرنے والے افراد کی تعداد آٹھ لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، جس کی بنیادی وجہ ذہنی تناؤ ہے. ترقی یافتہ ممالک میں اس سب کے سدباب کے لیے کافی کام ہو رہا ہے.
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی رپورٹ کے مطابق ، خودکشی کرنے والے افراد کی عمر زیادہ تر 15 سے 29 سال کے درمیان ہوتی ہے. اس عمر کے افراد چوںکہ زندگی میں مختلف معاشی سٹیجز سے گزر رہے ہوتے ہیں اس لیے خودکشی کی شرح اس ایج گروپ میں زیادہ ہوتی ہے ۔
ڈپریشن سے متاثر ہونے والے طبقے کا تعلق زیادہ تر پسماندہ طبقات سے ہوتا ہے. عورتوں کی بھاری تعداد ڈپریشن انزائٹی کا شکار ہے، مگر ان کے مقابلے میں مردوں کی تعداد کئی گنا زیادہ ہے. پاکستان میں بیس ملین افراد اس وقت ڈپریشن کا شکار ہیں. اس کی بڑی وجہ بڑھتی آبادی اور غربت ہے. ملک کی ساٹھ فیصد آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے، جن کے لیے اپنی بنیادی ضروریات زندگی پورا کرنا مشکل ہو چکا ہے ۔
خواتین میں ذہنی دباؤ کی وجہ سے دل کے امراض اور اس کی وجہ سے اموات کی شرح میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے. پاکستان میں سب سے زیادہ خودکشیوں کا رحجان جنوبی پنجاب، راولپنڈی، لاڑکانہ، کراچی اور پشاور میں ہے. کے پی کے میں خواتین میں ذہنی تناؤ کی وجہ سے خودکشی کرنے کی تعداد کافی زیادہ ہے. ہمارے ملک میں خودکشیاں کرنے والوں کا ایج گروپ بیس سے چالیس کی عمر والے افراد کا ہے، جس کا گراف آنے والے وقت میں بڑھتا دیکھائی دیتا ہے جو کہ ایک خطرناک علامت ہے۔
پاکستان میں کاؤنسلنگ کے انتظامات اور کاؤنسلنگ سنٹر نہ ہونے کے برابر ہیں. ذہنی صحت کو یہاں اہمیت دینے کا رواج نہیں. تھیراپسٹ کے پاس جانا جیسے گناہ ہو یا پاگل سمجھے جانے کا اندیشہ ہو. ضرورت اس امر کی ہے کہ، ذہنی دباؤ کی شروعات میں ہی اس کے سدباب کا انتظام کیا جائے. بچپن سے ہی بچوں پہ بے جا بوجھ نہ ڈالا جائے کیوں کہ ہر بچے کی ذہنی استعداد مختلف ہوتی ہے۔
عورتوں میں بھی زندگی کے بارے میں آگہی کی ضرورت کو اجاگر کیا جائے. ہمارے ہاں عورتوں کو ویسے ہی برابر کا انسان نہیں سمجھا جاتا ہے. ان کو تعلیم دے کر خود مختار بنائیں. حکومت کو بھی چاہیے کہ مغربی ممالک کی طرح یہاں کاؤنسلنگ سنٹر قائم کرے اور لوگوں میں آگاہی پھیلائی جائے کہ کاؤنسلنگ کروانا کوئی معیوب بات نہیں ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔














