جھلستا سماج

اتوار 23 جولائی 2023
author image

آمنہ سویرا

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

گذشتہ 20 سال کے دوران پاکستان میں خواتین پہ تیزاب گردی کے ہزاروں واقعات رپورٹ ہوئے، مگر ریکارڈ میں ان کا اندراج محض 500 کے قریب ہے۔ یہاں حساب نسواں میں ریاضی کے اصول بھی بدل جاتے ہیں۔ ملک خدا داد ہمیشہ سے ہی ” گردیوں” کی لپیٹ میں رہا ہے۔ کبھی دہشت گردی تو کبھی غنڈا گردی یہاں معمول کی باتیں ہیں۔

پاکستان میں تیزاب گردی کے سب سے زیادہ واقعات پنجاب میں پیش آتے ہیں۔ ان میں سے بھی متاثرین کی اکثریت عورتوں اور بچوں کی ہوتی ہے۔ خواتین کے ساتھ زیادہ تر واقعات گھریلو تنازعات کے باعث پیش آتے ہیں۔ جن میں سسرالی رشتے دار ہی صف اول میں نظر آتے ہیں۔

دیگر وجوہات میں شادی کی پیش کش مسترد کرنا، شوہر سے جھگڑا، جائیداد کے تنازعات وغیرہ شامل ہیں۔

حالیہ دنوں میں نو عمر لڑکوں میں بھی تیزاب گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے کیوں کہ وطن عزیز کے کچھ اضلاع میں لڑکوں سے “تعلقات” رکھنا قابل فخر سمجھا جاتا ہے. انکار یا بے وفائی کی صورت میں قتل کیے جانے تک کی نوبت آ جاتی ہے۔

اگرچہ قانون سازوں کا دعویٰ ہے کہ تیزاب کی خریداری کا ایک قانونی پروسیس ہوتا ہے مگر یہ دعویٰ باقی دعوؤں کی طرح بس کاغذات کی حد تک ہی محدود ہے۔ جب کہ مارکیٹ میں تیزاب با آسانی دستیاب ہے۔ تیزاب گردی کے کیسز میں سزا کا تناسب 40 فیصد سے بھی کم ہے اور واقعات میں اضافے کی شرح کو دیکھتے ہوئے قانون سازوں کو خواتین اور بچوں کو تحفظ دینے کے اقدامات کو مزید بہتر بنانے کی کوشش کرنا ہو گی۔

تیزاب گردی کے کیسز میں ملوث اکثر ملزمان قانون موجود ہونے کے باوجود بھی بغیر کسی خاص دقت کے رہا ہو جاتے ہیں اور قانون کو منہ چڑا رہے ہوتے ہیں۔ حکومت اگر سنجیدہ اقدامات کرتی تو اب تک ان واقعات پر کافی حد تک قابو پایا جا چکا ہوتا۔ مگر جہاں معاشرہ بے حس ہو چکا ہو وہاں قوانین بس کاغذات میں ہی دفن رہ جاتے ہیں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آمنہ سویرا ایک کارپوریٹ بینکر اور فری لانس رائٹر ہیں۔ روزمرہ زندگی میں پیش آئے معاشرتی رویوں کے مشاہدے کو انسانیت کی کسوٹی پر پرکھ کر جو سامنے آتا ہے، لکھ ڈالتی ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ریل کی پٹریوں سے جنم لینے والا قصبہ، جہاں کی سیر سیاحوں کا خواب بن گیا

خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان میں برفباری، لینڈ سلائیڈنگ کا الرٹ جاری

امریکی ٹیرف کا دباؤ، بھارت نے لڑکھڑاتی معیشت کو بچانے کے لیے ہاتھ پاؤں مارنا شروع کر دیے

سیول کی کچی آبادی میں ہولناک آتشزدگی، 300 فائر فائٹرز متحرک

ICE کے خلاف احتجاج شدت اختیار کر گیا، ٹرمپ نے فوج تعینات کرنے کی دھمکی دیدی

ویڈیو

‘انڈس اے آئی ویک’ پاکستان میں ڈیجیٹل انقلاب کی طرف ایک قدم

جامعہ اشرفیہ کے انگریزی جریدے کے نابینا مدیر زید صدیقی

بسنت منانے کی خواہش اوورسیز پاکستانیوں کو بھی لاہور کھینچ لائی

کالم / تجزیہ

یہ اظہارِ رائے نہیں، یہ سائبر وار ہے

دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا

’شام ڈھل جائے تو محسنؔ تم بھی گھر جایا کرو‘