بینک ڈپازٹس کے غیر محفوظ ہونے کے انکشاف پر اسٹیٹ بینک کا بیان سامنے آگیا

جمعرات 5 اکتوبر 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ڈپٹی گورنر بینک دولت پاکستان ڈاکٹر عنایت حسین کے سینیٹ کی مجلس قائمہ برائے مالیات اور محاصل کے اجلاس میں دیے گئے بیان کی بنیاد پر ذرائع ابلاغ کے بعض حصوں میں یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ کہ پاکستان کے بینکاری نظام میں 500,000 روپے سے زائد کے بینک ڈپازٹس غیر محفوظ ہیں۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ ایک وضاحتی بیان میں دوٹوک انداز میں کہا گیا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے مضبوط ضوابطی اور نگرانی کے فریم ورک کے ماتحت پاکستان میں قائم مستحکم بینکاری نظام کے باعث ڈپازٹس محفوظ ہیں۔

پاکستان کے بینکاری نظام میں بہ کفایت سرمایہ موجود ہے، یہ بے حد سیال (liquid)اور منافع بخش ہے جس میں خالص غیراداشدہ قرضوں یعنی خراب قرضوں کی سطح کم ہے۔ اس سیکٹر میں کیلنڈر سال 23ء کی پہلی ششماہی میں 284 ارب روپے کی بھرپور منافع آوری درج کی گئی جو کیلنڈر سال 22ء کی پہلی ششماہی سے تقریباً 125 فیصد زیادہ ہے۔

اس بلند آمدنی سے بینکوں کا سرمایہ بھی مضبوط ہوا اور شرح کفایت سرمایہ (Capital Adequacy Ratio) جون 2023ء کے آخر تک بڑھ کر 17.8 فیصد ہوگئی جبکہ جون 2022ء کے آخر میں یہ 16.1 فیصد تھی جو اسٹیٹ بینک کی کم از کم ضروری حد 11.5  فیصد اور بین الاقوامی معیار 10.5 فیصد سے خاصی زیادہ ہے۔ ادائیگی قرض کی صلاحیت (سالوینسی) کے بفرز کی بہتری کی وجہ سے بینکاری شعبے کی شدید دھچکے برداشت کرنے کی اہلیت بھی مزید بہتر ہوگئی ہے۔

بینک دولت پاکستان کے وضاحتی بیان کے مطابق بینکاری نظام کے استحکام کےعلاوہ ڈپازٹ پروٹیکشن کارپوریشن (ڈی پی سی) نے تحفظ میں مزید اضافہ کیا ہے اور ہر ڈپازٹر کو 500,000 روپے تک کا انشورنس کور فراہم کیا ہے۔

مزید پڑھیں

یہ عمل بہترین بین الاقوامی طور طریقوں اور عالمی رجحانات سے ہم آہنگ ہے۔ دنیا بھر میں بینک کی ناکامی کی صورت میں، جس کا امکان کم ہوتا ہے، ڈپازٹرز کی رقوم کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے نگرانی کی اتھارٹیز اور ڈپازٹ کو تحفظ دینے والی ایجنسیوں کی جانب سے ڈپازٹ کا تحفظ حفاظتی نظام کے کلیدی اجزا میں شامل ہے۔

اگر بینک ناکام ہوجائے تو ڈی پی سی کی جانب سے بیمہ کردہ رقم فوری طور پر ڈپازٹرز کو دستیاب ہوتی ہے۔ تاہم جب دشواری کے شکار بینک کا ایک ضابطہ کارانہ عمل کے ذریعے تصفیہ ہوتا ہے تو ڈپازٹس کی بقیہ رقوم بھی نکلوائی جاسکتی ہیں۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق فی الوقت 94فیصد ڈپازٹرز کو 2016ء کے ڈپازٹ پروٹیکشن ایکٹ کے تحت مکمل تحفظ حاصل ہے۔

 واضح رہے گزشتہ روز ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک نے سینیٹ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس کے دوران انکشاف کیا تھا کہ کمرشل بینکوں میں جمع کرائی گئی 5 لاکھ سے زیادہ رقم کو کوئی قانونی تحفظ حاصل نہیں ہے، اگر کوئی کمرشل بینک دیوالیہ یا ناکام ہو جائے تو 5 لاکھ سے زیادہ بیلنس والے اکاؤنٹ ہولڈرز کو رقم نہیں مل سکتی، صرف 5 لاکھ سے کم بیلنس رکھنے والوں کو قانونی تحفظ حاصل ہے اور ایسے صارفین کی تعداد جن کے ڈپازٹس 5 لاکھ سے کم ہیں ان کی شرح 94 فیصد ہے، جبکہ 6 فیصد اکاؤنٹ ہولڈرز کا بینک بیلنس 5 لاکھ سے زیادہ ہے، اگر بینک دیوالیہ ہو جائے یا ناکام ہو جائے تو ڈپازٹ پروٹیکشن کارپوریشن کے ذریعے 5 لاکھ تک کے بیلنس والے اکاؤنٹ ہولڈرز کو ان کی رقم ادا کی جاتی ہے، ڈپازٹس پروٹیکشن کارپوریشن اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا ذیلی ادارہ ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp